سورۂ آلِ عمران کی آیات 152 تا 154 میں ان عوامل کی نشاندہی کی گئی ہے جن کی وجہ سے لوگ میدانِ اُحد میں رسول خدا اور امیرالمؤمنین صلیاللہعلیہماوآلہما کو تنہا چھوڑ کر فرار ہوگئے یوں جنگ کے حالات تبدیل ہوئے اور پیغمبر اکرم اور امیرالمؤمنین صلیاللہعلیہماوآلہما پر شدید ظلم ڈھائے گئے۔ یہ اسباب دراصل امت کے طرزِ عمل کی عکاسی کرتے ہیں۔
ان آیات میں سب سے پہلے کمزوری اور سستی کا ذکر ہوا ہے: إِذَا فَشِلْتُمْ[1]، یعنی ابتدائی فتح حاصل ہونے کے بعد لوگوں میں ہمت اور استقامت میں کمی واقع ہوئی، اس کے ساتھ ساتھ اختلاف اور باہمی نزاع کی طرف اشارہ کیا گیا ہے: وَتَنَازَعْتُمْ فِي الْأَمْرِ[2]، یعنی حکمِ پیغمبر کے بارے میں اختلاف کیا گیا، اسی طرح لوگوں کی نافرمانی کے بارے میں واضح اور آشکار بیان کیا گیا: وَعَصَيْتُم[3]، یعنی ابتدائی فتح کو مشاہدہ کرنے کے باوجود حکم کی خلاف ورزی کی گئی۔
قرآن مزید بیان کرتا ہے کہ دنیا طلبی بھی ایک اہم وجہ تھی: مِنكُم مَّن يُرِيدُ الدُّنْيَا[4]، یعنی بعض افراد نے مالِ غنیمت کو ترجیح دی، جس کے نتیجے میں میدان سے فرار کی کیفیت پیدا ہوئی: إِذْ تُصْعِدُونَ وَلَا تَلْوُونَ عَلَىٰ أَحَدٍ[5]، کہ لوگ پہاڑ کی طرف بھاگے اور کسی کی طرف متوجہ نہ ہوئے اور اسی دوران پیغمبر کی پکار کو نظر انداز کیا گیا: وَالرَّسُولُ يَدْعُوكُمْ[6]، رسول بلاتے رہے مگر جواب نہ دیا گیا ۔
بعد ازاں جاہلانہ گمان پیدا ہوا: يَظُنُّونَ بِاللَّهِ غَيْرَ الْحَقِّ[7]، کہ اللہ کے بارے میں ناحق گمان قائم کیا گیا اور تقدیر کے بارے میں اعتراض کیا گیا: هَل لَّنَا مِنَ الْأَمْرِ مِن شَيْءٍ[8]، اور ذمہ داری سے کنارہ کشی اختیار کر لی گئی ،آخر میں خود پرستی کا ذکر ہوا ہے: أَهَمَّتْهُمْ أَنْفُسُهُمْ[9]، کہ ایک گروہ صرف اپنی جان کی فکر میں رہا۔
یہ تمام عوامل اس مظلومیت کے واضح ثبوت ہیں جو اس موقعے پر پیغمبر اور امیرالمؤمنین علیہماالسلام پر بیتے، اور قرآن نے انھیں امت کے لیے ایک دائمی درس کے طور پر محفوظ کیا ہے۔
[1] ۔ سورہ آلِ عمران، آیت 152
[2] ۔ سورہ آلِ عمران، آیت 152
[3] ۔ سورہ آلِ عمران، آیت 152
[4] ۔ سورہ آلِ عمران، آیت 152
[5] ۔ سورہ آلِ عمران، آیت 153
[6] ۔ سورہ آلِ عمران، آیت 153
[7] ۔ سورہ آلِ عمران، آیت 154
[8] ۔ سورہ آلِ عمران، آیت 154
[9] ۔ سورہ آلِ عمران، آیت 154
