سب سے زیادہ تلاش کیا گیا:

حرم مقدس امیرالمومنین علیہ‌السلام میں "جب فرشتے رو پڑے” کے عنوان سے واقعہ عاشورا کی ڈرامائی پیشکش

حرم مقدس امیرالمومنین علیہ‌السلام نے اربعین کے ایام میں زائرین امام حسین علیہ‌السلام کی خدمت کے لیے اپنی خدماتی اور فکری سرگرمیوں کے سلسلے میں ایک مذهبی ڈرامہ پیش کیا ہے۔

حرم مقدس کے شعبہ فکری و ثقافتی امور نے "جب فرشتے رو پڑے” کے عنوان سے ایک خصوصی ڈرامہ پیش کیا ہے۔ یہ ڈرامہ نوجوان اداکاروں کی ایک ٹیم نے پیش کیا ہے تاکہ کربلا کے لازوال کارنامے کو جدید فکری اور جذباتی زاویے سے پیش کیا جا سکے۔

بیان کے انداز میں تنوع

حرم مقدس امیرالمومنین علیہ‌السلام  کے شعبہ فکری و ثقافتی امور کے سربراہ کرار الحلو نے خبررساں مرکز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا: "داستان حسینی ایک انسانی اور لازوال داستان ہے جو ہر زمانے میں اپنے مخصوص  تصورات اور ذرائع سے تازہ ہوتی ہے اور اپنے دور کی زبان میں لوگوں سے بات کرتی ہے۔ اس لیے بیان کے انداز میں تنوع ضروری ہے۔ یہ ڈرامہ پیغام عاشورا کو بیان کرنے اور اس کی علامات و انسانی جہات کو اس انداز میں منتقل کرنے کی نئی جہتوں میں سے ایک ہے جو دنیا بھر کے مومنین اور آزادوں کے دل و جان پر اثر انداز ہو۔”

امام حسین علیہ‌السلام  کی بہادری کا مقابلہ

اس شعبے کے ذمہ داران میں سے شیخ حسنین قفطان نے اس سلسلے میں کہا: "یہ ڈرامہ خیر اور شر کے درمیان جنگ کی عکاسی کرتا ہے، اور اس بہادرانہ مقابلے کو پیش کرتا ہے جو امام حسین علیہ‌السلام  نے اپنے اہل بیت اور پاکیزہ اصحاب کے ساتھ ظلم اور انحراف کی قوتوں کے خلاف کیا، جو حقیقت کو مٹانے اور دنیا بھر میں ظلم پھیلانے کے درپے تھیں۔”

امام حسین علیہ‌السلام  آزاد انسانوں کے پیشوا

انہوں نے مزید کہا: "یہ ڈرامہ محض ایک تاریخی واقعے کی بازگوئی نہیں ہے، بلکہ یہ ماضی کو حال سے جوڑتا ہے اور اس بات پر زور دیتا ہے کہ امام حسین علیہ‌السلام  آج بھی آزاد انسانوں کے ضمیر میں زندہ ہیں اور ان کی صدا ہر اس شخص کی زبان پر جاری ہے جو حق کا طلبگار ہے اور امر بالمعروف و نہی عن المنکر کا عملی مظہر ہے۔”

نیز قفطان نے وضاحت کی:
"اس ڈرامے میں یزید کا کردار محض ایک تاریخی چہرہ نہیں ہے، بلکہ یہ اس ظلم کی علامت ہے جو ہر زمانے اور مکان میں دہرایا جاتا ہے، اور اس کا مقابلہ ہتھیار سے پہلے الفاظ سے اور موقف سے پہلے کرن سے شروع ہوتا ہے۔”

تحریک حسینی کے اصولوں کا اثبات

انہوں نے آخر میں کہا: "یہ ڈرامہ ان ثقافتی اور فکری سرگرمیوں کا حصہ ہے جو تحریک امام حسین علیہ‌السلام  کے اصولوں کو مستحکم کرنے اور اس کی ابھرتی ہوئی انسانی جہات کو فنی اور ڈرامائی زبان میں پیش کرنے کے مقصد سے منعقد کی جا رہی ہیں۔ یہ وہ زبان ہے جو پہلے سامع کے ضمیر سے اور پھر اس کی عقل سے بات کرتی ہے۔”

مزید مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے