سب سے زیادہ تلاش کیا گیا:

امیر‌المومنین علیہ‌السلام اور امام حسن علیہ‌السلام کی سیرت میں تسلسلِ امامت

۷ صفر، کریم اہل‌بیت علیہم‌السلام، حضرت امام حسن مجتبیٰ علیہ‌السلام کی شہادت کا دن ہے۔ آپ صلی‌الله‌علیہ‌وآلہ نہ صرف امیرالمومنین علیہ‌السلام کے فرزند اور وارث تھے، بلکہ عقیدے اور عمل کے میدان میں اپنے والدِ گرامی کے تمام اوصاف کمال اور مقامِ الٰہی کے آئینہ دار بھی تھے۔ یہ گہرا ربط آپ علیہ‌السلام کے علمی خطبات اور میدان جنگ میں آپ علیہ‌السلام کی بے مثال شجاعت میں نمایاں ہوتا ہے۔

امام حسن مجتبیٰ علیہ‌السلام کی زندگی امامت اور اپنے والد بزرگوار کی جانشینی کی بھاری ذمہ داریوں سے عبارت تھی۔

ان دونوں ائمۂ بزرگوار کی زندگی میں فکر و نظریے، دفاعِ حق اور اعتقادی اصولوں میں گہری ہم آہنگی نظر آتی ہے۔

جنگِ جمل کے گرد و غبار میں آپ علیہ‌السلام نے والد کے شانہ بشانہ عدل کی شمشیر اٹھائی۔

والد کی شہادت کی صبح کوفہ کے منبر پر امت کے سامنے امیرالمومنین علیہ‌السلام کا بلند مقام بیان فرمایا۔

یہ رفاقت صرف رسالت کے تسلسل کی عکاس نہیں تھی۔ بلکہ دینِ خدا کی سربلندی کے لیے ان بزرگوار ہستیوں کے مشترکہ مقصد کو بھی نمایاں کرتی تھی۔

شہادت کا واقعہ

امام حسن مجتبیٰ علیہ‌السلام ۷ صفر سنہ ۵۰ ہجری قمری کو شہید ہوئے۔ آپ علیہ‌السلام کو معاویہ کی سازش کے نتیجے میں آپ کی زوجہ جعدہ نے زہر دیا تھا۔

بنی امیہ کی ریشہ دوانیاں آپ علیہ‌السلام کی شہادت کے بعد بھی جاری رہیں۔ آپ کو رسول خدا صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ کے جوار میں دفن ہونے سے روک دیا گیا۔

چنانچہ آپ علیہ‌السلام کے پیکر مطہر کو جنت البقیع میں سپرد خاک کیا گیا۔

امام حسن علیہ‌السلام کی ذمہ داریاں

امیرالمومنین علیہ‌السلام کی شہادت کے بعد امام حسن علیہ‌السلام نے اپنے والد گرامی کی جانشینی اور وصایت سنبھالی۔

آپ علیہ‌السلام نے اہل خانہ، اصحاب، موقوفہ اموال اور امورِ خیر کی سرپرستی کی ذمہ داری بھی نبھائی۔[۱]

والد گرامی کی جانب سے تحسین

امیر‌المومنین علیہ‌السلام نے اپنے فرزند امام حسن علیہ‌السلام سے فرمایا کہ لوگوں کے سامنے خطاب کریں۔

امام حسن علیہ‌السلام نے خطبہ دیا اور اس کے بعد امیر‌المومنین علیہ‌السلام نے اپنے فرزند کو شفقت و محبت سے نوازا۔

ابوالجارود امام باقر علیہ‌السلام اور امام صادق علیہ‌السلام کے اصحاب اور معروف مفسرین میں شمار ہوتے ہیں۔

وہ امام باقر علیہ‌السلام سے روایت کرتے ہیں کہ آپ علیہ‌السلام نے فرمایا:

«امیر‌المومنین علیہ‌السلام نے امام حسن علیہ‌السلام سے فرمایا: آج اٹھو اور لوگوں کے سامنے خطبہ دو۔»

امام حسن علیہ‌السلام کھڑے ہوئے، اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کی اور رسول خدا صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ پر درود بھیجا۔

پھر الہام الٰہی سے فرمایا:

«امیر‌المومنین علیہ‌السلام کا ایسا مقام و مرتبہ ہے کہ جو اس میں داخل ہو جائے، وہ محفوظ ہو جاتا ہے اور جو اس سے منہ موڑ لے، وہ کافر ہے۔ میں اتنا ہی کہتا ہوں اور اپنے لیے اور آپ سب کے لیے اللہ سے مغفرت طلب کرتا ہوں۔»

جب امام حسن علیہ‌السلام منبر سے نیچے تشریف لائے تو امیرالمؤمنین علیہ‌السلام کھڑے ہوئے، اپنے فرزند کے سر کا بوسہ لیا اور فرمایا:

«میرے ماں باپ تم پر قربان ہوں۔» پھر یہ آیت تلاوت فرمائی:

«ذُرِّیَّةً بَعْضُهَا مِنْ بَعْضٍ وَاللَّهُ سَمِیعٌ عَلِیمٌ»

یعنی: «یہ ایسی اولاد تھی جس میں سے بعض، بعض ہی کی نسل سے تھے، اور اللہ خوب سننے والا، خوب جاننے والا ہے۔» [۲]

جنگ جمل کے میدان میں شجاعت

جنگِ جمل کے شعلہ بار میدان میں امام حسن مجتبیٰ علیہ‌السلام نے بے مثال شجاعت کا مظاہرہ فرمایا۔

آپ علیہ‌السلام کی بہادری میں حضرت پدر بزرگوار کے کمالات اور سلسلۂ امامت کے تسلسل کی روشن جھلک نمایاں تھی۔

جنگ جمل کے دن امیر‌المومنین علیہ‌السلام نے اپنا نیزہ اپنے فرزند محمد بن حنفیہ کو دیا اور فرمایا:

«اس نیزے کے ساتھ اونٹ کی طرف حملہ کرو۔»

محمد آگے بڑھے، لیکن بنی ضبہ کے افراد نے انہیں روک دیا اور اونٹ کے قریب نہ جانے دیا۔

جب وہ اپنے والد کے پاس واپس آئے تو امام حسن علیہ‌السلام نے ان کے ہاتھ سے نیزہ لیا اور اونٹ کی طرف بڑھے، پھر نیزے سے اسے ضرب لگائی۔

جب امام حسن علیہ‌السلام واپس آئے تو نیزے پر خون کے آثار نمایاں تھے۔

محمد بن حنفیہ اس بات پر غمگین ہوئے کہ وہ یہ کام انجام نہ دے سکے، اور ان کے چہرے سے رنج و ملال ظاہر ہونے لگا۔ امیر‌المومنین علیہ‌السلام نے ان سے فرمایا:

«غمگین نہ ہو؛ کیونکہ وہ حسن ہے، رسول خدا صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ کا فرزند ہے، جبکہ تم علی کے فرزند ہو۔» [۳]

والد کی شہادت کے بعد تاریخی خطبہ

والدِ گرامی کی شہادت کے دن امام حسن مجتبیٰ علیہ‌السلام نے ایک تاریخی خطبہ ارشاد فرمایا۔

اس خطبے میں آپ علیہ‌السلام نے امیرالمومنین علیہ‌السلام کے فضائل و مقامات بیان فرمائے۔

ابومخنف، جو کوفہ کے شیعہ مؤرخ تھے، روایت کرتے ہیں:

«امام حسن علیہ‌السلام نے اپنے والد کی شہادت کی صبح، اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا اور رسول خدا صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ پر درود کے بعد فرمایا:

آج کی رات ایک ایسی ہستی شہید ہوئی ہے جس کے نیک اعمال میں کوئی اس سے سبقت نہیں لے سکا اور نہ ہی کوئی اس کے مقام و مرتبے کو پا سکے گا۔

آپ علیہ‌السلام نے مزید فرمایا:

وہ رسول خدا صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ کے ساتھ جہاد کرتے تھے اور اپنی جان کے ذریعے ان کی حفاظت کرتے تھے۔ رسول خدا انہیں اپنا پرچم دے کر روانہ فرماتے اور جبرئیل ان کے دائیں جانب جبکہ میکائیل ان کے بائیں جانب میدانِ جنگ میں ان کے ہمراہ ہوتے۔ وہ اس وقت تک واپس نہ آتے جب تک اللہ تعالیٰ ان کے ہاتھوں فتح عطا نہ فرما دیتا۔ ان کی شہادت اس رات ہوئی جس رات عیسیٰ بن مریم آسمان کی طرف اٹھائے گئے اور یوشع بن نون، حضرت موسیٰ کے وصی، وفات پا گئے۔ دنیا کے مال و دولت میں ان کے پاس صرف سات سو درہم باقی رہ گئے تھے، جن سے وہ اپنے اہلِ خانہ کے لیے ایک خادمہ خریدنے کا ارادہ رکھتے تھے۔

اس موقع پر امام حسن علیہ‌السلام کا گلا رندھ گیا اور آپ علیہ‌السلام گریہ کرنے لگے، لوگ بھی آپ علیہ‌السلام کے ساتھ گریہ کرنے لگے۔

پھر حضرت نے فرمایا:

میں رسول خدا صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ کا فرزند ہوں، میں اللہ کی طرف دعوت دینے والے کا فرزند ہوں، اور میں اس خاندان کا فرزند ہوں جس سے اللہ نے ہر طرح کی پلیدی دور کر دی ہے۔ ہم وہی «حَسَنَہ» ہیں جس کی محبت اللہ تعالیٰ نے قرآن میں امت پر واجب قرار دی ہے۔

پھر حضرت نے فرمایا:

میں بشارت دینے والے کا فرزند ہوں، میں ڈرانے والے کا فرزند ہوں، میں اللہ کی طرف دعوت دینے والے کا فرزند ہوں اور اس خاندان کا فرزند ہوں جس سے اللہ نے پلیدی دور کر دی ہے۔ ہم وہی «حَسَنَہ» ہیں جس کی محبت اللہ نے قرآن میں امت پر واجب کی ہے۔

اور فرمایا:

«قُلْ لَا أَسْأَلُکُمْ عَلَیْهِ أَجْرًا إِلَّا الْمَوَدَّةَ فِی الْقُرْبَىٰ ۗ وَمَنْ یَقْتَرِفْ حَسَنَةً نَزِدْ لَهُ فِیهَا حُسْنًا ۚ إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ شَکُورٌ»

«کہہ دیجیے: میں تم سے اپنی رسالت کا کوئی اجر نہیں مانگتا، سوائے اپنے قرابت داروں کی محبت کے، اور جو کوئی نیکی حاصل کرے گا ہم اس کی نیکی میں مزید اضافہ کر دیں گے، بے شک اللہ بخشنے والا اور قدردان ہے۔» (سورۂ شوریٰ، آیت ۲۳)
پس «حَسَنَہ» سے مراد ہم اہل‌بیت کی محبت ہے۔» [۴]

خاندان نبوت کی شہادت کی پیش گوئی

امیر‌المومنین علیہ‌السلام کے اشکوں کے درمیان رسول خدا صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ نے مستقبل میں اپنے اور اپنی اولاد کے لیے پیش آنے والی مصیبتوں اور شہادتوں سے پردہ اٹھایا۔

حضرت امیرالمومنین علی بن ابی طالب علیہ‌السلام گریہ کرتے ہوئے رسول خدا صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا:

«میرے ماں باپ آپ پر قربان، یا رسول اللہ! کیا آپ بھی شہید کیے جائیں گے؟»

رسول خدا صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ نے فرمایا:

«ہاں، مجھے زہر دیا جائے گا اور میں شہید ہو جاؤں گا۔ تم بھی تلوار کے وار سے شہید کیے جاؤ گے اور تمہاری داڑھی تمہارے سر کے خون سے رنگین ہو جائے گی۔ میرا فرزند حسن علیہ‌السلام زہر کے ذریعے شہید کیا جائے گا اور میرا فرزند حسین علیہ‌السلام تلوار کے ذریعے قتل کیا جائے گا۔ اسے ایک ظالم کا بیٹا، ایک ناپاک کا بیٹا اور ایک منافق کا بیٹا شہید کرے گا۔»[۵]

مآخذ
[۱]  ارشاد، جلد ۲، صفحۀ ۲
[۲]  تفسیر فرات کوفی، صفحۀ ۷۹
[۳] المناقب، جلد ۴، صفحۀ ۲۱
[۴] بحار الانوار، جلد ۴۳، صفحۀ ۳۶۲
[۵] کتاب سلیم، جلد ۲، صفحۀ ۸۳۴

مزید مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے