جس کے لبوں پر’’ناد علی‘‘ ہے
اس کے دل میں جلائے ازلی ہے
پروردگار کی پناہ مانگتے ہیں اور فتح و ظفر کی نیت سے امیرالمؤمنین علیہالسلام سے توسل کرتے ہیں اور دہراتے ہیں:
نادِ علیاً مَظهَرَ العَجائِب، تَجِدهُ عَوَناً لَکَ فِی النَوّائِب.. کُلَّ هَمٍّ وَ غَمًّ سَیَنجَلی، بِعَظَمَتِکَ یا الله، بِنُبُوَّتِکَ یا مُحَمَّد، بِوَلایَتِکَ یا عَلِیُّ یا عَلِیُّ یا عَلِیُّ







