امام محمد تقی علیہالسلام امت کے راہنما، ائمہ طاہرین علیہماالسلام کے وارث، رحمت کا خزانہ، حکمت کا سرچشمہ، برکت کے پیشوا، اخلاص کی علامت، بلند مرتبہ حجت، مخلوق کو حق کی طرف دعوت دینے والے، قرآن کے مفسر، دین کے مددگار، بندوں پر اللہ کی حجت اور انسانوں کے مقتدا و ہادی تھے۔
صبر اور ضبط نفس بھی حضرت کی نمایاں صفات تھیں، امام علیہالسلام کا صبر خاص و عام میں مشہور تھا، لوگوں کے ساتھ نرمی اور بردباری سے پیش آنا بھی آپ کے عملی اخلاق کا ایک روشن پہلو تھا، جو آپ علیہالسلام کے کمالات اور اخلاقی فضائل میں شمار ہوتا ہے۔
امام محمد تقی علیہالسلام کے اقوال مبارک میں اخلاقی تربیتی اصول باخوبی نمایاں ہیں،آپ صبر کو زندگی کا بنیاد قرار دیتے ہیں اور فرماتے ہیں: ’’تَوَسَّدِ الصَّبْرَ‘‘ یعنی صبر پر تکیہ کرو، یہاں صبر محض برداشت نہیں بلکہ وہ داخلی قوت ہے جو انسان کو اضطراب، جلدبازی اور کمزوری سے محفوظ رکھتی ہے،اسی صبر کے تسلسل میں تنگدستی کے بارے میں ارشاد فرماتے ہیں: ’’اعْتَنِقِ الْفَقْرَ‘‘ یعنی تنگدستی کو برداشت کرو،اس کلام میں فقر کو محرومی نہیں بلکہ آزمائش کے طور پر قبول کرنے کی دعوت دی گئی ہے، جو انسان کو شکوہ اور شکایت سے دور رکھتی ہے۔
امام محمد تقی علیہالسلام اخلاقی انحراف کے ایک بڑے سبب کی طرف متوجہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ’’ارْفَضِ الشَّهَوَاتِ‘‘ یعنی شہوتوں کو چھوڑ دو،شہوتیں جب قابو سے نکل جائیں تو عقل اور دین دونوں کو کمزور کر دیتی ہیں، اسی مفہوم کو آگے بڑھاتے ہوئے فرمایا: ’’خَالِفِ الْهَوَى‘‘ یعنی ہوائے نفس کی مخالفت کرو، کیوں کہ نفس کی پیروی انسان کو حق سے دور اور خواہش کا اسیر بنا دیتی ہے۔
ان تمام اصولوں کی بنیاد ایک ہمہ گیر شعور پر رکھی گئی ہے، جسے امام محمد تقی علیہالسلام ان الفاظ میں بیان فرماتے ہیں: ’’اعْلَمْ أَنَّكَ لَنْ تَخْلُوَ مِنْ عَيْنِ اللَّهِ‘‘ یعنی جان لو کہ تم اللہ کے محضر سے باہر نہیں نکل سکتے۔ یہ احساس انسان کے ہر عمل کو ذمہ داری، احتیاط اور اخلاص سے جوڑ دیتا ہے۔
یہ پانچ اصول، جو امام محمد تقی علیہالسلام کے کلام میں یکجا ہوئے ہیں، انسان کو صبر سے ضبط، فقر سے وقار، خواہش سے پرہیز، نفس سے مجاہدہ اور شعورِ الٰہی سے تقویٰ تک لے جاتے ہیں۔[1]
[1] ۔ تحف العقول، ابن شعبہ حرانی، جلد 1، ص455

