سب سے زیادہ تلاش کیا گیا:

Imam-Ali-as-1

امیرالمومنین علیہ‌السلام کے خلاف سازش کہاں سے شروع ہوئی؟

امیرالمومنین علی ابن ابی طالب علیہ‌السلام کے خلاف بدترین سازش جنگ نہروان میں خوارج کی شکست کے بعد شہر مکہ سے شروع ہوئی۔

مولائے کائنات امیرالمومنین علی ابن ابی طالب علیہ‌السلام انیس ماه رمضان ۴۰ ہجری قمری کو زخمی ہوئے۔

آپ علیہ‌السلام پر عبدالرحمن ابن ملجم ملعون نے قاتلانہ حملہ کیا۔ تین دن بعد اکیس رمضان کو آپ علیہ‌السلام نے جامِ شہادت نوش فرمایا۔

ابن ملجم کی سازش سے شہادتِ امام علی علیہ‌السلام تک

سن ۴۰ ہجری قمری میں حج کے بعد مکہ مکرمہ میں تین افراد جمع ہوئے۔ ان میں عبدالرحمن ابن ملجم، برک ابن عبداللہ اور عمرو ابن بکر تمیمی شامل تھے۔

انہوں نے اسلامی حکومت اور جنگِ نہروان کے حالات پر گفتگو کی۔ بعد ازاں انہوں نے بعض حکمرانوں کے خلاف الزامات عائد کیے۔

آخرکار انہوں نے تین شخصیات کو قتل کرنے کا عہد کیا۔ان کے نزدیک امیرالمومنین علیہ‌السلام، معاویہ اور عمرو عاص فتنہ کے ذمہ دار تھے۔

برک ابن عبداللہ کو معاویہ کے قتل کی ذمہ داری سونپی گئی۔  عمرو ابن بکر کو عمرو عاص کے قتل کی ذمہ داری دی گئی۔ عبدالرحمن ابن ملجم کو امیرالمومنین علیہ‌السلام کے قتل کا ذمہ دار بنایا گیا۔

تینوں نے انیس رمضان کو اپنے منصوبے پر عمل کرنے کا فیصلہ کیا۔

مقررہ وقت پر برک ابن عبداللہ نے معاویہ پر حملہ کیا۔ وہ معاویہ کو قتل نہ کرسکا اور خود گرفتار ہوگیا۔ بعد ازاں اسے قتل کردیا گیا۔

عمرو ابن بکر نیز عمرو عاص کو قتل کرنے کے لیے مصر گیا۔ اس وقت عمرو عاص معاویہ کی جانب سے مصر کا گورنر تھا۔ تاہم عمرو عاص نے اس رات اپنی جگہ قاضی خارجہ ابن حذاقہ کو بھیجا۔

عمرو ابن بکر نے اسے عمرو عاص سمجھ کر قتل کردیا۔ بعد میں عمرو عاص کے حکم پر عمرو ابن بکر کو بھی قتل کردیا گیا۔

دوسری جانب عبدالرحمن ابن ملجم اپنے ناپاک منصوبے میں کامیاب ہوگیا۔ اس نے انیس رمضان کی سحر امیرالمومنین علیہ‌السلام پر قاتلانہ حملہ کیا۔ اس حملے میں آپ علیہ‌السلام شدید زخمی ہوئے۔

تین دن بعد اکیس رمضان کو مولائے متقین علیہ‌السلام شہید ہوگئے۔ عبدالرحمن ابن ملجم کو گرفتار کرلیا گیا۔

امیرالمومنین علیہ‌السلام کی شہادت کے بعد امام حسن علیہ‌السلام کے حکم پر قصاص کر دیا گیا۔

مزید مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے