امیرالمؤمنین علیہالسلام نے عیدِ فطر کے دن خطبہ ارشاد فرمایا اور اس میں نیک بندوں کو بشارت دی اور باطل کاروں کو تنبیہ فرمائی۔
امام جعفر صادق علیہالسلام سے روایت ہے کہ امیرالمؤمنین علیہالسلام ایک بار عید فطر کے دن خطبہ ارشاد فرمایا جس میں نیک بندوں کو بشارت دی۔
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
خَطَبَ أميرُ المُؤمِنينَ عَلِيُّ ابنُ أبي طالِبٍ عليه السلام يَومَ الفِطرِ فقالَ :
أَيُّهَا اَلنَّاسُ، إِنَّ يَوْمَكُمْ هَذَا يَوْمٌ يُثَابُ فِيهِ اَلْمُحْسِنُونَ وَ يَخْسَرُ فِيهِ اَلْمُبْطِلُونَ، وَ هُوَ أَشْبَهُ بِيَوْمِ قِيَامِكُمْ،
فَاذْكُرُوا بِخُرُوجِكُمْ مِنْ مَنَازِلِكُمْ إِلَى مُصَلاَّكُمْ خُرُوجَكُمْ مِنَ اَلْأَجْدَاثِ إِلَى رَبِّكُمْ،
وَ اُذْكُرُوا بِوُقُوفِكُمْ فِي مُصَلاَّكُمْ وُقُوفَكُمْ بَيْنَ يَدَيْ رَبِّكُمْ، وَ اُذْكُرُوا بِرُجُوعِكُمْ إِلَى مَنَازِلِكُمْ رُجُوعَكُمْ إِلَى مَنَازِلِكُمْ فِي اَلْجَنَّةِ!
عِبَادَ اَللَّهِ، إِنَّ أَدْنَى مَا لِلصَّائِمِينَ وَ اَلصَّائِمَاتِ أَنْ يُنَادِيَهِمْ مَلَكٌ فِي آخِرِ يَوْمٍ مِنْ شَهْرِ رَمَضَانَ: أَبْشِرُواعِبَادَ اَللَّهِ؛
فَقَدْ غُفِرَ لَكُمْ مَا سَلَفَ مِنْ ذُنُوبِكُمْ، فَانْظُرُوا كَيْفَ تَكُونُونَ فِيمَا تَسْتَأْنِفُونَ؟!
اے لوگو! تمہارا یہ دن ایسا دن ہے جس میں نیکوکاروں کو اجر عطا کیا جاتا ہے اور اہلِ باطل خسارے میں رہ جاتے ہیں، یہ دن قیامت کے دن سے نہایت ہی مشابہ ہے پس جب اپنے گھروں سے عیدگاہ کی طرف نکلتے ہوئے اپنی قبروں سے اپنے رب کی جانب اٹھائے جانے کو یاد کرو اور جب عیدگاہ میں کھڑے ہو تو اس وقت کو یاد کرو جب تم اپنے رب کے حضور کھڑے کیے جاؤ گے اور جب اپنے گھروں کو پلٹو تو اس بازگشت کو یاد کرو جب تم اپنے جنت کے گھروں کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔
اے اللہ کے بندو! روزہ دار مرد و عورت کا کم سے کم اجر یہ ہے کہ ماه رمضان کے آخری دن ایک فرشتہ انہیں ندا دیتا ہے: خوشخبری ہو تمہیں اے اللہ کے بندو! تمہارے گزشتہ گناہ بخش دیے گئے، اب خیال رکھنا، جو نیا آغاز تم کرنے جا رہے ہو اس میں تمہارے اعمال کیسے ہونے چاہیے۔
تنبیہ الخواطر و نزهة النواظر، جلد 2، صفحہ 157۔