سب سے زیادہ تلاش کیا گیا:

ابوالاسود دوئلی

ابوالاسود دوئلی: استعارۂ عشقِ امیر‌المومنین علیہ‌السلام

ابوالاسود دوئلی امیر‌المومنین علیہ‌السلام کے مخلص عاشق اور مکتب ولایت کے شعوری ترجمان تھے۔

تاریخ اسلام کے افق پر ابوالاسود دوئلی کا نام ایک درخشاں ستارے کی مانند تابندگی کے ساتھ جلوہ‌گر ہے۔ ان کی حیات علم و معرفت، فصاحت و بلاغت، اور عشق و وفا کے حسین امتزاج سے عبارت ہے۔

وہ نہ صرف ایک فاضل ادیب اور صاحب بصیرت شاعر تھے، بلکہ در حقیقت امیر‌المومنین علیہ‌السلام کے مخلص عاشق اور مکتب ولایت کے شعوری ترجمان تھے۔

ان کی شخصیت علم کی گہرائی، ایمان کی پختگی اور عشق علوی کی سچائی کا مجسم پیکر تھی۔ اُن کی وفاداری اور استقامت نے انھیں تاریخ تشیع میں جاوداں بنا دیا۔

اُن کا نام آج بھی صراط ولایت کے راہیوں کے لیے چراغ راہ ہے۔

محبت علوی: ایمان کی پختگی

ابوالاسود نے اپنے اشعار کے قالب میں عقیدت کے وہ رنگ بھرے جو محبت کی سچائی اور ایمان کی پختگی کے آئینہ دار ہیں۔ ان کی شاعری ایک ایسے دل کی گواہی ہے جو عشقِ علوی سے سرشار ہے۔

وہ اپنے معاندین، بنو قُشَیر، کے طعنوں کے جواب میں فرماتے ہیں: ب

نو قُشَیر کے پست طبع لوگ کہتے ہیں کہ ابوالاسود کبھی علی علیہ‌السلام کو نہیں بھولتا۔ میں محمد صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ سے والہانہ محبت رکھتا ہوں اور عباس، حمزہ اور وصی، یعنی علی علیہ‌السلام سے عشق کرتا ہوں۔[۱]

یہ اشعار درحقیقت ایمان کی صدا ہیں۔ ایک ایسی عقیدت کا اظہار جو وقت کے زنگ سے کبھی ماند نہیں پڑتی۔

بصیرت دُؤلی

جس دور میں اہلِ دنیا نے مصلحت کے پردوں میں خود کو چھپا لیا، اُس وقت ابوالاَسود نے بصیرت کی زبان میں حق و باطل کا فرق آشکار کیا۔

جب زیاد بن ابیہ نے ان سے محبت امیر‌المومنین علیہ‌السلام کی حقیقت پوچھی، تو انھوں نے تاریخ ساز جواب دیا:

علی علیہ‌السلام کی محبت میرے دل میں روز بروز بڑھتی جاتی ہے، جیسے تمھارے دل میں معاویہ کی محبت بڑھتی ہے۔ مگر فرق یہ ہے کہ میں علی علیہ‌السلام سے محبت کر کے خدا اور آخرت کا طلبگار ہوں اور تم معاویہ کی محبت کے ذریعے دنیا کی زینت چاہتے ہو۔[۲]

یہ جملہ تاریخ کے دامن میں ایک نعرۂ بصیرت بن گیا کہ محبت علی علیہ‌السلام، آخرت کا زاد راہ ہے، جبکہ محبت دنیا، دل کی بربادی ہے۔

وفاداری اور حق کی پہچان

وفاداری اور محبت اہل‌بیت علیہم‌السلام کا جوہر اس وقت نمایاں ہوتا ہے جب دنیا کی لذتیں اور مادی آزمائشیں ایمان کے مقابل آتی ہیں۔

حقیقی شیعہ وہ ہے جو دنیوی فائدے یا مصلحت کے لیے اپنے عقیدے و ولایت کو نہ بیچے۔ ابو الاسود دوئلی اور ان کی بیٹی کا واقعہ اسی خالص وفا اور یقین کی روشن مثال ہے۔

ابوالاسود کی وفاداری کا یہ عالم تھا کہ جب معاویہ نے انھیں حلوا بھیج کر امیر‌المومنین علیہ‌السلام کی محبت سے منحرف کرنے کی کوشش کی، تو اُن کی بیٹی نے اسے کھا کر واپس اُگل دیا اور کہا:

اے ہندہ کے بیٹے! کیا ہم زعفرانی حلوے کے بدلے اپنا اسلام اور دین تمھیں بیچ دیں؟ اللہ کی قسم، ایسا نہیں ہو گا، کیوں کہ ہمارے مولا امیر‌المومنین علیہ‌السلام ہیں۔[۳]

یہ استقامت حق کی پہچان کا اعلیٰ معیار ہے۔

سرچشمۂ نحو: مکتب ولایت سے فیض

مزید برآں، ابوالاسود عربی قواعد کے بانی بھی ہیں۔ مگر اُن کا علم کسی مکتب دنیوی سے نہیں، بلکہ مکتب ولایت سے پھوٹا۔

انھوں نے بیان کیا:

انھوں نے امیر‌المومنین علیہ‌السلام کو لحن (اعراب کی غلطی) کے متعلق فکر مند پایا، جس پر امیر‌المومنین علیہ‌السلام نے انھیں اصول عربیّہ کا خاکہ عطا فرمایا اور فرمایا: زِدهُ وَتَتَبَّعهُ۔[۴]

اور جب اُن سے پوچھا گیا کہ یہ علم کہاں سے ملا؟

تو انھوں نے جواب دیا: میں نے اس کی حدود علی بن ابی طالب علیہ‌السلام سے اخذ کیں۔[۵]

گویا علم نحو کی بنیاد الہام علوی سے پڑی۔ ابوالاسود دُوئلی نے یہ درس دیا کہ علم بغیر ولایت ناقص ہے اور محبت امیر‌المومنین علیہ‌السلام وہ چراغ ہے جو عقل و ادب دونوں کو منور کرتا ہے۔

مآخذ
[۱] تاریخ دمشق، جلد۲۵، ص۱۸۸

[۲] ربیع الأبرار، جلد۳، ص۴۷۹
[۳] الأربعون حديثا لمنتجب الدين بن بابويه: ص۸۱
[۴]  سیر أعلام النبلاء، جلد۴، ص۸۴
[۵] الاغاني، جلد۱۲، ص۳۴۸

مزید مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے