میلاد امیرالمؤمنین علیہالسلام کے مبارک موقع پر حرم مقدس امیرالمؤمنین علیہالسلام کے ایوان طلا کی نئی طلاکاری کے منصوبے کی باضابطہ رونمائی کی تقریب منعقد ہوئی، جس میں علما، سماجی شخصیات اور زائرین کی بڑی تعداد شریک ہوئی۔
حرم مقدس امیرالمؤمنین علیہالسلام نے امیرالمؤمنین علیہالسلام کے یومِ ولادت کے موقع پر ایوان طلا کی نئی طلاکاری کے منصوبے کی باضابطہ رونمائی کی۔ یہ تقریب حرم مقدس امیرالمؤمنین علیہالسلام میں حرم مقدس علوی کے متولی کی موجودگی میں منعقد ہوئی۔ اس میں مراجع تقلید کے نمائندگان، حوزۂ علمیہ کے فضلاء، شیعہ وقف بورڈ کے ذمہ داران، مختلف حرموں اور مزاراتِ مقدسہ کے متولی، مقامی حکومت کے حکام، علمی و قبائلی شخصیات اور زائرین کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ یہ تقریب مولائے متقیان علیہالسلام کی ولادت باسعادت کے مبارک ایام کے ساتھ منعقد ہوئی۔
تقریب کا آغاز تلاوتِ قرآنِ کریم سے ہوا، جس کے بعد حرم مقدس امیرالمؤمنین علیہالسلام کے متولی سید عیسیٰ الخرسان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج کا دن حمد و شکر کا دن ہے اور اللہ تعالیٰ کی ایک نعمت کے ظہور کا دن ہے، کیونکہ یہ رواق امیرالمؤمنین علیہالسلام کی بارگاہ کے دروازے پر، جو مؤمنین کے دلوں کا قبلہ اور حاجات کی قبولیت کا مقام ہے، افتتاح کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حرم مقدس امیرالمؤمنین علیہالسلام کے خدام نے جس باریک بینی، لگن اور خوبصورتی کے ساتھ اس منصوبے کو مکمل کیا، وہ زینت یا فخر کے لیے نہیں بلکہ شعائرِ الٰہی کی تعظیم کا مظہر ہے، جیسا کہ قرآنِ کریم میں ارشاد ہے کہ جو شخص شعائرِ الٰہی کی تعظیم کرتا ہے، یہ دلوں کے تقویٰ کی نشانی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ زرّیں ایوان بظاہر ایک خاموش عمارت ہے لیکن حقیقت میں گویا زبان رکھتا ہے، جو اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ حرم مقدس امیرالمؤمنین علیہالسلام میں انجام پانے والا ہر کام امیرالمؤمنین علیہالسلام کے مکتب کی خدمت اور ان کے چاہنے والوں کی معرفت و محبت کی علامت ہے۔
انہوں نے زائرین کو متوجہ کیا کہ اس ایوان سے گزرتے وقت وہ صرف ظاہری حسن پر اکتفا نہ کریں بلکہ اس کی معنوی حقیقت کو بھی پیشِ نظر رکھیں، آخر میں انہوں نے طلاکاری ورکشاپ کے فنی، انتظامی اور معاون عملے سمیت تمام متعلقہ شعبہ جات کا خلوص و محبت کے ساتھ کام کرنے پر شکریہ ادا کیا۔
بعد ازاں حوزۂ علمیہ نجف اشرف کی نمائندگی کرتے ہوئے سید احمد اشکوری نے خطاب کیا اور کہا کہ حرم مقدس امیرالمؤمنین علیہالسلام شیعوں میں ایک معنوی اور الہام بخش شناخت رکھتا ہے اور اسی گہرے زاویے سے ایوان طلا کی تعمیر نو کی اہمیت واضح ہوتی ہے، ان کے مطابق یہ اقدام محض ایک انجینئرنگ منصوبہ نہیں بلکہ ایک معرفتی فیصلہ اور شعوری معماری کی جھلک ہے جو اس مقام کے پیغام اور قداست کی عکاسی کرتا ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ امیرالمؤمنین علیہالسلام کی خدمت صرف پتھر اور سونے تک محدود نہیں بلکہ خلوصِ نیت، گہری بصیرت اور بڑے کاموں کی درست بنیاد رکھنے میں مضمر ہے، اور حرم مقدس امیرالمؤمنین علیہالسلام کے متولی کی کوششوں کو سراہا۔
اس کے بعد شاعر معتصم السعدون نے اس مناسبت پر منظوم کلام پیش کر کے تقریب کو ادبی رنگ دیا، پھر سید عیسیٰ الخرسان نے طلاکاری ورکشاپ سے وابستہ انجینئرنگ اور تعمیراتی شعبے کے خدام کے ایک گروہ کو سراہتے ہوئے اس بابرکت منصوبے کی تکمیل میں ان کی مخلصانہ خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا، تقریب کے اختتام پر حرم مقدس امیرالمؤمنین علیہالسلام کے گروہِ تواشیح نے امیرالمؤمنین علیہالسلام کی محبت میں نعتیہ کلام پیش کیا۔
یہ کامیابی حرم مقدس امیرالمؤمنین علیہالسلام کی ان مسلسل کوششوں کا حصہ ہے جو عظیم دینی مناسبتوں کی تعظیم، نمایاں تعمیراتی و معماری منصوبوں کی تکمیل اور حرم مقدس کے بنیادی ڈھانچے نیز نجف اشرف کے قدیم شہری علاقے کی ترقی کے لیے جاری ہیں۔ یہ اقدامات زائرین کو بہتر سہولیات فراہم کرنے اور اس مقدس شہر کی تاریخی و دینی شناخت کو محفوظ رکھنے کے لیے انجام دیے جا رہے ہیں۔




















