حرم مقدس امیرالمؤمنین علیہالسلام نے اعلان کیا ہے کہ وہ نجف اشرف کے اہم تاریخی نسخے ’’ ماضی و حال نجف ‘‘کی تحقیق اور تکمیل کا بڑا علمی منصوبہ انجام دے رہا ہے ، یہ وہ کتاب ہے جسے لکھے ہوئے تقریباً ایک صدی گزر چکی ہے۔
حرم مقدس امیرالمؤمنین علیہالسلام کے شعبۂ فکری و ثقافتی امور کے تحت کام کرنے والے الخزانة العلویة یونٹ نے بتایا کہ شیخ جعفر محبوبہ کی کتاب ’’ ماضی و حال نجف ‘‘کے باقی ماندہ حصوں کی تحقیق اور طباعت آخری مراحل میں پہنچ چکی ہے،یہ منصوبہ نجف کے قدیم حوزۂ علمیہ کے ہزار سالہ جشن کی تیاریوں کا حصہ ہے۔
یونٹ کے نگران خادم عمار ماشااللہ نے نیوز سینٹر سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ منصوبہ نجف اشرف کے علمی و تاریخی ورثے کو زندہ کرنے کے لیے علوی خزانے کی نمایاں ترین علمی کاوشوں میں سے ایک ہے، یہ نسخہ نجف کی قدیم اور جدید تاریخ کے حوالے سے بنیادی ماخذ کی حیثیت رکھتا ہے، اسے لکھے ہوئے نوّے برس سے زیادہ عرصہ گزر چکا ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ کتاب نہ صرف شہر نجف اور حرم مقدس امیرالمؤمنین علیہالسلام کی تاریخی دستاویزات پیش کرتی ہے، بلکہ اس میں ان ممتاز علمی خاندانوں کے سوانح حیات بھی شامل ہے جو شیخ طوسی کے دور سے آج تک نجف میں آباد رہے،کتاب میں ایسے نادر خطی نسخوں سے بھی استفادہ کیا گیا ہے جو اس سے پہلے کبھی شائع نہیں ہوئے۔
عمار ماشااللہ نے وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ مصنف نے اپنی زندگی میں صرف تین حصے شائع کیے تھے،حرم مقدس امیرالمؤمنین علیہالسلام جامع علمی تحقیق کے ساتھ باقی حصوں کی تکمیل کر رہا ہے، جس سے مجموعی طور پر یہ کتاب پندرہ سے زائد جلدوں پر مشتمل ہو جائے گی۔ اس میں علوی خاندانوں کی مختلف شاخوں کی تفصیلی دستاویزات بھی شامل ہوں گی،اس عظیم تاریخی کتاب کا ایک مکمل اور جدید علمی ایڈیشن اسی سال شائع کیا جائے گا۔
قابل ذکر ہے کہ شیخ جعفر محبوبہ سنہ 1314 ہجری کے قریب نجف میں پیدا ہوئے اور 1377 ہجری میں وفات پائی، انہوں نے نجف کے علمی ماحول میں پرورش پائی اور حوزۂ علمیہ میں داخل ہوکر متعدد نامور اساتذہ سے تعلیم حاصل کی جن میں آیت اللہ العظمیٰ سید ابو القاسم خوئیؒ بھی شامل تھے، انہیں علمی سرپرستیوں نے ان کی فکری نشوونما اور بلند پایہ علمی خدمات میں نمایاں کردار ادا کیا۔







