امامِ جعفرِ صادق علیہالسلام نے بیان فرمایا کہ جنگِ اُحد کا سبب یہ تھا کہ جب قریش جنگِ بدر سے مکہ واپس لوٹے تو ان پر ستر افراد کے قتل اور ستر افراد کے اسیر ہونے کا اثر باقی تھا[1]،اس طرح بدر کے نتائج نے اُحد کے معرکے کی بنیاد رکھی۔
اسی معرکے میں رسولِ خدا صلیاللہعلیہوآلہ نے اصحاب کو آمادہ فرمایا اور پرچم امیرالمؤمنین علیہالسلام کے ہاتھ میں دیا[2]،پرچم کا امیرالمؤمنین علیہالسلام کے سپرد کیا جانا میدانِ اُحد میں آپ کے مرکزی کردار کی نشاندہی کرتا ہے۔ اس کے بعد بنی عبد الدار کے علم بردار یکے بعد دیگرے مقابلے میں آئے اور امیرالمؤمنین علیہالسلام نے ان کے نویں علم بردار ارطاة بن شرحبیل کو بھی قتل کیا جس کے نتیجے میں پرچم زمین پر گر گیا۔[3]
جب میدانِ جنگ کا رخ بدل گیا اور اصحاب منتشر ہو گئے تو امیرالمؤمنین علیہالسلام ثابت قدمی کے ساتھ مقابلہ کرتے رہے یہاں تک کہ آپ کے چہرے، سر، سینے، شکم، ہاتھوں اور پاؤں پر نوّے زخم آئے[4]، اسی حالت میں جب آپ کی تلوار ٹوٹ گئی تو آپؑ رسولِ خدا صلیاللہعلیہوآلہ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ مرد ہتھیار کے ساتھ جنگ کرتا ہے جب کہ میری تلوار ٹوٹ گئی ہے، تو رسولِ خدا صلیاللہعلیہوآلہ نے اپنی تلوار ذوالفقار آپ کے حوالے فرمادی۔[5]
اسی موقعے پر آسمان سے یہ ندا سنی گئی: لا سیف الا ذوالفقار ولا فتی الا علی۔[6] اسی طرح روایت میں بیان ہوا کہ اس دن یہ ندا آئی: «نادِ علیاً مظهر العجائب تجده عوناً لک فی النوائب» اور ولایتِ امیرالمؤمنین علیہالسلام کے ذریعے غم و اندوہ کے دور ہونے کا ذکر کیا گیا۔[7]
یہ تمام واقعات جنگِ اُحد میں امیرالمؤمنین علیہالسلام کے مرکزی کردار کو واضح کرتے ہیں۔
[1] ۔ تفسیر القمی، جلد 1، ص 98
[2] ۔ تفسیر القمی، جلد 1، ص 98
[3] ۔ تفسیر القمی، جلد 1، ص 98
[4] ۔ تفسیر القمی، جلد 1، ص 99
[5] ۔ تفسیر القمی، جلد 1، ص 99
[6] ۔ تفسیر القمی، جلد 1، ص 99
[7] ۔ بحار الأنوار، جلد 20، ص 73
