حرم مقدس امیرالمؤمنین علیہالسلام میں ’’انتظار آرٹ‘‘ کے عنوان سے 100 سے زائد فن پارے پیش کیے گئے جو انتظار کے روحانی و انسانی مفاہیم سے متاثر ہیں، یہ عراق میں اپنی نوعیت کا پہلا عالمی ایونٹ ہے۔
حرم مقدس امیرالمؤمنین علیہالسلام میں ’’انتظار آرٹ‘‘ کے عنوان سے پیش کیے جانے والے 100 سے زائد فن پارے جو فنکاروں کی تخلیقی صلاحیتوں کو ’’انتظار‘‘کے روحانی و انسانی مفاہیم کے ساتھ جوڑتے ہیں، اس ایونٹ کی کامیابی کو اجاگر کرتے ہیں،یہ ایونٹ عراق میں اپنی نوعیت کا پہلا عالمی فنون تجسمی ایونٹ تھا۔
حرم مقدس کے میڈیا شعبے کے عہدیدار اور مجلس نظما کے رکن جعفر البدیری نے میڈیا سینٹر سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حرم مقدس امیرالمؤمنین علیہالسلام کے متولی، سید عیسی الخرسان نے مختلف نوعیت کے فن پاروں کی نمائش کا افتتاح کیا، جن میں پینٹنگز، ڈیزائنز، قلمی نسخے شامل ہیں، یہ فن پارے رویداد ’’انتظار آرٹ‘‘ کے دوران تخلیق کیے گئے تھے اور یہ رمضان کے دوران حرم مقدس امیرالمؤمنین علیہالسلام کی دائمی نمائش گاہ میں عوام کے لیے پیش کیے جائیں گے۔
قاف آرٹ و میڈیا فائنڈیشن کے ڈائریکٹر مصطفی عادل نے کہا کہ پیش کردہ آثار موضوع اور انداز میں انتہائی متنوع ہیں، فنکاروں نے اپنے کاموں کو قرآن کی آیات، معصومین علیہمالسلام کے اقوال، خاص طور پر امام زمانہ عجلاللهفرجهالشریف اور دعاؤں جیسے دعائے ندبہ سے متاثر ہو کر تخلیق کیا ہے، اس سے ان فن پاروں میں روحانیت اور دینی پہلو جھلک رہا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس موقع پر ثقافتِ اہل بیت علیہمالسلام، فلسفۂ انتظار اور موعود منتظر کے تصور کو بصری آرٹ کے ذریعے پیش کیا گیا ہے؛ جو ہر فن پارے میں ایک خاص پیغام اور فنکار کا تجربہ شامل ہے۔ قاف فاؤنڈیشن حرم مقدس امیرالمؤمنین علیہالسلام کی مسلسل حمایت اور کوششوں کا شکر گزار ہے نیز حرم مقدس کے متولی اور میڈیا کے شعبہ کے سربراہ کا بھی شکریہ ادا کرتا ہے۔
یاد رہے کہ ’’انتظار آرٹ‘‘ ایونٹ میں دنیا کے مختلف ممالک جیسے بھارت، چین، مالیزیا، بحرین، امارات، کویت، ایران، برازیل، ازبکستان، عمان، شام، لبنان اور عراق کے فنکاروں نے شرکت کی، جس سے یہ ثابت ہوا کہ بصری آرٹ دنیا کے مختلف ملکوں کے درمیان ایک پل کا کردار ادا کر سکتے ہیں اور مشترکہ انسانی اقدار کو مستحکم کر سکتے ہیں۔












