جب رسول خدا صلیاللہعلیہوآلہ نے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت فرمائی، تو آپ صلیاللہعلیہوآلہ کی عمر مبارک ۵۲ سال ۱۱ ماہ اور ۱۳ دن ہو چکی تھی۔ مدینہ میں آپ صلیاللہعلیہوآلہ نے تقریباً دس سال قیام فرمایا، یہاں تک کہ ۲۸ صفر، سن ۱۱ ہجری کو آپ صلیاللہعلیہوآلہ شہید کر دیے گئے۔
خادمہ حضرت فاطمہ زہرا سلاماللہعلیہا حضرت فضہ روایت کرتی ہیں:
لَمَّا قُبِضَ رَسُولُ اللَّهُ صلیاللهعلیهوآله افْتَجَعَ لَهُ الصَّغِیرُ وَ الْکبِیرُ وَ کثُرَ عَلَیهِ الْبُکاءُ وَ قَلَّ الْعَزَاءُ وَ عَظُمَ رُزْؤُهُ عَلَی الْأَقْرِبَاءِ وَ الْأَصْحَابِ وَ الْأَوْلِیاءِ وَ الْأَحْبَابِ وَ الْغُرَبَاءِ وَ الْأَنْسَابِ وَ لَمْ تَلْقَ إِلَّا کلَّ بَاک وَ بَاکیةٍ وَ نَادِبٍ وَ نَادِبَةٍ۔
رسول خدا صلیاللہعلیہوآلہ کی رحلت پر ہر چھوٹے بڑے، قریب و دور والوں کے دل غم میں ڈوب گئے، مدینہ کے ہر گھر سے گریہ و زاری کی آوازیں آ رہی تھیں۔
وَ لَمْ یکنْ فِی أَهْلِ الْأَرْضِ وَ الْأَصْحَابِ وَ الْأَقْرِبَاءِ وَ الْأَحْبَابِ أَشَدَّ حُزْناً وَ أَعْظَمَ بُکاءً وَ انْتِحَاباً مِنْ مَوْلَاتِی فَاطِمَةَ الزَّهْرَاءِ سلاماللهعلیها
مگر اہل زمین میں ، اصحاب، اقرباء اور احباب میں سے حضرت فاطمہ سلاماللہعلیہا سے زیادہ کوئی بھی غم زدہ اور نوحہ گر نہ تھا۔
رسول خدا صلیاللہعلیہوآلہ کی تجہیر و تکفین اور نماز جنازہ
امیرالمومنین علی علیہالسلام نے تنہا غسل و کفن دینے کے بعد آپ صلیاللہعلیہوآلہ کی نماز جنازہ پڑھی۔
رسول اللہ صلیاللہعلیہوآلہ کے جسد اطہر کو غسل و کفن دینے کے بعد امیرالمومنین علی علیہالسلام نے فرمایا:
رسول خدا صلیاللہعلیہوآلہ ہم سب کے امام ہیں، زندگی میں بھی اور وفات کے بعد بھی ،یہی وجہ تھی کہ نماز جنازہ جماعت سے نہیں بلکہ انفرادی طور پر ادا کی گئی۔
مؤمنین، مرد و زن، صحابہ، حتیٰ کہ بچے تک آتے، آیۃ شریفہ إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ تین بار پڑھتے، نماز جنازہ ادا کرتے اور باہر نکل جاتے۔ یہ سلسلہ منگل کے دن ظہر تک جاری رہا۔
تدفین میں تین دن کی تاخیر سیاسی پیغام؟
عائشہ کہتی ہے:
مَا عَلِمْنَا بِدَفْنِ رَسُولِ اللَّهِ صلیاللهعلیهوآله حَتَّی سَمِعْنَا صَوْتَ الْمَسَاحِی فِی جَوْفِ لَیلَةِ الْأَرْبِعَاءِ
ہمیں رسول خدا صلیاللہعلیہوآلہ کے دفن ہونے کی خبر ہی نہ ہوئی، یہاں تک کہ بدھ کی شب ہم نے بیلچوں کی آواز سنی۔
اس تاخیر کی وجہ؟
ابن ابی الحدید معتزلی کہتا ہے:
لِیثبِتَ عِندَ النَّاسِ أَنَّ الدُّنیا شَغَلَتهُم عَن نَبِیهِم ثَلَاثَةَ أَیامِ حَتَی أَمَرَهُ إلَی مَا تَرَون وَ قَد کانَ یتَطَلَّبُ الحَیلَةَ فِی تَهجِینَ أَمرِ أَبِی بَکرِ حَیثُ وَقَعَ فِی مَا وَقَعَ بِکلِّ طَرِیقِ وَ یتَعَلَّقُ بِأَدنَی سَبَبِ مِن أُمُورِ کانَ یعتَمِدُهَا۔
امیرالمومنین علی علیہالسلام نے تین دن تک تدفین مؤخر رکھی تاکہ امت کو دکھا دیں کہ اہل سقیفہ دنیا کی سیاست میں اس قدر مشغول تھے کہ تین دن تک رسول خدا کے جنازے کی فکر بھی نہ کر سکے! یہ امیرالمومنین علی علیہالسلام کی سیاسی بصیرت کا مظہر تھا کہ وہ حکومت کے غیرشرعی غصب پر خاموش نہ رہے، بلکہ تدفین کو مؤخر کر کے انقلابِ فکری پیدا کیا۔
مکان دفن حجرہ حضرت فاطمہ سلاماللہعلیہا
امیرالمومنین علی علیہالسلام نے فرمایا:
جہاں اللہ نے اپنے نبی کی روح قبض کی، وہی ان کا مقام دفن ہے۔ رسول اللہ صلیاللہعلیہوآلہ کو حضرت فاطمہ زہرا سلاماللہعلیہا کے حجرہ میں دفن کیا گیا، جہاں آپ صلیاللہعلیہوآلہ نے وفات پائی تھی۔
قبر کس نے تیار کی؟
ابو عبیدہ جراح اور زید بن سَہل نے پیغمبر اکرم صلیاللہعلیہوآلہ کی قبر تیار کی اور امیرالمومنین علی علیہالسلام، فضل بن عباس اور عباس بن عبدالمطلب قبر میں اترے، رسول اللہ صلیاللہعلیہوآلہ کے چہرۂ انور کو کھولا، رخسار مبارک کو مٹی پر رکھا، قبر کو بند کیا اور خود خاک ڈال کر دفن مکمل کی۔
حوالہجات
بحارالانوار، علامہ مجلسی، ج ۴۳، ص ۱۷۵
تاریخ الاسلام، ذہبی، ج ۱، ص ۵۸۲
شرح نہج البلاغہ، ابن ابی الحدید، ج ۱۳، ص ۳۷