سب سے زیادہ تلاش کیا گیا:

آیت اللہ العظمیٰ سیستانی

آیت اللہ العظمیٰ سیستانی کی ایران و لبنان کے خلاف جنگ کی شدید مذمت اور امت مسلمہ سے اتحاد کی اپیل

مرجع عالی قدر آیت اللہ العظمیٰ سید علی سیستانی نے ایران و لبنان کے خلاف ظالمانہ جنگ کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کی ہے۔

آیت اللہ العظمیٰ سید علی سیستانی نے عید الفطر کے موقع پر جاری بیان میں ایران اور لبنان پر جاری جنگ کی شدید مذمت کرتے ہوئے مسلمانوں اور عالمی برادری سے فوری اقدام اور اتحاد کی اپیل کی۔

آیت اللہ العظمیٰ سیستانی نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے دنیا بھر کے مسلمانوں اور آزاد انسانوں سے اپیل کی ہے کہ وہ اس ظالمانہ جنگ کی مذمت کریں اور ایران و لبنان کی مظلوم اقوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کریں۔

عید الفطر کے خطبات کے دوران حرم امام حسین علیہ‌السلام اور کاظمین شریف میں ان کے دفتر کی جانب سے جاری کردہ بیان پڑھ کر سنایا گیا، جس میں خطے کی صورتحال پر مرجعیت کے اہم مؤقف کو واضح کیا گیا۔

بیان اس طرح ہے:

بسم اللہ الرحمن الرحیم

اے مومن مرد اور عورتو، عید الفطر، جو رحمت اور مغفرت کا دن ہے، ایک بابرکت مہینے کی عبادات، روزہ داری اور شب بیداری کے بعد ہم پر طلوع ہوا ہے،یہ دن اللہ کی عطاؤں کا دن ہے، ایک ایسا دن جس میں خداوند اپنے بندوں پر فخر کرتا ہے۔ ہم اللہ سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہماری عبادات کو قبول فرمائے اور اس عید کو امت مسلمہ کے لیے خیر و برکت کا ذریعہ بنائے۔

اے عزیزو، اگرچہ عید خوشی اور مسرت کا دن ہے، لیکن آج مومنین کے دل غم سے چور ہیں، جب وہ دیکھتے ہیں کہ ہمارے دینی اور انسانی بھائیوں پر کس قدر مصیبتیں نازل ہو رہی ہیں، ایک طرف ہم اللہ کی نعمتوں پر تکبیر کہہ رہے ہیں، دوسری طرف بچوں کی چیخیں، ماؤں کے آنسو اور ایران و لبنان میں جلتے گھروں کے مناظر دلوں کو زخمی کر رہے ہیں، جبکہ ان ممالک کے خلاف فوجی جارحیت جاری ہے۔

ہم اس ظالمانہ جنگ کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہیں اور تمام مسلمانوں اور دنیا کے آزاد انسانوں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اس کے خلاف آواز بلند کریں اور ایران و لبنان کے مظلوم عوام کے ساتھ کھڑے ہوں،ہم عالمی طاقتوں اور بالخصوص اسلامی ممالک سے بھی مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اس جنگ کو روکنے کے لیے سنجیدہ اقدامات کریں۔

بار الٰہا، ہم تیری بارگاہ میں دعا کرتے ہیں کہ تو مومنین کی حفاظت فرما، ان سے بلاؤں کو دور رکھ، انہیں حق پر متحد رکھ۔

اے اللہ، ان شہداء کو بلند درجات عطا فرما جنہوں نے اپنے وطن کے دفاع میں جانیں قربان کیں، انہیں انبیاء اور صدیقین کے ساتھ مقام عطا فرما۔

ان کے اہل خانہ کو صبر عطا کر، زخمیوں کو شفا دے اور قیدیوں کو رہائی نصیب فرما۔

اے اللہ، ہمارے لوگوں کی ہر جگہ حفاظت فرما اور انہیں ظالموں پر غلبہ عطا کر۔

اے مومنو، ایمان صرف عقیدہ نہیں بلکہ عمل، ہمدردی اور مدد کا نام ہے،ان مشکل حالات میں جب مصائب بڑھ گئے ہیں اور متاثرین و مہاجرین کی ضروریات زیادہ ہو گئی ہیں، ہماری دینی اور انسانی ذمہ داری ہے کہ ہم ان کی مدد کریں۔

بیان کے مطابق مرجع عالیقدر نے اجازت دی ہے کہ شرعی رقوم کو ایران اور لبنان کے متاثرین کی مدد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے، بشرطیکہ یہ کام معتبر ذرائع جیسے دفاتر مراجع کے ذریعے انجام دیا جائے، یا اگر کوئی شخص براہ راست ضرورت مند کو جانتا ہو تو خود بھی مدد کر سکتا ہے۔

بیان کے اختتام میں کہا گیا کہ عید اللہ سے عہد کی تجدید، باہمی صلح، صلہ رحمی اور محتاجوں کی مدد کا موقع ہے، اگرچہ حالات غمگین ہیں، مگر اللہ کی رحمت وسیع ہے اور اس کی نصرت قریب ہے، بشرطیکہ صبر اور تقویٰ اختیار کیا جائے۔

مزید مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے