حرم مقدس امیرالمؤمنین علیہالسلام نے عراق اور شام کی سرحدوں کی طرف جانے والے کاروان کی سرپرستی اور حمایت اپنے ذمے لی، یہ کاروان اپنے ہمراہ امدادی سازوسامان، تبرکی ہدیے اور معنوی حمایت کے پیغامات لے کر روانہ ہوا۔ یہ اقدام حرم مقدس امیرالمؤمنین علیہالسلام کی جانب سے وطن کی حفاظت کرنے والے فرزندان قوم و ملت کے لیے گہری توجہ اور حمایت کی عکاسی کرتا ہے۔
حرم مقدس امیرالمؤمنین علیہالسلام کے شعبۂ امورِ فکری و ثقافتی سے وابستہ شیخ عادل السودانی نے میڈیا سینٹر سے گفتگو کرتے ہوئے تاکید کی کہ یہ اقدام اُن جیالوں کے تئیں احساس ذمہ داری سے جنم لیتا ہے جو عزت و کرامت کے محاذوں پر ڈٹے ہوئے ہیں نیز حرم مقدس امیرالمؤمنین علیہالسلام کے اس عزم کو ظاہر کرتا ہے کہ وہ میدان میں مجاہدین کے شانہ بشانہ موجود رہ کر ان کے ارادوں کو مضبوط اور حوصلوں کو بلند کرتا ہے
انہوں نے مزید کہا کہ حرم مقدس امیرالمؤمنین علیہالسلام کے متولی اور خدام کی طرف سے مجاہدین کو سلام بھی پہنچایا گیا تاکہ وطن کی سرحدوں کے دفاع میں ان کی قربانیوں اور کوششوں کا اعتراف کیا جا سکے۔
حرم مقدس امیرالمؤمنین علیہالسلام کے شعبۂ رابطۂ عامہ سے مازن صاحب نے کہا کہ حرم مقدس کا کردار اس کے مختلف شعبوں، خصوصاً رابطۂ عامہ، دینی امور، تبلیغ اور موکبوں کی مدد نیز سیکیورٹی فورسز و الحشدالشعبی کے لیے ہر قسم کی حمایت کی فراہمی میں نمایاں ہوتا ہے؛ یہ حمایت ذمہ داری، وطن دوستی اور دینی و انسانی عہد کو مجسم کرتی ہے۔
نجف اشرف میں لاجسٹک پشت پناہی کے ذمہ دار جناب عقیل شکر نے اس کاروان کے لیے حرم مقدس امیرالمؤمنین علیہالسلام کے اقدام اور حمایت کو سراہتے ہوئے مجاہدین تک تبرکی تحائف کی منتقلی کو معنوی تقویت کا مؤثر قدم قرار دیا۔
یاد رہے کہ حرم مقدس امیرالمؤمنین علیہالسلام ہمیشہ اپنے قومی اور انسانی فرائض کی انجام دہی کے میدان میں وطن کے محافظین کے ساتھ کھڑا رہا ہے ۔

















