اسلامی معارف کے بحر بیکراں میں، امیرالمؤمنین علی بن ابی طالب علیهالسلام وہ آفتابِ حقیقت ہیں جن کی ذات میں علم، ایمان، عدل، اور ولایت کا نور یکجا ہے۔ آپ کی ولایت، رسالت محمدی کا تسلسل اور تجلیِ قدرتِ الٰہی ہے۔ روایاتِ نبوی کے آئینے میں، آپ نہ صرف ایمان کی بنیاد بلکہ باطنِ وحی کے ترجمان ہیں۔ یہی ترجمانی آپ کے کردار اور اقوال میں اس طرح جلوہگر ہے کہ ہر مقام پر آپ کے وجود سے الٰہی قدرت ظاہر ہوتی ہوئی نظر آتی ہے۔
تیر خداوند؛ مظہرِ قہر و عدل الٰہی
اسی تجلی قدرت کی ایک تابناک مثال وہ ہے جسے رسول خدا صلیاللهعلیهوآله نے تیر خدا کے عنوان سے بیان فرمایا، آپ نے فرمایا: کوئی قوم یا مملکت میرے مقابل سرکشی نہیں کرتی مگر میں اسے تیرِ خدا سے نشانہ بناتا ہوں،جب صحابہ نے استفسار کیا کہ اے رسولِ خدا، تیرِ خدا سے مراد کون ہے؟ تو آپ نے وضاحت فرمائی: علی بن ابی طالب۔[1]
یہ حدیث آشکار کرتی ہے کہ امیرالمؤمنین علیهالسلام قہر الٰہی کے مظہر اور عدلِ ربانی کے علمبردار ہیں۔ آپ کا وجود اُس تیر کی مانند ہے جو باطل کے قلب کو چیر کر حق کے پرچم کو سربلند رکھتا ہے، اور یہی آپ کی ولایت کا جوہر ہے جو عدل و رحمت الٰہی کو ساتھ لیے ہوئے ہے۔
عطائے الٰہی اور سرّ نجویٰ
عدل و قہر کے اس مظہر کے ساتھ ساتھ، امیرالمؤمنین علیهالسلام عطائے الٰہی اور راز الٰہی کے امین بھی ہیں، حضرتِ سلمان فارسی رضواناللهعلیہ روایت کرتے ہیں کہ جب صحابہ نے رسول خدا صلیاللهعلیهوآله سے عرض کیا کہ: یا رسولالله، آپ علی کو ہمیشہ ہم پر فضیلت کیوں دیتے ہیں؟ تو آپ کا جواب تھا: میں نے نہیں، بلکہ خدا نے علی کو فضیلت دی ہے۔[2]
یہ کلام نبوی بتاتا ہے کہ ولایت، بشری ترجیح نہیں بلکہ الٰہی انتصاب ہے۔
اسی مفہوم کو مزید گہرائی عطا کرتی ہے جابر بن عبداللہ کی روایت، جس میں روز طائف رسول خدا صلیاللهعلیهوآله کا نجویٰ (سرگوشی) امیرالمؤمنین علیهالسلام کے ساتھ طویل ہوا۔ جب اس پر سوال ہوا تو آپ نے فرمایا: میں نے علی سے نجویٰ نہیں کی بلکہ خدا نے اس سے نجویٰ کی۔[3]
یہ نجویٰ نبوت و ولایت کے مابین وہ باطنی رابطہ ہے جس میں وحی کا نور، ولایت کے سینے میں امانت کے طور پر ودیعت کیا گیا۔
نبوت و وصایت کا توازن کمال
یہی باطنی رابطہ دراصل نبوت و وصایت کے توازنِ کمال کی اساس ہے۔ رسول اکرم صلیاللهعلیهوآله نے پانچ الٰہی نعمتوں کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: خدا نے مجھے پانچ نعمتیں عطا کیں اور علی کو پانچ۔ مجھے جوامعالکلم، اور علی کو جوامعالعلم؛ مجھے نبوت، اور اسے وصایت؛ مجھے کوثر، اور اسے سلسبیل؛ مجھے وحی، اور اسے الہام؛ اور جب مجھے معراج دی تو اُس کے لیے آسمانوں کے در کھول دیے۔[4]
یہ حدیث ظاہر کرتی ہے کہ نبوت و وصایت، ایک ہی حقیقت کے دو پہلو ہیں — ایک ظاہری اور دوسرا باطنی۔ امیرالمؤمنین علیهالسلام کو الہام و علمِ جامع کا وہ فیض عطا ہوا جو نبوت کے باطن کی تفسیر ہے۔ یوں علی بن ابی طالب علیهالسلام حقیقتِ ایمان کا مرکز، عرفانِ الٰہی کا محور، اور علمِ لَدُنّی کا سرچشمہ ہیں — وہی تیرِ خداوند جو ہمیشہ حق کے نشانے پر لگتا ہے۔
[1] ۔ الأمالي للطوسی، جلد۱، ص۵۰۴
[2] ۔ إرشاد القلوب، جلد۲، ص۲۶۸
[3] ۔ مناقب الإمام أمير المؤمنين، جلد۱، ص۲۱۵
[4] ۔ الأمالي للطوسی، جلد۱، ص۱۰۴
