سب سے زیادہ تلاش کیا گیا:

ردُّ الشمس

ردُّ الشمس — امیرالمؤمنین علیہ‌السلام کی بے مثال فضیلت

پندرہ شوال کا دن اس واقعے سے منسوب ہے جسے معجزۂ ردُّ الشمس کہا جاتا ہے، جو امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ‌السلام کی کرامات میں سے ایک عظیم کرامت ہے۔ عراق کے شہر حِلّہ کے شمال میں ایک زیارت گاہ موجود ہے جسے مشہد الشمس یا مشہد ردّ الشمس کہا جاتا ہے۔ شیعہ عقیدے کے مطابق یہی وہ مقام ہے جہاں حضرت امیرالمؤمنین علیہ‌السلام کے زمانے میں یہ معجزہ وقوع پزیر ہوا۔

اسلامی تاریخ میں اہل بیت علیہم‌السلام سے بہت سے کرامات اور معجزات نقل ہوئے ہیں۔ ان میں سے ایک نمایاں معجزہ یہ ہے کہ امیرالمؤمنین علیہ‌السلام کے لیے سورج واپس لوٹا تاکہ آپ نماز ادا کر سکیں۔ اس معجزے کو ردّ الشمس کہا جاتا ہے۔ یہ واقعہ امیرالمؤمنین علیہ‌السلام کے بلند مرتبے اور خداوند کی طرف سے اپنے اولیا کو عطا کی گئی قدرت کی نشانی ہے۔

یہ حیرت انگیز واقعہ دو مرتبہ پیش آیا:

ایک مرتبہ رسول خدا صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ کے زمانے میں، اور دوسری مرتبہ امیرالمؤمنین علیہ‌السلام کے دورِ خلافت میں۔

حضرت امیرالمؤمنین علیہ‌السلام کے زمانے میں ردُّ الشمس

یہ واقعہ رسول خدا صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ کی شہادت کے بعد اس وقت پیش آیا جب امیرالمؤمنین علیہ‌السلام بابل کے علاقے میں تھے اور جنگِ نہروان سے واپس آتے ہوئے دریائے فرات عبور کرنا چاہتے تھے۔

جنگ نہروان سے واپسی

امام باقر علیہ‌السلام اپنے والد امام سجاد علیہ‌السلام سے اور وہ امام حسین علیہ‌السلام سے روایت کرتے ہیں:

امیرالمؤمنین علیہ‌السلام جب جنگِ نہروان سے واپس آ رہے تھے تو ایک مقام، بُراثا پر رکے اور لوگوں کے ساتھ نمازِ ظہر ادا کی۔ اس کے بعد قافلہ آگے بڑھا اور عصر کے قریب سرزمینِ بابل پہنچا۔

مسلمانوں نے عرض کیا:

اے امیرالمؤمنین! اب نمازِ عصر کا وقت ہے۔

حضرت نے فرمایا:

یہ سرزمین پست اور نحس ہے، اللہ نے اس کے لوگوں کو تین مرتبہ زمین میں دھنسا دیا ہے اور چوتھی مرتبہ کا انتظار ہے۔ کسی نبی یا اس کے وصی کے لیے مناسب نہیں کہ وہ یہاں نماز ادا کرے۔ تم میں سے جو چاہے یہاں نماز پڑھ لے۔

منافقین کہنے لگے:

دیکھو! خود نماز نہیں پڑھتے اور نماز پڑھنے والوں(نہروان والوں)کو قتل کرتے ہیں!

جویریہ بن مسہر کہتے ہیں:

میں نے دل میں کہا: جب تک امام علیہ‌السلام نماز نہیں پڑھیں گے میں بھی نماز نہیں پڑھوں گا، آج میری نمازِ عصر ان کے ذمے ہے۔ میں تقریباً سو سواروں کے ساتھ حضرت کے پیچھے چل پڑا۔

ہم بابل سے نکلے تو سورج غروب ہونے کے قریب تھا۔ تھوڑی ہی دیر میں سورج غروب ہوگیا اور افق سرخ ہوگیا۔

امیرالمؤمنین علیہ‌السلام نے میری طرف دیکھ کر فرمایا:

جویریہ! پانی لاؤ۔

میں پانی لایا۔ امیرالمؤمنین علیہ‌السلام نے وضو کیا اور فرمایا:

جویریہ! اذان دو۔

میں نے عرض کیا:

ابھی نماز مغرب کا وقت نہیں ہوا۔

حضرت نے فرمایا:

عصر کی اذان دو۔

میں نے دل میں کہا: غروب کے بعد نماز عصر کی اذان؟ پھر بھی حکم کی تعمیل کرتے ہوئے اذان دی۔

پھر فرمایا:

اقامت کہو۔

اقامت کے دوران میں نے دیکھا کہ امیرالمؤمنین علیہ‌السلام کے لبوں پر جنبش ہوئی اور وہ آہستہ آہستہ کچھ پڑھ رہے ہیں، ان کی آواز پرندوں کی چہچہاہٹ سی تھی اور میں اسے سمجھ نہیں پایا، اچانک میں نے دیکھا کہ سورج مغرب کی طرف سے آواز کے ساتھ دوبارہ بلند ہوا یہاں تک کہ اس مقام تک پہنچ گیا جہاں نماز عصر کا وقت ہوتا ہے اور وہیں ٹھہر گیا۔

امیرالمؤمنین علیہ‌السلام کھڑے ہوئے، تکبیر کہی اور نماز عصر ادا کی۔ ہم نے بھی ان کے پیچھے نماز پڑھی۔ جب نماز ختم ہوئی تو سورج دوبارہ ڈوب گیا، جیسے پانی کے برتن میں چراغ گر کر بجھ جائے۔ سورج کے غروب ہوتے ہی ستارے ظاہر ہوگئے۔

اس کے بعد حضرت نے فرمایا:

اب نماز مغرب کے لیے اذان دو۔[1]

شیخ صدوق کی روایت

شیخ صدوق جویریہ بن مسہر سے روایت کرتے ہیں:

جنگ نہروان کے بعد جب ہم امیرالمؤمنین علی بن ابی طالب علیہماالسلام کے ساتھ واپس آ رہے تھے تو نماز عصر کے وقت ہم بابل پہنچے۔ حضرت سواری سے اترے اور لوگ بھی اتر گئے۔

حضرت نے فرمایا:

اے لوگو! یہ سرزمین ملعون ہے۔ تاریخ میں اس پر تین مرتبہ عذاب نازل ہو چکا ہے۔ یہ الٹی ہوئی بستیوں میں سے ہے اور یہ پہلا مقام ہے جہاں بت پرستی کی گئی۔ کسی نبی یا اس کے وصی کے لیے مناسب نہیں کہ یہاں نماز پڑھے۔ جو چاہے یہاں نماز پڑھ لے۔

لوگوں نے یہ سن کر نماز پڑھ لی لیکن امیرالمؤمنین، رسول خدا صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ کے خچر پر سوار ہو کر آگے بڑھ گئے۔

جویریہ کہتے ہیں:

میں نے دل میں کہا: خدا کی قسم! میں بھی ان کے پیچھے جاؤں گا اور اپنی نماز آج ان کے سپرد کرتا ہوں۔

میں امیرالمؤمنین علیہ‌السلامکے پیچھے چل پڑا۔ ابھی ہم پل سوراء سے گزر بھی نہ پائے تھے کہ سورج غروب ہوگیا۔ مجھے تردد ہوا۔ اسی وقت حضرت نے فرمایا:

جویریہ! کیا تمھیں شک ہورہا ہے؟

میں نے عرض کیا: جی ہاں، یا امیرالمؤمنین۔

حضرت سواری سے اترے، وضو کیا اور کچھ الفاظ ادا کیے جو عبری زبان سے ملتے جلتے تھے اور میں انھیں نہیں سمجھ سکا۔ پھر فرمایا:

آؤ نماز پڑھیں۔

جویریہ کہتے ہیں:

خدا کی قسم! میں نے دیکھا کہ سورج دو پہاڑوں کے درمیان

سے دوبارہ طلوع ہوا اور اس کی ایک بلند آواز سنائی دی۔ حضرت نے نماز عصر ادا کی اور میں نے بھی ان کے ساتھ نماز پڑھی۔ جب نماز ختم ہوئی تو دوبارہ وہی رات لوٹ آئی جو پہلے تھی۔

پھر حضرت نے فرمایا:

اے جویریہ! اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

فَسَبِّحْ بِاسْمِ رَبِّكَ الْعَظِيمِ

میں نے اپنے رب کو اس کے اسمِ اعظم کے ساتھ پکارا تو اس نے میرے لیے سورج کو واپس لوٹا دیا۔

جویریہ نے اس معجزہ کو دیکھ کر کہا:

خدا کی قسم! یہ واقعی رسولِ خدا صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ کے سچے وصی ہیں۔[2]

سید رضی کی روایت

سید رضی بھی جویریہ بن مسہر سے روایت کرتے ہیں:

عصر کے وقت ہم امیرالمؤمنین علیہ السلام کے ساتھ پل صراہ سے گزر رہے تھے۔ حضرت نے فرمایا:

اس سرزمین پر عذاب نازل ہوا ہے۔ کسی نبی یا اس کے جانشین کے لیے مناسب نہیں کہ یہاں نماز پڑھے۔ جو چاہے نماز پڑھ لے۔

لوگ دائیں بائیں ہو کر نماز پڑھنے لگے۔ میں نے دل میں کہا:

میں اپنا دین اِس شخص کے حوالے کرتا ہوں؛ جب تک وہ نماز نہیں پڑھیں گے میں بھی نہیں پڑھوں گا۔

ہم آگے بڑھتے رہے۔ سورج آہستہ آہستہ مغرب کی طرف جھکتا گیا اور مجھے تشویش ہونے لگی یہاں تک کہ سورج غروب ہوگیا اور ہم اس سرزمین سے گزر گئے۔

اُسی وقت امیرالمؤمنین علیہ‌السلام نے فرمایا:

اے جویریہ! اذان دو۔

میں نے دل میں کہا:

اذان؟ جب کہ سورج غروب ہو چکا ہے!

لیکن میں نے حکم کی تعمیل کی اور اذان دی۔ حضرت نے فرمایا:

اقامت کہو۔

جب میں قد قامت الصلاة تک پہنچا تو دیکھا کہ حضرت کے ہونٹ حرکت کر رہے ہیں اور وہ وبری زبان سے مشابہ کچھ کلمات ادا کر رہے ہیں۔

اچانک سورج واپس لوٹ آیا اور اس قدر بلند ہوا کہ گویا نمازِ عصر کا وقت دوبارہ آ گیا، حضرت نے نمازِ عصر ادا کی اور میں نے بھی ان کے ساتھ نماز پڑھی۔

جب نماز ختم ہوئی تو سورج دوبارہ نیچے جانے لگا اور اس سے ایسی آواز آ رہی تھی جیسے چکی دانہ پیستی ہے۔ پھر سورج غروب ہوگیا اور ستارے ظاہر ہوگئے۔

جویریہ کہتے ہیں:

اس واقعے کے بعد میں نے عرض کیا:

میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ واقعی رسول خدا صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ کے سچے جانشین ہیں۔[3]

ابن شہر آشوب کی روایت

ابنِ شہر آشوب جویریہ بن مسہر سے نقل کرتے ہیں:

میں نے دل میں کہا:

آج میں اپنا دین ان کے حوالے کرتا ہوں۔

ہم حضرت کے ساتھ چلتے رہے۔ سورج غروب ہوگیا، ستارے ظاہر ہوگئے اور مغرب کا وقت آ گیا۔ جب ہم سرزمین بابل سے نکل گئے تو حضرت سواری سے اترے اور اس کے سموں سے مٹی صاف کی۔ پھر مجھ سے فرمایا:

تم بھی اپنے گھوڑے کے سموں سے مٹی صاف کرو۔

میں نے ایسا ہی کیا۔

پھر حضرت نے فرمایا:

اے جویریہ! نمازِ عصر کے لیے اذان دو۔

میں نے دل میں کہا:

اے جویریہ! تمھاری ماں تم پر روئے! دن ختم ہو چکا ہے اور رات آ گئی ہے!

اس کے باوجود میں نے عصر کی اذان دی۔ اچانک سورج واپس لوٹا اور ایسی آواز کے ساتھ بلند ہوا جیسے چکی گھومتی ہے۔ وہ اس مقام تک پہنچ گیا جہاں نمازِ عصر کا وقت ہوتا ہے اور نہایت روشن اور سفید نظر آ رہا تھا۔ امام علیہ‌السلام نے نماز عصر ادا کی۔

پھر فرمایا:

اے جویریہ! نماز مغرب کے لیے اذان دو۔

میں نے اذان دی۔ سورج ایسے نیچے گیا جیسے کوئی سرکش گھوڑا۔ اور پھر غروب ہوگیا۔ ہم نے نمازِ مغرب ادا کی۔ پھر حضرت نے فرمایا:

نماز عشا کے لیے اذان دو۔

میں نے اذان دی اور نماز عشا بھی ادا کی۔

نماز کے بعد میں نے دل میں تین مرتبہ کہا:

ربِّ کعبہ کی قسم! یہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ کے وصی ہیں۔ جو ان کی مخالفت کرے وہ گمراہ، کافر اور ہلاک ہے۔[4]

حضرت امیرالمؤمنین صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ کا شوری میں استدلال

امیرالمؤمنین علیہ السلام نے چھ بندوں والی شوری(جو عمر نے خلیفہ کے تعین کے لیے بنائی تھی) کے موقعے پر اس واقعہ کو دلیل کے طور پر پیش کیا اور فرمایا:

تمہیں خدا کی قسم! کیا تم میں سے میرے علاوہ کوئی ایسا ہے جس کے لیے سورج غروب ہونے کے بعد واپس لوٹا ہو تاکہ وہ نمازِ عصر ادا کر سکے؟

سب نے کہا:

نہیں۔[5]

یہ اس بات کی دلیل ہے کہ یہ واقعہ صحابہ کے درمیان معروف اور مشہور تھا۔

معتبر زیارات میں ردّ الشمس کا ذکر

معجزہ ردّ الشمس امیرالمؤمنین علیہ السلام کی عظیم فضیلتوں میں سے ایک ہے اور معتبر زیارات میں بھی اس کا ذکر ملتا ہے:

السَّلَامُ عَلَى مَن رُدَّتْ عَلَيْهِ الشَّمْسُ حِينَ تَوَارَتْ بِالْحِجَابِ

سلام ہو اس پر جس کے لیے سورج اس وقت واپس لوٹا جب وہ پردۂ مغرب میں چھپ چکا تھا۔[6]

اسی طرح ۱۷ ربیع الاول کی زیارت میں بھی یہ جملہ آتا ہے:

السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا مَن رُدَّتْ لَهُ الشَّمْسُ فَسَامَى شَمْعُونَ الصَّفَا

سلام ہو آپ پر اے وہ شخصیت جس کے لیے سورج واپس لوٹا اور جو شمعون صفا کے ہم مرتبہ قرار پائے۔

یہ تاریخی واقعہ نہ صرف امیرالمؤمنین علیہ‌السلام کے عظیم مقام کو ظاہر کرتا ہے بلکہ دشمنوں کے اعتراضات کا جواب اور رسول خدا صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہکے حقیقی وصی ہونے کی روشن دلیل بھی ہے۔

[1] ۔ عیون المعجزات، ص ۷
[2] ۔ من لا یحضره الفقیه، شیخ صدوق، ج ۱، ص ۱۳۰
[3] ۔ خصائص الأئمہ، ص ۵۶
[4] ۔ الثاقب فی المناقب، ص ۲۵۳
[5] ۔ مناقب خوارزمی، ص ۲۱۷؛ فرائد السمطین، حموینی، ج ۱، ص ۳۱۹، ح ۲۵۱؛ الصواعق المحرقہ، ابن حجر، ص ۷۵؛ شرح نہج البلاغہ، ابن ابی الحدید، ج ۲، ص ۶۱
[6] ۔ زیارت ہفتم امیرالمؤمنین علیہ‌السلام

مزید مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے