سب سے زیادہ تلاش کیا گیا:

تلاوت

آداب تلاوت قرآن مجید

قرآن مجید کی تلاوت عبادت ہے، لیکن یہ عبادت آداب کے ساتھ انجام دی جائے تو اس کا اثر دل اور عمل دونوں پر ہوتا ہے۔ روایات میں تلاوتِ قرآن کے لیے چند بنیادی آداب بیان کیے گئے ہیں جو قاری کو قرآن کے ساتھ صحیح رابطے کی طرف رہنمائی کرتے ہیں۔

تلاوت قرآن کا پہلا ادب طہارت ہے۔ امیرالمؤمنین علیہ‌السلام فرماتے ہیں کہ بندہ اس وقت تک قرآن کی تلاوت نہ کرے جب تک وہ طہارت کی حالت میں نہ ہو۔ اس فرمان سے واضح ہوتا ہے کہ قرآن سے تعلق پاکیزگی کے ساتھ ہونا چاہیے۔[1]

دوسرا ادب قبلہ رخ ہو کر تلاوت کرنا ہے، روایت میں آیا ہے کہ جب امام علی نقی علیہ‌السلام کو گرفتار کیا گیا تو وہ قرآن کی تلاوت میں مشغول تھے اور قبلہ رخ تھے۔ یہ عمل تلاوت میں ادب اور توجہ کی علامت ہے۔[2]

قرآن کی تلاوت سے پہلے شیطان سے اللہ کی پناہ مانگنے کا حکم قرآن مجید میں دیا گیا ہے،

 ارشاد ہوتا ہے: فَإِذَا قَرَأْتَ الْقُرْآنَ فَاسْتَعِذْ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ[3]

(لہذا جب آپ قرآن پڑھیں تو شیطان رجیم کے مقابلہ کے لئے اللہ سے پناہ طلب کریں) تاکہ تلاوت خالص توجہ کے ساتھ انجام پائے۔

 اسی طرح امیرالمؤمنین علیہ‌السلام کے فرمان کے مطابق، اہلِ ایمان آیاتِ رحمت اور آیاتِ عذاب پر توقف کرتے ہیں اور ان آیات کے معانی پر توجہ دیتے ہیں۔[4]

قرآنِ مجید فرقانِ حمید کو تدبر کے لیے نازل کیا گیا ہے تاکہ عقل والے اس سے نصیحت حاصل کریں پس قرآن کو تدبر کے ساتھ تلاوت کرنا چاہیے ۔ اس کے ساتھ ساتھ قرآن پر عمل کرنا بھی تلاوت کا اہم ادب ہے۔ امام جعفر صادق علیہ‌السلام کے فرمان کے مطابق، جو قرآن کو یاد رکھے اور اس پر عمل کرے، وہ قیامت میں اللہ کے پاک سفیروں کے ساتھ ہوگا۔[5]

روایات میں تلاوت سے پہلے اور بعد کی مخصوص دعائیں بھی بیان ہوئی ہیں. تلاوت قرآن پاک سے پہلے اس دعا کو پڑھنا روایت میں آیا ہے: اللَّهُمَّ إِنِّي قَدْ قَرَأْتُ مَا قَضَيْتَ لِي مِنْ كِتَابِكَ الَّذِي أَنْزَلْتَهُ عَلَی‌ نَبِيِّكَ الصَّادِقِ فَلَكَ الْحَمْدُ رَبَّنَا ، اسی طرح قرآن پاک کی تلاوت کے بعد اس دعا کو تلاوت کرنا بھی روایت میں وارد ہوا ہے اللَّهُمَّ اِشْرَحْ بِالْقُرْآنِ صَدْرِي وَ اِسْتَعْمِلْ بِالْقُرْآنِ بَدَنِي وَ نَوِّرْ بِالْقُرْآنِ بَصَرِي وَ أَطْلِقْ بِالْقُرْآنِ لِسَانِي

جو قرآن سے انسان کے تعلق کو مضبوط کرتی ہیں۔[6]

 اسی طرح پیغمبر اکرم صلی‌الله‌علیہ‌وآلہ نے امیرالمؤمنین علیہ‌السلام کو ہر حال میں قرآن کی تلاوت کی تاکید فرمائی، جو قرآن سے دائمی وابستگی کی اہمیت کو ظاہر کرتی ہے۔[7]

[1] ۔ الخصال، شیخ صدوق، جلد 2، ص 610
[2] ۔ بحارالأنوار، علامہ مجلسی، جلد 50، ص 211
[3] ۔ النحل 98
[4] ۔ کتاب سلیم بن قیس الهلالی، جلد 2، ص 849
[5] ۔ الکافی، شیخ کلینی، جلد 2، ص 603
[6] ۔ الاختصاص، شیخ مفید، جلد  1، ص 141؛ من لا یحضره الفقیه، شیخ صدوق، جلد 4، ص 188
[7] ۔ من لا یحضره الفقیه، جلد  4، ص 188

مزید مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے