سب سے زیادہ تلاش کیا گیا:

حرم مقدس امیرالمؤمنین علیہ‌السلام

حرم مقدس امیرالمؤمنین علیہ‌السلام کی پہلی عمارت کی تعمیر کا ماجرا

امام جعفر صادق علیہ‌السلام کے مرقد امیرالمؤمنین علیہ‌السلام کو آشکار کرنے کے بعد صدیوں سے اس مقدس مقام پر مختلف اور متعدد تعمیرات کے کام انجام دیے گئے۔

اس سفر میں بہت سے بادشاہوں، سلاطین، امیروں اور نہایت برجستہ شخصیات نے بڑی دولت خرچ کر کے اور بےحد کوششوں کے ساتھ اس نورانی مرقد کی ترقی، شان و شوکت اور حفاظت میں اہم کردار ادا کیا اور اس سے ان کے پیش نظر الٰہی انعامات کا حصول اور «قسیمُ الجَنّةِ والنّار» یعنی حضرت امیرالمؤمنین‌ علیہ‌السلام کی شفاعت سے بہرہ مند ہونا تھا.

سید عبدالكریم ابنِ طاؤوس اس بارے میں کہتے ہیں:

اگر ہم ان تمام لوگوں کے ناموں کا ذکر کرنا چاہیں جو اس حرم کی زیارت کے لیے حاضر ہوئے یا جنھوں نے اس کی تعمیر اور ترقی میں حصہ لیا اور اس کام سے اللہ کا قرب حاصل کرنا چاہا، جن میں بادشاہ، بزرگ شخصیات، ادیب، قاضی، فقیہ، عالم، محدث شامل ہیں تو ایک طویل فہرست تیار ہوجائے گی

حرم مقس امیرالمؤمنین علیہ‌السلام کی اولین عمارت

مرقدِ امیرالمؤمنین علیہ‌السلام پر بنایا گیا سب سے پہلا نمایاں گنبد طبرستان کے بادشاہ سید محمد بن زید حسنی نے 283 ہجری قمری میں تعمیر کروایا

انھوں نے معتضد باللہ عباسی کے دورِ خلافت میں بڑے اہتمام کے ساتھ مرقدِ امیرالمؤمنین علیہ‌السلام کو تعمیر کروایا اور اس کے ارد گرد ستر محرابوں کے ساتھ ایک دیوار تعمیر کروائی تاکہ زائرین بہتر خدمات سے بہرہ مند ہوسکیں.

بعض مورخین نے غلطی سے اس قلعے کو شہرِ نجف کی سب سے پہلی دیوار سمجھا ہے حالانکہ یہ دیوار درحقیقت حرم کے صحن کی دیوار تھی۔

اس سے قبل امام جعفر صادق علیہ‌السلام نے خبر دے دی تھی کہ ایک شخص اپنی موت سے پہلے اس مقدس مرقد کے لیے ستر محرابوں والی دیوار تعمیر کروائے گا،

یہ پیشگوئی سید محمد بن زید حسنی کے حوالے سے پوری ہوئی۔

اس بادشاہ نے اس اہم عمارت کی تعمیر کے ساتھ ساتھ، نجف و کربلا میں موجود مقدس مقامات کی ترقی اور تعمیرِ نو کے لیے بھی اچھا خاصا مال و متاع طبرستان سے بھیجا۔

معتبر تاریخی ذرائع نے اس بات پر زور دیا ہے کہ سید محمد بن زید حسنی وہ پہلے شخص تھے جنھوں نے حرمِ مقدس پر نمایاں گنبد تعمیر کروایا۔

 سید محمد بن زید حسنی کے بارے میں بیانات

عبد الرحمان بن جوزی نے ابو الغنائم ابن نرَسی سے نقل کیا ہے:

امام صادق اور امام باقر علیہماالسلام نے قبرِ امیرالمومنین علیہ‌السلام کی زیارت کی. اس زمانے تک قبر آشکار نہ تھی بلکہ صرف زمین کا ایک ہموار ٹکڑا موجود تھا یہاں تک کہ سید محمد بن زید حسنی آئے اور انھوں نے قبر کو آشکار کیا۔

اس روایت سے یہ سمجھ میں آتا ہے کہ آشکار کرنے سے مراد سید محمد بن زید حسنی کی جانب سے وہی قبر پر عمارت قائم کرنا ہے جیسا کہ پہلے کی تحریروں سے اس بات کا پتہ چلتا ہے۔

اس سے پہلے بھی ذکر کیا گیا کہ امام جعفر صادق علیہ‌السلام نے قبر کو آشکار کیا اور اس پر ایک چھت تعمیر کروائی، وہ بھی اُس سال (132 ہجری قمری) جب بنی امیہ کی حکومت کا خاتمہ ہوا۔

ابو اسحاق صابی (متوفیٰ 384 ہجری) نے بھی اسی بات کی طرف اشارہ کیا ہے اور سید محمد بن زید حسنی کے بارے میں کہا ہے: وہ پہلے شخص تھے کہ جنھوں نے غری اور حائر میں امیر المومنین اور امامِ حسین علیہماالسلام کی قبر پر عمارت بنوائی اور بیس ہزار دینار خرچ کیے جس سے ان مقامات پر حرم تعمیر ہوا

ابن اسفند یار نے بیان کیا ہے:

محمد بن زید حسنی کے زمانے تک امیرالمؤمنین اور امامِ حسین علیہماالسلام، بقیہ ائمہ اور بزرگ شیعہ شخصیات کے مقدس مقامات پر ویرانی کا عالَم تھا۔

جب محمد بن زید طبرستان کے بادشاہ بنے تو خلیفۂ بغداد (منتصر) بھی قدرت میں تھا اور اس کا جھکاؤ شیعہ مذہب کی طرف تھا اور وہ خاندانِ ابو طالب علیہم‌السلام کے لئے بےحد عزت و احترام کا قائل تھا۔ اس نے عباسیوں اور سفاح خاندان ہونے کے باوجود اولاد پیغمبر صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ کو قتل کرنے کی ہرگز جرات نہ کی۔

محمد بن زید نے مقدس مقامات کی تعمیرِ نو کا عزم کیا اور جس مقام پر بھی کسی مقدس قبر کی موجودگی کا احتمال دیا جاتا وہاں ایک عمارت تعمیر کروائی۔

وہ ہر سال امیرالمؤمنین، امامِ حسن، اور امامِ حسین علیہم‌السلام اور بزرگ ہستیوں کے پاکیزہ مقامات کے لیے تیس ہزار سرخ درہم بھیجا کرتے اور جب متوکل نے ائمہ علیہم‌السلام کے مقدس مقامات کو ویران کردیا تو وہ پہلا شخص کہ جس نے ان کی تعمیرِ نو کا حکم جاری کیا وہ محمد بن زید حسنی تھے

سید محمد بن ابی طالب حسینی حائری کرکی کہتے ہیں:

متوکل کے بعد اس کا بیٹا منتصر خلیفہ بنا۔ وہ آلِ ابو طالب کی نسبت مہربان تھا اور اس نے اُن کے درمیان اموال تقسیم کیے اور مقدس قبریں اس کے دور میں دوبارہ آشکار ہوئیں یہاں تک کہ زید بن حسن کے دو بیٹوں یعنی حسن اور محمد نے قیام کیا۔ محمد نے حکم دیا کہ حرم مقدس امیرالمؤمنین علیہ‌السلام اور حرمِ امام حسین علیہ‌السلام کو آباد کیا جائے اور ان پر عمارت بنوائی جائے۔

اس کے بعد بھی ان دو مقدس حرموں کو مزید ترقی دی گئی اور دیگر عمارتوں کا بھی ان میں اضافہ کیا گیا۔

سید عبد الکریم ابن طاؤوس نے محمد بن زید حسنی کے بارے میں لکھا:

وہ وہی ہے کہ جس نے حرم مقدسِ غَروی (نجف) کو معتضد کے زمانے میں تعمیر کروایا۔

پھر حکومت کے سپاہیوں سے جنگ کے دوران قتل ہوئے اور جرجان (گرگان) میں سپرد خاک ہوئے۔ یہ بات کتاب مشجرہ میں ذکر کی گئی ہے۔

ایک اور تحریر میں، فرانسیسی ماہرِ آثارِ قدیمہلوئس ماسگنن کہتا ہے:

سال 280 ھ / 902 عیسوی کے آس پاس زید بن محمد (270- 287 ھ) نے مقامِ امیرالمؤمنین علیہ‌السلام کہ جہاں آپ مدفون تھے، اس کا احترام و اکرام بجا لاتے ہوئے اس پر ایک گنبد تعمیر کروایا. پھر ابو الھیجاء حمدانی نے (سال 317 ھ میں) وہاں مزید تعمیرات اور ترقیاتی کام انجام دیے. آلِ بویہ کی حکومت میں یہ گنبد زائرین کی زیارت گاہ میں تبدیل ہوگیا۔

معتضد عباسی کا حرم مقدس امیرالمؤمنین علیہ‌السلام کے متولیوں کی نسبت معاون کردار

معتضد عباسی سال 279 ھ قمری میں معتمد کے مرنے کے بعد خلیفہ بنا۔اس نے ایک خواب دیکھا تھا جس کی وجہ سے اس نے مرقدِ امیرالمؤمنین علیہ‌السلام کے زائروں کو کوئی نقصان نہ پہنچایا اور خاندانِ ابو طالب کا احترام کیا۔

طبری نے  اس داستان کی تفصیلات کو سال 282 ھ کے واقعات میں کچھ اس طرح ذکر کیا ہے:

اس سال، محمد بن زید نے طبرستان سے محمد بن ورد عطار کو 32 ہزار دینار بھیجے تاکہ اس کو بغداد، کوفہ، مکہ اور مدینہ میں اپنے جاننے والوں کے درمیان تقسیم کرے۔

لیکن اس واقعے کی شکایت ہوگئی اور محمد بن ورد کو بدر کے گھر لایا گیا اور اس سے تفتیش کی گئی۔ اس نے کہا:

ہر سال مجھے یہ پیسے بھیجے جاتے ہیں اور میں بھیجنے والے کے حکم کے مطابق اسے اپنے رشتہ داروں میں تقسیم کردیتا ہوں۔

بدر نے یہ خبر معتضد تک پہنچائی اور اسے آگاہ کیا کہ شخص اور پیسے دونوں میرے پاس موجود ہیں اور اس طرح خلیفہ سے اس کی رائے دریافت کی۔

معتضد نے جواب میں ابو عبداللہ حسنی کی ایک بات نقل کی اور کہا: اے بدر! کیا تمہیں وہ خواب یاد ہے جو میں نے تمھیں بتایا تھا؟ بدر کو یاد نہ آیا۔

معتضد نے کہا: کیا تمھیں یاد نہیں کہ میں نے تم سے کہا تھا کہ ناصر نے خواب میں میری طرف دیکھ کر کہا: جان لو کہ یہ امر (خلافت) تم تک پہنچے گا، تو دھیان رکھنا کہ تم خاندانِ ابو طالب کے ساتھ کیسا برتاؤ رکھتے ہو؟

اس نے مزید بیان کیا کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ میں بغداد سے نہروان کی جانب اپنے لشکر کے ہمراہ باہر نکلا ہوں۔ لوگ اشتیاق کے ساتھ میری اور میری فوج کی طرف دیکھ رہے تھے۔ اسی دوران میں ایک ایسے شخص کے برابر سے گزرا جو ایک بلندی پر کھڑا تھا اور نماز پڑھ رہا تھا، اس نے میری اور میرے لشکر کی طرف کوئی توجہ نہ دی۔

اس بے توجہی سے میں تعجب میں پڑ گیا پاس گیا تاکہ اس کے ساتھ کھڑا ہوجاؤں؛ جیسے ہی اس کی نماز ختم ہوئی تو اس نے مجھ سے کہا: قریب آؤ میں قریب ہوگیا۔

پوچھا: مجھے پہچانتے ہو؟

کہا: نہیں

اس شخص نے کہا: میں علی ابن ابی طالب ہوں. یہ بیلچہ لو اور اس سے زمین پر مارو۔

بیلچہ ان کے سامنے رکھا تھا، میں نے اٹھایا اور چند بار زمین پر مارا۔

پھر انھوں نے کہا: جتنی بار تم نے مارا ہے تمھارے اتنے ہی بیٹے خلافت تک پہنچیں گے لہذا ان کو نصیحت کرنا کہ میری اولاد کے ساتھ اچھا برتاؤ رکھیں۔

بدر نے کہا: ہاں، اب مجھے یاد آیا۔

پھر معتضد نے حکم دیا کہ اموال اور محمد بن ورد کو چھوڑ دیا جائے اور اسے لکھا کہ طبرستان میں اپنے مالک سے درخواست کرو کہ یہ مال آشکارا تمھارے پاس بھیجا کرے اور محمد بن ورد بھی اسے آشکارا تقسیم کیا کرے۔

اسی طرح حکم دیا کہ محمد کی اس کام میں حمایت کی جائے۔

قاضی تنوخی (متوفیٰ؛ 384 ھ) نے بھی محمد بن یحییٰ ابن ابی عباد کی سند کے ذریعے روایت کیا ہے:

معتضد جس وقت اپنے باپ کی قید میں تھا تو اس نے ایک خواب دیکھا۔ دیکھا کہ ایک بزرگ دجلہ کے کنارے بیٹھا ہے۔ اپنے ہاتھ کو دجلہ کی طرف لے کر جاتا ہے تو سارا پانی اس کے ہاتھ میں جمع ہو جاتا ہے اور دجلہ خشک ہوجاتی ہے، پھر اسے پھینک دیتا ہے تو دجلہ دوبارہ سے جاری ہوجاتی ہے۔ اس کے بارے میں پوچھا تو بتایا گیا: یہ علی ابن ابی طالب ہیں۔ ان کے پاس گیا اور سلام عرض کیا. انھوں نے جواب دیا…

شہر نجف کی توسیع و ترقی کا ماجرا

سال 283 ھ قمری/ 896 عیسوی میں سید محمد بن زید حسنی کی تعمیرات نے در حقیقت شہرِ نجف کے ایک مرکز کے عنوان سے وجود بخشا۔ اس سے پہلے تک یہاں رہائش کا آغاز نہیں ہوا تھا۔

اس زمانے کے بعد حرم مقدس امیرالمؤمنین علیہ‌السلام کی نسبت خدمات کا آغاز ہوا اور بہت سے امور جیسے کہ اس نورانی مقام کی تولیت و سرپرستی، حرمِ امیرالمؤمنین علیہ‌السلام کے جوار میں شیعوں کا ہمیشہ کے لیے بس جانا اور اس مقدس مقام میں دفن ہونے کا باقاعدہ آغاز ہوا۔

دوسری طرف آہستہ آہستہ اس شہر کی توسیع و ترقی میں اضافہ ہوا یہاں تک کہ زمانے کے گزرنے کے ساتھ ساتھ شہرِ نجفِ اشرف ایک اسلامی شہر اور فکر و ثقافت کے مرکز میں تبدیل ہوگیا۔

پھر یہ شہر بعد میں عظیم شیعہ مرجعیت اور حوزہ ہائے علمیہ کے مرکز و محور کے عنوان سے اسلامی دنیا میں پہچانا گیا۔

کتاب تاریخ المرقد العلوی المطهر سے اقتباس

مزید مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے