40 ہجری قمری کے ایامِ حج کے بعد خوارج کا ایک گروہ مکہ میں جمع ہوا جن میں سے تین لوگوں نے عہد کیا کہ امیرالمؤمنین علی علیہالسلام، معاویہ اور عمرو بن عاص کو قتل کریں گے، ابنِ ملجم نے امیرالمؤمنین علیہالسلام کو قتل کرنے کا عہد کیا۔ امیرالمؤمنین علی علیہالسلام انیس رمضان المبارک کو اپنی بیٹی جناب امّ کلثوم کے ہاں مہمان تھے۔
مولائے متقین کی حالت
انیس رمضان کی شب امیرالمؤمنین علیہالسلام مسلسل گھر سے باہر جاتے تھے اور واپس آتے تھے، آسمان کی طرف دیکھتے تھے، خضوع و خشوع اور گریہ و زاری کی حالت میں سورۂ یٰس کی تلاوت کرتے تھے اور فرماتے تھے:
اللّهمّ بارک لى فى الموت
(پروردگارا! موت کو میرے لیے مبارک قرار دے)
اس کے بعد فرماتے تھے:
انّا للّه و انّا اليه راجعون
(بے شک ہم اللہ کے لیے ہیں اور اسی کی طرف پلٹ کر جانے والے ہیں)
لا حول و لا قوّة الّا باللّه العلىّ العظيم کا بہت زیادہ ورد کرتے تھے، صلوات پڑھتے تھے اور استغفار کرتے تھے۔
ابنِ شہر آشوب اور دوسرے راویوں نے روایت کی ہے کہ امیرالمؤمنین علیہالسلام اس پوری شب بیدار رہے اور ہمیشہ کے برخلاف نمازِ شب پڑھنے کے لیے باہر نہیں گئے۔
روایت میں آیا ہے کہ امام علیہالسلام اس رات بیدار رہے اور آسمان کی طرف دیکھتے تھے اور فرماتے تھے: خدا کی قسم کہ میں جھوٹ نہیں بول رہا اور نہ ہی مجھ سے جھوٹ بولا گیا ہے، یہی وہ شب ہے جس کا مجھے وعدہ دیا گیا ہے۔[1]
والدِ گرامی سے درخواست
امیرالمؤمنین علیہالسلام کی بیٹی جناب امّ کلثوم سے منقول ہے: انیس رمضان کی شب میرے والد میرے گھر تشریف لائے اور نماز کے لیے کھڑے ہوئے۔ میں نے ان کے لیے افطار تیار کیا جس میں دو عدد نانِ جو، ایک پیالہ دودھ اور نمک تھا۔ جب امام علیہالسلام نماز سے فارغ ہوئے اور افطار کو دیکھا تو گریہ کیا اور فرمایا:
میری بیٹی! میرے لیے دو روٹی اور دودھ لائی ہو؟ کیا تمہیں نہیں معلوم کہ میں اپنے بھائی اور چچا کے بیٹے رسولِ خدا صلیاللہعلیہوآلہ کی پیروی کرتا ہوں؟
میری بیٹی! جس کا دنیا میں کھانا پینا اور پہناوا جتنا زیادہ ہوگا اسے قیامت کے دن حساب کتاب کے لیے اتنی زیادہ دیر کھڑا رہنا پڑے گا۔ بیٹی! دنیا کے حلال میں حساب ہے اور حرام میں عذاب۔
اس کے بعد پیغمبر اکرم صلیاللہعلیہوآلہ کی سادہ زیستی اور زہد کے بارے میں یاد دہانی کرائی اور فرمایا: خدا کی قسم میں تب تک افطار نہیں کروں گا جب تک ان دو میں سے ایک کھانے کو اٹھا نہ لو۔
میں نے دودھ کا پیالہ اٹھا لیا اور آپ نے نمک کے ساتھ تھوڑی سی جو کی روٹی سے افطار کیا اور خدا کا شکر ادا کرنے کے بعد نماز کے لیے کھڑے ہو گئے۔ آپ لگاتار رکوع و سجود میں مشغول تھے اور بارگاہِ خداوندِ عالم میں راز و نیاز کر رہے تھے۔
جناب امّ کلثوم نے عرض کیا: پدرِ گرامی! آج رات آپ جاگ کیوں رہے ہیں اور یہ اضطراب کیوں ہے؟
امام علیہالسلام نے فرمایا: صبح میں شہید ہو جاؤں گا۔
بیٹی نے عرض کیا: جعدہ (ہبیرہ کے بیٹے ہیں اور ان کی ماں امیرالمؤمنین علیہالسلام کی بہن امّ ہانی ہیں) سے کہیں مسجد جائیں اور آپ کی جگہ نماز پڑھائیں۔
امام علیہالسلام نے فرمایا: قضائے الٰہی سے فرار نہیں کیا جا سکتا اور مسجد میں جانے کے لیے تیار ہوئے۔[2]
مرغابیوں کا نوحہ
جب فجر کا وقت ہوا تو امیرالمؤمنین علیہالسلام کے مؤذّن ابنِ نباح نے اذان دی اور امام علیہالسلام مسجد میں جانے لگے۔ جب دروازے پر پہنچے تو خلافِ معمول مرغابیاں آپ کے سامنے آئیں اور پھڑپھڑانے لگیں اور چلانے لگیں، کچھ لوگ انہیں دور کرنے لگے لیکن امام علیہالسلام نے فرمایا:
دعوهنّ فانّهنّ صوائح تتبعها نوائح
انہیں ان کے حال پر چھوڑ دو ، یہ ابھی چیخ رہی ہیں اور میرے بعد یہ گریہ کریں گی۔
جناب امّ کلثوم یا ایک روایت کے مطابق امام حسن علیہالسلام نے عرض کیا: والدِ گرامی! آپ بدشگونی کیوں کر رہے ہیں؟
امام علیہالسلام نے فرمایا: بدشگونی نہیں کر رہا ہوں لیکن میرا دل کہتا ہے کہ شہید ہو جاؤں گا اور یہ حق بات میری زبان پر جاری ہوئی ہے۔
اس کے بعد آپ نے مرغابیوں کے بارے میں جناب امّ کلثوم سے فرمایا: ان کا خیال رکھنا، یہ بے زبان ہیں بول نہیں سکتی ہیں۔ جب بھی یہ بھوکی پیاسی ہوں انہیں دانہ پانی دینا ورنہ انہیں چھوڑ دینا تاکہ خود سے دانہ چگیں۔
جب حضرت دروازے تک پہنچے تو دروازے کی کنڈی آپ کی کمر بند میں اٹک گئی اور کمر بند کھل گئی۔
حضرت نے اسے مضبوطی سے باندھا اور چند اشعار پڑھے۔
مورخ امین مسعودی لکھتے ہیں کہ اس گھر کا دروازہ کھجور کے تنے سے بنا ہوا تھا اور اسے کھولنا مشکل تھا، حضرت نے اسے زور سے کھولا، راستہ بنایا اور پھر دروازہ بند کر کے یہ اشعار پڑھے:
اشدد حيازيمك للموت فإن الموت لاقيك
ولا تجزع من الموت إذا حلّ بناديك
ولا تغترّ بالدهر وإن كان يوافيك
كما أضحكك الدهر كذلك الدهر يبكيك
ان اشعار کا مفہوم یہ ہے:
اے علی! موت کے لیے اپنی کمر مضبوط باندھ لو، کیونکہ موت تم سے ضرور ملاقات کرے گی۔
جب موت تمہارے گھر آئے تو اس سے گھبرانا نہیں۔
دنیا سے مغرور نہ ہونا، چاہے وہ تمہارے ساتھ سازگار ہی کیوں نہ ہو۔
جس طرح زمانہ تمہیں ہنساتا ہے، اسی طرح ایک دن تمہیں رلا بھی دے گا۔
پھر حضرت نے فرمایا:
اے میرے پروردگار! موت کو میرے لیے بابرکت بنا دے اور اپنی ملاقات کو میرے لیے مبارک فرما۔
یہ کلمات سن کر امّ کلثوم نے پکارا:
ہائے میرے بابا! ہائے میری فریاد!
امام حسن علیہالسلام اپنے والد کے پیچھے باہر آئے اور عرض کیا:
میں آپ کے ساتھ جانا چاہتا ہوں۔
حضرت نے فرمایا:
میں تمہیں اس حق کی قسم دیتا ہوں جو میرا تم پر ہے، واپس لوٹ جاؤ۔
چنانچہ امام حسن علیہالسلام گھر واپس آگئے اور وہ اور امّ کلثوم اپنے والد کے حالات اور ان کی گفتگو کو یاد کر کے غمگین اور رنجیدہ رہے۔[3]
مولا کی آخری اذان
امیرالمؤمنین علیہالسلام مسجد میں داخل ہوئے، مگر مسجد کے چراغ بجھے ہوئے تھے،حضرت نے تاریکی میں چند رکعت نماز ادا کی اور کچھ دیر تعقیبات میں مشغول رہے۔
اس کے بعد مسجد کی چھت پر تشریف لے گئے اور اذان دی،جب حضرت اذان دے رہے تھے تو کوفہ کا کوئی گھر ایسا نہ تھا جہاں آپ کی اذان کی آواز نہ پہنچی ہو۔
پھر آپ منارے سے نیچے اترے، درود بھیج رہے تھے اور یہ چند اشعار تلاوت فرما رہے تھے:
خَلوا سَبيلَ المُؤمِنِ المُجاهِد
آلَيتُ لا أَعبُدُ غَيرَ الواحِد
في اللَهِ ذي الكُتبِ وَذي المُشاهَدِ
في اللَهِ لا يَعبُدُ غَيرَ الواحِدِ
وَيوقِظُ الناسَ إِلى المساجِدِ[4]
مؤمن مجاہد کو راستہ دو
جو اللہ کی راہ میں جہاد کرتا ہے
اور ایک خدا کے سوا کسی کی عبادت نہیں کرتا
اور لوگوں کو مساجد کی طرف بیدار کرتا ہے۔
ابنِ ملجم کو بیدار کرنا
پھر آپ مسجد کے صحن میں آئے اور فرماتے جاتے تھے:
الصلاة، الصلاة
یعنی: نماز، نماز!
اور سوئے ہوئے لوگوں کو نماز کے لیے جگا رہے تھے۔
ابنِ ملجم ملعون اس پوری رات بیدار رہا تھا اور اس بڑے جرم کے بارے میں سوچ رہا تھا جسے وہ انجام دینا چاہتا تھا۔ اسی وقت جب امیرالمؤمنین علیہالسلام لوگوں کو نماز کے لیے بیدار کر رہے تھے، وہ بھی سوئے ہوئے لوگوں کے درمیان موجود تھا۔
وہ پیٹ کے بل لیٹا ہوا تھا اور اپنی زہر آلود تلوار لباس کے نیچے چھپائے ہوئے تھا۔
جب امیرالمؤمنین علیہالسلام اس کے پاس پہنچے تو فرمایا:
نماز کے لیے اٹھو، اور اس طرح مت سوؤ، کیونکہ یہ شیطانوں کے سونے کا طریقہ ہے۔
دائیں کروٹ سوؤ، کیونکہ یہ مؤمنوں کے سونے طریقہ ہے۔
یا بائیں کروٹ سوؤ، کیونکہ یہ حکیموں کے سونے کا طریقہ ہے۔
اور پیٹھ کے بل سوؤ، کیونکہ یہ انبیاء کے سونے کا طریقہ ہے۔
پھر فرمایا:
تم جس کام کا ارادہ رکھتے ہو جس کا وقت قریب ہے،اس کے نتیجے میں آسمان ٹوٹ پڑیں گے، زمین پھٹ جائے گی اور پہاڑ گر پڑیں گے۔
میں چاہوں تو بتا سکتا ہوں کہ تم نے اپنے لباس کے نیچے کیا چھپا رکھا ہے۔
پھر حضرت اس کے پاس سے گزر کر محراب کی طرف گئے اور نماز کے لیے کھڑے ہوگئے۔[5]
فُزْتُ وَرَبِّ الْکَعْبَہ
ابنِ ملجم کو معلوم تھا کہ امیرالمؤمنین علیہالسلام کو اس امت کا سب سے شقی شخص شہید کرے گا، کبھی کبھی وہ قطام سے کہتا تھا کہ مجھے ڈر ہے کہیں وہ شقی شخص میں ہی نہ ہوں اور پھر میں اپنے مقصد تک بھی نہ پہنچ سکوں۔
اس رات وہ صبح تک اسی خیال میں ڈوبا رہا، آخرکار اس کی شقاوت نے تمام شک و تردید ختم کر دی اور اس نے امیرالمؤمنین علیہالسلام کے قتل کا پختہ ارادہ کر لیا۔
وہ محراب کے نزدیک ایک ستون کے پاس چھپ کر بیٹھ گیا، وردان اور شبیب بھی ایک گوشے میں چھپ گئے۔
جب امیرالمؤمنین علیہالسلام نے پہلی رکعت میں سجدے سے سر اٹھایا تو سب سے پہلے شبیب نے حملہ کیا اور چیخ کر کہا: للّه الحكم يا علىّ، لا لک و لا لأصحابک
اے علی! حکم صرف اللہ کا ہے، نہ آپ کا اور نہ آپ کے اصحاب کا۔
یہ کہہ کر اس نے تلوار چلائی، مگر اس کی تلوار محراب کے طاق سے ٹکرا گئی اور ضرب خطا ہو گئی۔
اس کے بعد ابنِ ملجم آگے بڑھا، اس نے بھی یہی کلمات دہرائے اور اپنی تلوار اٹھا کر امیرالمؤمنین علیہالسلام کے سر مبارک پر ضرب لگائی، اس کی ضرب اس جگہ پر لگی جہاں جنگ خندق میں عمرو بن عبدود نے ضرب لگائی تھی، اس نے حضرت کے سر کو چیر دیا۔
اس وقت امیرالمؤمنین علیہالسلام نے فرمایا:
بسم اللہ و باللہ و علی ملّة رسول اللہ، فُزْتُ وَرَبِّ الْکَعْبَة۔[6]
یعنی:
اللہ کے نام سے، اللہ کی مدد سے اور رسولِ خدا کے دین پر۔
کعبہ کے رب کی قسم! میں کامیاب ہو گیا۔
قاتل کی شناخت
امیرالمؤمنین علیہالسلام نے فرمایا:
یہودی عورت کا بیٹا ابنِ ملجم مجھے قتل کر گیا، اسے پکڑ لو۔
جب مسجد والوں نے حضرت کی آواز سنی تو انہوں نے اس ملعون کو گرفتار کر لیا، ہر طرف شور مچ گیا اور لوگوں کی حالت بدل گئی۔
سب لوگ محراب کی طرف دوڑے، انہوں نے دیکھا کہ امیرالمؤمنین علیہالسلام محراب میں گرے ہوئے ہیں، آپ کا سر مبارک شگافتہ ہو چکا ہے۔
حضرت زمین سے مٹی اٹھاتے اور اپنے زخم پر ڈالتے جاتے تھے اور یہ آیت تلاوت فرما رہے تھے:
مِنْهَا خَلَقْنَاكُمْ وَفِيهَا نُعِيدُكُمْ وَمِنْهَا نُخْرِجُكُمْ تَارَةً أُخْرَى۔[7]
یعنی:
ہم نے تمہیں اسی زمین سے پیدا کیا، اور اسی میں تمہیں واپس لوٹائیں گے، اور اسی سے دوبارہ تمہیں نکالیں گے۔
خدا اور رسول کے وعدے کی تکمیل
لوگوں نے دیکھا کہ امیرالمؤمنین علیہالسلام کے سر مبارک کا خون آپ کی داڑھی مبارک پر بہہ رہا ہے اور داڑھی خون سے رنگین ہو گئی ہے۔
امیرالمؤمنین علیہالسلام نے فرمایا: هذا ما وعدنا اللّه و رسوله
یہ وہی وعدہ ہے جو اللہ اور اس کے رسول نے ہم سے کیا تھا؛
اللہ کا حکم آ پہنچا اور رسولِ خدا صلیاللہعلیہوآلہ کی بات سچ ثابت ہوئی۔[8]
جبرئیل کی صدا
اسی وقت جبرئیل علیہالسلام نے آسمان اور زمین کے درمیان ندا دی، یہاں تک کہ لوگوں نے اسے سنا،انہوں نے کہا: تهدّمت و اللّه اركان الهدى، و انطمست اعلام التقى، و انفصمت العروة الوثقى، قتل ابن عمّ المصطفى، قتل الوصىّ المجتبى، قتل علىّ المرتضى، قتله اشقى الاشقياء۔[9]
خدا کی قسم! ہدایت کے ستون ٹوٹ گئے، تقویٰ کی نشانیاں مٹ گئیں، ایمان کی مضبوط رسی ٹوٹ گئی۔
محمد مصطفیٰ صلیاللہعلیہوآلہ کے چچا زاد شہید کر دیے گئے۔
وصیوں کے سردار، علی مرتضیٰ شہید کر دیے گئے۔
انہیں امت کے سب سے شقی شخص نے قتل کیا۔
ضربت کے بعد کے واقعات
جب امّ کلثوم نے جبرئیل کی یہ ندا سنی کہ مولا شہید ہو گئے ہیں تو انہوں نے اپنے چہرے پر طمانچے مارے، گریبان چاک کیا اور فریاد کرنے لگیں:
ہائے میرے بابا! ہائے علی! ہائے محمد!
اسی وقت امام حسن اور امام حسین علیہماالسلام گھر سے دوڑتے ہوئے مسجد کی طرف آئے۔
انہوں نے دیکھا کہ لوگ گریہ و فریاد کر رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں:
ہائے ہمارے امام! ہائے امیرالمؤمنین!
خدا کی قسم! وہ امام شہید کر دیے گئے جو عبادت گزار اور مجاہد تھے، جنہوں نے کبھی بتوں کو سجدہ نہیں کیا تھا، اور جو رسولِ خدا صلیاللہعلیہوآلہ سے سب سے زیادہ مشابہ تھے۔
جب امام حسن علیہالسلام مسجد میں داخل ہوئے تو بلند آواز سے پکار اٹھے:ہائے میرے بابا! ہائے علی!
اور فرمایا:کاش میں مر گیا ہوتا اور یہ دن نہ دیکھتا۔
جب وہ محراب کے قریب پہنچے تو دیکھا کہ ان کے والد گرامی محراب میں گرے ہوئے ہیں، ابو جعدہ اور چند اصحاب و انصار وہاں موجود تھے اور چاہتے تھے کہ حضرت کو اٹھائیں تاکہ وہ نماز پڑھا سکیں مگر حضرت میں طاقت نہیں رہی تھی۔
اس وقت امیرالمؤمنین علیہالسلام نے امام حسن علیہالسلام کو اپنی جگہ امامت کے لیے کھڑا کیا تاکہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں۔
حضرت علی علیہالسلام نے اپنی نماز بیٹھ کر ادا کی اور شدید درد کی وجہ سے دائیں اور بائیں جھکتے جاتے تھے۔
جب امام حسن علیہالسلام نے نماز مکمل کی تو اپنے والد کے سر کو اپنی آغوش میں لے لیا اور عرض کیا:
اے میرے بابا! میری کمر ٹوٹ گئی، میں آپ کو اس حال میں کیسے دیکھ سکتا ہوں؟
امیرالمؤمنین علیہالسلام نے آنکھیں کھولیں اور فرمایا:
اے میرے بیٹے! آج کے بعد تمہارے باپ کو کوئی درد اور رنج نہیں رہے گا۔
اب تمہارے جدّ محمد مصطفیٰ صلیاللہعلیہوآلہ ، تمہاری جدہ خدیجہ کبریٰ سلاماللہعلیہا، اور تمہاری والدہ فاطمہ زہرا سلاماللہعلیہا اور جنت کی حوریں حاضر ہیں اور تمہارے باپ کے انتظار میں ہیں۔
پس خوش رہو اور رونا چھوڑ دو، کیونکہ تمہارے رونے سے آسمان کے فرشتے بھی رونے لگتے ہیں۔
لوگوں نے امیرالمؤمنین علیہالسلام کی چادر سے ان کے سر کے زخم کو مضبوطی سے باندھا اور انہیں محراب سے مسجد کے درمیان لے آئے۔
جلد ہی امیرالمؤمنین علیہالسلام کے زخمی ہونے کی خبر پورے کوفہ میں پھیل گئی۔
مرد اور عورتیں جلدی جلدی مسجد کی طرف آنے لگے۔
لوگوں نے دیکھا کہ امیرالمؤمنین علیہالسلام کا سر امام حسن علیہالسلام کی گود میں ہے۔
اگرچہ زخم کو مضبوطی سے باندھ دیا گیا تھا، پھر بھی خون جاری تھا۔
آپ کا چہرہ زردی سے سفید پڑتا جا رہا تھا، آپ آسمان کی طرف دیکھ رہے تھے اور آپ کی زبان مبارک اللہ کی تسبیح اور تقدیس میں مشغول تھی۔
حضرت فرما رہے تھے: الهى اسألک مرافقة الأنبياء و الاوصياء و اعلى درجات جنّة المأوى
پروردگارا! میں تجھ سے انبیاء اور اوصیاء کی رفاقت اور جنت المأویٰ کے اعلیٰ درجات کا سوال کرتا ہوں۔
جب حضرت بے ہوش ہوگئے تو امام حسین علیہالسلام رونے لگے۔
ان کے آنسوؤں کے قطرے جب اپنے والد کے چہرے پر گرے تو حضرت کو ہوش آ گیا۔
حضرت نے آنکھیں کھولیں اور فرمایا:اے میرے بیٹے! کیوں روتے ہو اور بے صبری کرتے ہو؟
اے حسن تم میرے بعد زہر ستم سے شہید کیے جاؤ گے اور تمہارے بھائی حسین تلوار کے ذریعے شہید ہوں گے۔
اور تم دونوں اپنے جدّ، باپ اور ماں سے جا ملو گے۔[10]
[1] ۔ منتهى الآمال فى تواريخ النبى و الآل عليهمالسلام ، جلد ۱، ص: ۴۱۸.
[2] وہی مأخذ
[3] ۔ منتهى الآمال فى تواريخ النبى و الآل عليهمالسلام ، جلد۱، ص: ۴۱۹.
[4] ۔ منتهى الآمال فى تواريخ النبى و الآل عليهمالسلام، جلد ۱، ص: ۴۲۱.
[5] ۔ وہی مأخذ
[6] ۔ منتهى الآمال فى تواريخ النبى و الآل عليهمالسلام ، جلد ۱، ص: ۴۲۲.
[7] ۔ وہی مأخذ
[8] ۔ منتهى الآمال فى تواريخ النبى و الآل عليهمالسلام ، جلد۱، ص: ۴۲۴
[9] ۔ وہی مأخذ
[10] ۔ منتهى الآمال فى تواريخ النبى و الآل عليهمالسلام جلد ۱، ص: ۴۲۵.
