سب سے زیادہ تلاش کیا گیا:

امیرالمؤمنین علیہ‌السلام

ردُّ الشمس؛ امیرالمؤمنین علیہ‌السلام کے لیے سورج کا پلٹایا جانا

امیرالمؤمنین علیہ‌السلام کے فضائل میں ایک نمایاں واقعہ ردُّ الشمس کے عنوان سے ذکر کیا گیا ہے، جس میں سورج کے پلٹائے جانے کا بیان ملتا ہے۔ یہ واقعہ مختلف جگہ پیش آیا اور  متعدد بار نقل ہوا ہے اور مختلف روایات میں اس کی تفصیل بیان کی گئی ہے، جس سے امیرالمؤمنین علیہ‌السلام کے مقام اور منزلت کے انگنت سلسلے کا اظہار ہوتا ہے۔

روایات میں متعدد مقامات کا ذکر ہے جہاں سورج امیرالمؤمنین علیہ‌السلام کے لیے پلٹایا گیا جیسے جناب سلمان کی روایت، جس میں اس واقعے کا ذکر ہے ، یومِ بساط، یومِ خندق، یومِ حنین، یومِ خیبر، یومِ قرقیساء، یومِ براثا، یومِ غاضریہ، یومِ نہروان، یومِ بیعتِ رضوان، یومِ صفین، نجف، بنی مازر، وادیِ عقیق، جنگِ اُحد کے بعد اور مسجدِ فضیخ (مدینہ) یہ وہ مقامات ہیں جہاں امیرالمؤمنین علیہ‌السلام کے لیے سورج پلٹا۔

مسجدِ فضیخ کے بارے میں شیخ کلینی نے الکافی میں روایت نقل کی ہے کہ وہاں سورج دوبارہ لوٹا تھا۔

ان واقعات کے درمیان دو مواقع کو زیادہ شہرت حاصل ہے۔ پہلا واقعہ رسولِ خدا صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ کی حیاتِ طیبہ میں کراع الغمیم کے مقام پر پیش آیا، جو مکہ اور مدینہ کے درمیان ہے اور دوسرا واقعہ رسولِ خدا صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ کے بعد بابل کے مقام پیش آیا، جہاں سورج کے پلٹائے جانے کا بیان ملتا ہے[1]۔

ان روایات میں سورج کے پلٹائے جانے کے مختلف مواقع کو بیان کیا گیا ہے، جو ایک ہی حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ امیرالمؤمنین علیہ‌السلام کے ساتھ ایسے واقعات منسوب ہیں جنھیں اہلِ روایت نے متعدد مقامات پر نقل کیا ہے۔ یہی تسلسل اس امر کو واضح کرتا ہے کہ ردّآ الشمس کا ذکر ایک مستقل عنوان کے طور پر کتب میں محفوظ ہے اور اسے امیرالمؤمنین علیہ‌السلام کے فضائل میں شمار کیا گیا ہے۔

[1] ۔ مناقبِ ابنِ شہر آشوب، ج 5، ص 426

مزید مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے