آخرالزمان
لفظ "آخرالزمان” دو عمومی معانی میں استعمال ہوا ہے:
وہ زمانہ جو رسول اکرم کی ولادت سے شروع ہوا اور قیامت پر ختم ہوگا، اسی بنا پر آپ کو نبی آخرالزمان کہا جاتا ہے۔
وہ دور جو امام زمانہؑ کی ولادت سے شروع ہوتا ہے، جس میں غیبت اور ظہور کے واقعات رونما ہوتے ہیں اور قیامت پر اختتام پذیر ہوتا ہے۔
آخرالزمان کے لوگوں کی مذمت
بہت سی روایات میں آخرالزمان کے بعض لوگوں کی برائی بیان ہوئی ہے، جو اہل بیتؑ کی تعلیمات پر عمل نہیں کرتے۔
امیرالمؤمنینؑ فرماتے ہیں:
"ایک زمانہ آئے گا جب چغل خور مقرب بن جائیں گے، بدکاروں کو ہوشیار کہا جائے گا، انصاف کرنے والوں کو کمزور سمجھا جائے گا، صدقہ اور خیرات کو نقصان تصور کیا جائے گا، رشتہ داری کو احسان جتا کر نبھایا جائے گا، اور عبادت کو فخر کا ذریعہ بنایا جائے گا۔ اس وقت حکومت عورتوں کے مشوروں، بچوں کی امارت اور خواجاؤں کی تدبیر سے چلے گی۔”
آخرالزمان کی عورتوں کی حالت
امیرالمؤمنینؑ نے فرمایا:
"آخری زمانے میں ایسی عورتیں ظاہر ہوں گی جو بے پردہ ہوں گی، زینت ظاہر کرتی ہوئی بازاروں میں گھومیں گی، دین سے دور ہوں گی، فتنوں میں مبتلا ہوں گی، خواہشات کی پیروی کریں گی اور حرام کو حلال سمجھیں گی۔ ایسی عورتیں جہنم میں جائیں گی۔”
علماء کی گمراہی
آپؑ فرماتے ہیں:
"آخرالزمان کے فقیہ اپنی خواہش کے مطابق فتویٰ دیں گے، قاضی لاعلمی میں فیصلے کریں گے، جھوٹی گواہی عام ہوگی، مالدار باعزت اور غریب ذلیل سمجھا جائے گا۔”
دجال کا خروج
امیرالمؤمنینؑ نے فرمایا کہ دجال اس وقت ظاہر ہوگا جب:
نماز ترک کی جائے گی
امانت میں خیانت ہوگی
جھوٹ حلال سمجھا جائے گا
سود اور رشوت عام ہوگی
دین کو دنیا کے بدلے بیچا جائے گا
ظلم کو فخر سمجھا جائے گا
فساد کا پھیلاؤ
آپؑ فرماتے ہیں:
"ایک زمانہ آئے گا جب لوگوں کی فکر صرف پیٹ ہوگی، عزت مال سے ہوگی، قبلہ عورتیں ہوں گی، اور دین پیسے کے تابع ہوگا۔ یہ بدترین لوگ ہوں گے۔”
اور فرمایا:
"نہ بڑے کا احترام ہوگا نہ چھوٹے پر رحم، لوگ ایک دوسرے کو بلا وجہ قتل کریں گے۔”
ظلم کی فراوانی
روایت میں ہے:
"زمین ظلم سے بھر جائے گی یہاں تک کہ اللہ کا نام بھی علانیہ نہیں لیا جائے گا، پھر خدا نیک لوگوں کو لائے گا جو زمین کو عدل سے بھر دیں گے۔”
جھوٹ کا رواج
امیرالمؤمنینؑ فرماتے ہیں:
"قائمؑ کے ظہور سے پہلے دھوکے کے سال آئیں گے، سچے جھوٹے اور جھوٹے سچے سمجھے جائیں گے، فریبی لوگ بااثر ہوں گے اور نااہل لوگ عوامی امور میں بولنے لگیں گے۔”
آخرالزمان کے نیک لوگوں کی مدح
سخت حالات کے باوجود جو لوگ اپنے دین پر ثابت قدم رہیں گے ان کی بہت تعریف کی گئی ہے۔
امیرالمؤمنینؑ فرماتے ہیں:
"غیبت کے زمانے میں دین پر وہی قائم رہیں گے جن کے دلوں میں یقین راسخ ہوگا اور جن پر اللہ نے ایمان ثبت کر دیا ہوگا۔”
اور فرمایا:
"جو اس دور میں دین پر ثابت قدم رہا وہ قیامت کے دن میرے درجے میں ہوگا۔”
