سب سے زیادہ تلاش کیا گیا:

شہر نجف کا طلائی گنبد غزل ساز ہے

شاہ مرداں، شیر یزداں، حضرت امیرالمؤمنین علی علیہ‌السلام کے طلائی گنبد کے بے نظیر نظارے دیکھئے، جو نجف آسمان میں چمک رہا ہے۔

ان دلنواز مناظر کے ساتھ فارسی شاعر مجتبیٰ کرمی کے یہ اشعار، حضرت علی علیہ‌السلام کے مرقد کی زیارت کو اور بھی حسین بناتے ہیں۔ ملاحظہ کیجئے یہ اشعار اور ان کا اردو ترجمہ

طلای گنبد شهر نجف غزل ساز است
و حس خوب من انگار حس پرواز است

شہر نجف کا یہ طلائی گنبد غزل ساز ہے

اور میرے اندر پرواز کا بہترین احساس پیدا کرتا ہے

دلم هوایی ایوان عرش حق شده باز
چرا که راه از آنجا به آسمان باز است

میرا دل اس عرشی ایوان کی طرف اڑنے کے لئے بیقرار ہے

کیونکہ یہاں سے آسمان کے لئے ایک رستہ کھلا ہے

ز باب ساعتشان می روم به سمت حرم
عجیب منظره اش ناب و چشم انداز است

اس حرم کے باب ساعت سے میں مزار کی جانب جاتا ہوں

اور یہ منظر میری آنکھوں کو بڑا بھاتا ہے

کبوترانه مرا سمت این حرم ببرید
کبوتران حرم بالهایشان ناز است

کبوتر وار مجھے اس حرم کی جانب لے چلیں

کہ حرم کے کبرتروں کے پر کھلی فضا میں کھلے ہیں

نمانده فرصتی انگار تا که جان بدهم
گمان کنم که همین لحظه وقت ابراز است

ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اب میرے پاس اتنا وقت ہے کہ اپنی جان دے دوں

اور یہی صحیح وقت ہے کہ میں اپنے پوشیدہ احساسات کو ظاہر کردوں

در آن ضریح مشبک برای حاجاتم
همیشه حضرت جبریل کار پرداز است

اس مقدس ضریح کے پاس میری حاجتوں کو لے جانے کے لئے

گویا حضرت جبرئیل ہمیشہ کھڑے تیار رہتے ہیں

و بی دلیل نیست که مومن شدم خدایم را
که خلقت حرمش در مقام اعجاز است

یہی وجہ ہے کہ میں اپنے خدا پر پورے وجود سے ایمان رکھتا ہوں

کہ اس نے اس حرم کے تخلیق کو بھی ایک اعجاز کے طور پر رکھا ہے

چه دیدنیست قیامت زمان آمدنش
صدای نفخه ی سور نیز مثل آواز است

قیامت کی آمد کا منظر کتنا قابل دید ہے

صور اسرافیل کی آواز بھی گویا ایک نغمہ لگتی ہے

مزید مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے