سب سے زیادہ تلاش کیا گیا:

پرہیزگار روزہ داروں کی صفات

رمضان المبارک میں ہر روز امیرالمؤمنین علیہ‌السلام کا نورانی کلام پیش کیا جاتا ہے تاکہ اس بابرکت مہینے میں اس ہدایت افروز کلام سے فیض حاصل کر سکیں۔

رمضان المبارک میں ہر روز امیرالمؤمنین علیہ‌السلام کا نورانی کلام پیش کیا جاتا ہے تاکہ اس بابرکت مہینے میں اس ہدایت افروز کلام سے فیض حاصل کر سکیں۔

رمضان المبارک میں احادیثِ علوی کے عنوان سے ہر روز خصوصی طور پر امیرِ بیان، حضرت امیرالمؤمنین علی علیہ‌السلام کا بلیغ اور نورانی کلام پیش کیا جا رہا ہے تاکہ ہدایت ‌افروز اور گوہر بار الفاظ ہمارے دلوں کو منور کریں اور ہمیں عبادت و بندگی کے اس بابرکت مہینے سے زیادہ سے زیادہ فیض حاصل کرنے کا موقع ملے۔

 آٹھویں دن کی حدیث

امیرالمؤمنین علیہ‌السلام نے فرمایا:

إِنَّ تَقْوَى اللهِ حَمَتْ أَوْلِيَاءَ اللهِ مَحَارِمَهُ، وَ أَلْزَمَتْ قُلُوبَهُمْ مَخَافَتَهُ، حَتَّى أَسْهَرَتْ لَيَالِيهِمْ، وَ أَظْمَأَتْ هَوَاجِرَهُمْ، فَأَخَذُوا الرَّاحَةَ بِالنَّصَبِ، وَ الرِّىَّ بِالظَّمَإِ، وَ اسْتَقْرَبُوا الْأَجَلَ، فَبَادَرُوا الْعَمَلَ، وَ كَذَّبُوا الْأَمَلَ، وَ لَاحَظُوا الْأَجَلَ

خدا کا تقویٰ، خدا کے دوستوں کو اُس کے حرام کردہ امور سے باز رکھتا ہے اور ان کے دلوں میں اُس کا خوف پیدا کرتا ہے یہاں تک کہ وہ خوفِ خدا کی وجہ سے راتوں کو بیدار رہتے ہیں اور دن کے گرم اوقات میں پیاس برداشت کرتے ہیں ، انہوں نے راحت پر مشقت کو ترجیح دی،سیرابی کے مقابلے میں تشنگی کو پسند کیا، اپنی اجل کو قریب پایا،پس نیک عمل میں جلدی کی، طویل آرزوؤں کو جھوٹا سمجھا اور کبھی موت کو اپنی نگاہوں سے اوجھل نہ ہونے دیا۔

نہج البلاغہ، خطبہ 114