حرم مقدس امیرالمؤمنین علیہالسلام میں’’میراث‘‘ کے موضوع پر منعقد ہونے والی دوسری بین الاقوامی کانفرنس اختتام پذیر ہوئی جس میں 9 ممالک کے محققین نے شرکت کی اور 90 سے زائد علمی تحقیقات پیش کی گئیں، جبکہ محققین اور مصححین کی خدمات کو سراہا گیا۔
حرم مقدس امیرالمؤمنین علیہالسلام نے مجمع علوی برائے تحقیقات و اسلامی مطالعات کی نمائندگی کرتے ہوئے، اس دو روزہ کانفرنس کو کامیابی کے ساتھ اختتام تک پہنچایا،اس کانفرنس کا مقصد نجف اشرف کی علمی و تمدنی میراث کو اجاگر کرنا اور اس کے تحریری ذخیرے پر تحقیقی روشنی ڈالنا تھا۔
مؤلفین، مصححین اور محققین کی قدر دانی
مجمع علوی برائے تحقیقات و اسلامی مطالعات کے سربراہ شیخ سلام الناصری نے میڈیا سینٹر سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کانفرنس کے اختتامی اجلاس میں اُن مؤلفین کی حوصلہ افزائی کی گئی جن کی تصانیف کی رونمائی عمل میں آئی نیز اُن مصححین کو بھی خراجِ تحسین پیش کیا گیا جنہوں نے ورثہ جاتی مخطوطات کی تصحیح میں خدمات انجام دیں، اس کے علاوہ کانفرنس میں شریک محققین اور معزز مہمانوں کی بھی قدردانی کی گئی۔
نجف کی میراث کی عکاسی کرنے والے مخطوطات پر تحقیق و تصحیح
انہوں نے مزید کہا کہ ’’میراث‘‘دوسری بین الاقوامی کانفرنس اُن اہم علمی اجتماعات میں سے ہے جو نجف اشرف اور دیگر علمی خزانوں میں محفوظ نجفی مکتوب میراث کو نمایاں کرتی ہے۔ اس کانفرنس کا مقصد نایاب مخطوطات اور ان میں پوشیدہ علمی جواہرات کو متعارف کرانا اور اہلِ علم و میراث کے محققین کو ان کی اہمیت سے آگاہ کرنا ہے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ یہ کانفرنس نجف اور دوسری جگہوں کے علمی خزانوں میں موجود اُس تمدنی، فکری اور علمی میراث کی تحقیق و تصحیح کی ضرورت کو اجاگر کرتی ہے جو نجف اشرف کے علمی مقام کو مستند بناتا ہے۔
نجفی مکتوب میراث کے ماہر محققین کی شمولیت
کانفرنس کی علمی کمیٹی کے سربراہ پروفیسر ڈاکٹر ہادی التمیمی نے کہا کہ حرم مقدس امیرالمؤمنین علیہالسلام کی سرپرستی اور مجمع علوی برائے تحقیقات و اسلامی مطالعات کی مسلسل کوششوں کے نتیجے میں، کانفرنس کی علمی کمیٹی نے پورا ایک سال نجفی مکتوب میراث اور مخطوطاتی خزانوں کے ماہر مصنفین و محققین کو مدعو کرنے کے لیے کام کیا، خواہ وہ نجف اشرف میں ہوں یا دنیا کے دیگر علمی مراکز میں جہاں نجفی میراث محفوظ ہے۔
انہوں نے بتایا کہ اس عمل کے دوران 90 سے زائد تحقیقی مقالات موصول ہوئے، جن میں سے 58 تحقیقی مقالے منظور کیے گئے اور کانفرنس میں پیش کیے گئے،کمیٹی کا ارادہ ہے کہ منظور شدہ تحقیقات کو اس کانفرنس کے لیے ایک خصوصی علمی مجلہ کی صورت میں شائع کیا جائے۔
محققین کی حوصلہ افزائی
قابلِ ذکر ہے کہ کانفرنس کے اختتامی اجلاس میں کانفرنس میں حصہ لینے والے محققین اور منتظمین کو اعزازی اسناد پیش کی گئیں۔
یہ کانفرنس چھ بنیادی علمی محاور پر مشتمل تھی، جن پر صبح و شام کے سیشنز میں، تمہیدی نشستوں کے علاوہ، تفصیلی علمی مباحث پیش کی گئیں۔





















