تاریخی متون میں نجف کے لیے مختلف نام درج ملتے ہیں؛ جیسے غری یا غریان اور مشہد، جن میں ہر ایک اپنے اندر ایک خاص معنویت رکھتا ہے۔
لفظ نجف کی معنوی تحقیق
لغتِ عربی میں نجف اس مقام کو کہا جاتا ہے جو زمین سے بلند ہو اور جس پر پانی جمع نہ ہو سکے۔
قدیم ماخذ میں یوں بیان کیا گیا ہے:
– جوهری لکھتا ہے:
نجف یا نجفہ ایک لمبی اور بلند جگہ ہے جس پر بارش کا پانی ٹھہرتا نہیں۔
– بکری اور زمخشری نے اس کی وضاحت یوں کی ہے:
نجف کا مطلب ہے بلند و خشک زمین، جسے اس کی سختی اور بلندی کی وجہ سے یہ نام دیا گیا۔
– ازهری کہتا ہے:
نجفہ، کوفہ کے کنارے پر واقع وہ بلند جگہ ہے جو سیلابی پانی کو آگے بڑھنے سے روک دیتی ہے۔
– ابنِ قتیبہ دینوری کے مطابق:
دریائے فرات کے کنارے کی زمینوں کو ملطاط اور اس کے پیچھے کے علاقے کو نجاف کہا جاتا تھا۔
بالعموم، نجف اس مقام کو کہا جاتا ہے جو زمین سے قدرے بلند ہو اور جہاں پانی جمع نہ ہوتا ہو۔
شہر نجف کی نام گذاری کی وجہ
ڈاکٹر مصطفی جواد فرماتے ہیں:
نجف کا نام اس کی جغرافیائی ساخت کی وجہ سے رکھا گیا۔ یہ ایک اونچی زمین ہے جو دہانے (آستانہ) کی مانند ہے اور اپنے ارد گرد کے پانی کو روکے رکھتی ہے۔ یعنی بارش یا سیلاب کے دنوں میں نجف کی زمین خشک رہتی ہے اور پانی اس پر نہیں ٹھہرتا۔
تاریخ نگار محمد حسین حرزالدین لکھتے ہیں:
ممکن ہے کہ نجف کا نام اس کے منفرد جغرافیائی محلِ وقوع کی بنا پر رکھا گیا ہو، کیونکہ یہ ایک طرف رسوبی میدان اور دوسری طرف صحرائی فضا کے درمیان واقع ہے ـ بالکل اس دہانے کی مانند جو دو مختلف مقامات کے بیچ حدِ فاصل بنتی ہے۔ اسی لیے اسے عراق کی صحرائی دہلیز کہا گیا ہے۔ اس کی بلندی اور ممتاز جغرافیائی حیثیت نے اسے ایک جداگانہ شناخت دی۔ اسی موقعیت نے نجف کو کاروانوں اور عراق آنے والے مسافروں کے لیے آرام و قیام کی موزوں جگہ بنا دیا۔
شہر نجف کے دیگر نام
نجف کے خطے کو تاریخ کے مختلف ادوار میں کئی ناموں سے یاد کیا گیا ہے۔
ان میں سب سے مشہور یہ ہیں:
نجف، غری، مشہد —
اسی کے ساتھ بعض اور نام بھی منقول ہیں، جیسے:
خدالعذرا، ظَهر، رَبوہ، طورِ سینا، جودی، لسان، ذکورات البیض، وادیالسلام، وثویہ، بانقیا وغیرہ۔
نجف کا نام قدیم ترین اور سب سے زیادہ معروف رہا ہے، اور اسی نام کا ذکر اہل بیت علیہمالسلام کی روایات میں بھی آیا ہے۔
امام جعفر صادق علیہالسلام سے منقول ایک روایت کے مطابق:
نجف ابتدا میں ایک عظیم پہاڑ تھا، جو حضرت نوح علیہالسلام کے طوفان کے دوران خدا کے حکم سے ریزہ ریزہ ہوگیا اور دریا میں تبدیل ہو کر بعد میں خوشک زمین بن گیا۔ اس لیے اسے ‘نیجف’ یعنی ‘خُشک ہوگیا’ کہا گیا، اور بعد میں یہ سادہ صورت ‘نجف’ بن گئی۔
نجف کے قدیم القاب
ماضی میں نجف، اپنے معتدل موسم، پاکیزہ ہوا، زرخیز مٹی اور بہار کے موسم میں پھولوں و سبزے کی بھرمار کے باعث، بادشاہوں، خلفا اور بڑے امیروں کے لیے ایک تفریحی مقام اور جائے آرام کے طور پر مشہور تھا۔
اس کے اطراف میں متعدد قصر، حصار اور دیر (راہب خانقاہیں) تعمیر کیے گئے، اور یہ خطہ اپنی خوشبودار اور پاکیزہ مٹی کے لیے معروف ہوا۔
اپنی فطری خوبصورتی کی وجہ سے عربِ جاہلیت نے اسے «خَدّالعَذرا» یا خَدّالعَذاری کا نام دیا۔
تاریخی متون میں نام نجف
بعض تاریخی مصادر، جن میں سبط ابنِ جوزی بھی شامل ہیں، لکھتے ہیں کہ لفظ نجف اصل میں ترکیب نَجَّ جَف سے ماخوذ ہے؛ اس کی وجہ یہ بیان کی گئی ہے کہ ایک روز ایک عورت جب وہاں سے پانی لینے گئی تو اس نے دیکھا کہ وہ جگہ خشک ہو چکی ہے۔
یہ نام بعض اوقات کوفہ یا حِیرہ کے ساتھ بھی استعمال ہوا ہے، جیسے: نجفِ کوفہ یا نجفِ حِیرہ۔
اہلِ بیت علیہمالسلام کی روایات میں بھی آیا ہے کہ قرآنِ کریم میں مذکور لفظ رَّبوہ سے مراد نجفِ کوفہ ہے اور مَعین سے دریائے فرات کی طرف اشارہ ہے۔
اسی طرح امام جعفر صادق علیہالسلام فرماتے ہیں:
مرقدِ امیرالمؤمنین علیہالسلام نجفِ حِیرہ کے علاقے میں، غَریِ نعمان کے قریب واقع ہے۔
اس کے علاوہ، اُس زمانے میں نجف کے نام سے ایک بستی بھی موجود تھی جو فرات کے قریب اور کوفہ کے نزدیک آباد تھی اور وہاں باقاعدہ آبادی رہتی تھی۔
زبیدی، ابوالعلاء فرضی کے حوالے سے لکھتے ہیں:
نجف، کوفہ کے دروازے کے پاس واقع ایک بستی تھی۔
نجف کے دیگر ناموں کی معنوی تحقیق
لفظ غَری
غَری نجف کے خاص اور معروف ناموں میں سے ایک ہے۔ عربی زبان میں غری کے معنی خوبصورت اور نیک چیز کے آتے ہیں، اور بعض اوقات اس سے مراد وہ چیز جو آراستہ یا ملمع ہو بھی لی جاتی ہے۔
غَریان سے مراد نجف میں واقع دو بلند عمارتیں (جو دو صومعوں یا میناروں کی مانند تھیں) ہیں۔ تاریخی مصادر میں ان کی تعمیر کے اسباب مختلف انداز میں بیان کیے گئے ہیں۔
یہ دونوں عمارتیں کوفہ کے باہر، مرقدِ امیرالمؤمنین علیہالسلام کے قریب واقع تھیں۔
روایات کے مطابق، یہ دونوں عمارتیں دو قبروں پر تعمیر کی گئی تھیں، جنہیں منذر بن ماء السماء کے حکم سے بنایا گیا تھا۔ بعد میں یہ عمارتیں ایک تاریخی علامت بن گئیں۔
بعض احادیث کے مطابق، ان کا مقام حرم مقدس امیرالمؤمنین علیہالسلام کے شمال میں، وادیالسلام کی جانب بلند جگہ پر، اور انبیائے کرام ہود اور صالح علیہماالسلام کی قبور کے سامنے واقع تھا۔
لفظ مشہد
نجف کا ایک اور نام مشہد ہے۔ یہ نام مرقدِ امیرالمؤمنین علیہالسلام کے ظاہر ہونے کے بعد رائج ہوا۔
مشہد کے لغوی معنی ہیں: لوگوں کے اجتماع کی جگہ یا مزار۔
امام جعفر صادق علیہالسلام نے نجف کی پہلی زیارت کے موقع پر صفوان جمال سے فرمایا:
یہ امیرالمؤمنین علیہالسلام کا مشہد ہے۔
اسی موقع پر امام علیہالسلام نے زیارت کے آداب بھی بیان فرمائے، جن میں زیارت کا غسل کرنا اور پاکیزہ ترین لباس پہننا شامل ہے۔
ابتدا میں مرقدِ امیرالمؤمنین علیہالسلام ظاہر نہیں تھا اور اس کے اطراف کوئی باقاعدہ شہر بھی آباد نہیں ہوا تھا؛ صرف ایک مقدس ضریح ذَکَواتُ البیض (یعنی چھوٹے ٹیلوں یا ابھری ہوئی زمین) کے درمیان واقع تھی۔
کئی سیاحوں نے بھی اس حقیقت کی طرف اشارہ کیا ہے:
سائح ہروی نے اسے مشہدِ امیرالمؤمنین علیہالسلام کہا ہے، جبکہ ابنِ بطوطہ نے نجف میں واقع شہرِ مشہدِ علی بن ابی طالب علیہماالسلام کے عنوان سے اس کا ذکر کیا ہے۔
وقت گزرنے کے ساتھ اور حرمِ مقدس کے اطراف آبادی کے پھیلنے کے بعد، مشہد کا نام صرف ضریح تک محدود نہ رہا بلکہ پورے شہر کے لیے استعمال ہونے لگا۔
اسی بنا پر وہاں کے رہنے والوں کو مشاہِدہ کہا جانے لگا اور ان کی نسبت مشہدی قرار پائی۔
یہ نام شعرا کے کلام میں بھی ملتا ہے، جن میں سید علی خان مدنی کا شعر خاص طور پر قابلِ ذکر ہے، جو انہوں نے مرقدِ علوی کی زیارت کے موقع پر کہا۔
کتاب تاریخ المرقد العلوی المطهر سے ماخوذ
