سب سے زیادہ تلاش کیا گیا:

امام حسین کی پیاس

ہائے اس ظلم پر! وائے اس امت پر!

عبداللہ بن قیس کہتے ہیں: میں جنگِ صفین میں امیرالمومنین حضرت علی علیہ‌السلام کے ساتھ تھا، جب ابوالأعور سلمی نے لشکر پر پانی بند کر دیا تو شدت عطش نے مسلمانوں کو جاں بہ لب کر دیا تھا۔

جب ساتھیوں کی پیاس سے باپ کا دل تڑپ اٹھا

امیر‌المومنین علیہ‌السلام نے کئی سوار بھیجے تاکہ پانی کا راستہ کھول دیں، مگر وہ ہر مرتبہ ناکام واپس آئے۔

مولا کا سینہ اس بے بسی سے بھر آیا۔ کیونکہ وہ جانتے تھے کہ یہ پیاس، ایک بہت بڑی پیاس کی ابتدا ہے۔

وہ فرزند جس نے بہادری کے سوا کچھ نہ سیکھا اس وقت امام حسین علیہ‌السلام نے اپنے والد سے عرض کی:

"بابا جان! اگر اجازت ہو تو میں جاؤں؟”

حضرت امیرالمومنین علیہ‌السلام نے فرمایا:

"جاؤ، میرے لال۔”

بات مختصر ہوئی، جواب بھی مختصر ملا؛ گویا وہ جانتے تھے کہ یہ اجازت، کربلا میں ملنے والی ایک اور اجازت کی تمہید ہے۔

وہ فتح جو امام حسین علیہ‌‎السلام کے ہاتھوں نصیب ہوئی

امام حسین علیہ‌السلام چند سواروں کے ساتھ حملہ آور ہوئے، ابوالأعور کو پانی سے ہٹا دیا، وہاں اپنا قبضہ قائم کیا۔ فتح کے ساتھ اپنے والد کی خدمت میں واپس آئے۔

اصحاب خوشی سے کہنے لگے:

"یہ حسین علیہ‌السلام کے ہاتھوں پہلی عظیم فتح ہے۔”

مگر باپ… رو پڑا

اس خوشی کے ماحول میں حضرت امیر‌المومنین علیہ‌السلام کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔

یہ آنسو جنگ کی مشقتوں کی وجہ سے  نہیں تھے، بلکہ اس منظر کے تھے جسے صرف وہی دیکھ رہے تھے۔

باپ نے بیٹے کی فتح کے پسِ منظر میں اس کی تشنہ کام شہادت کو دیکھ لیا

فرمایا:

"وہ منظر میرے سامنے آگیا جب کربلا کی سرزمین میں میرے اس بیٹے کو پیاسا شہید کیا جائے گا۔ اتنا پیاسا کہ اس کا گھوڑا بے قرار ہو کر ہنہنائے گا اور گویا پکارے گا: ہائے ظلم! ہائے ظلم! وائے ہو اس امت پر جس نے اپنے نبی صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ کی بیٹی کے بیٹے کو قتل کر ڈالا۔”

مولا نے عاشورا سے پہلے عاشورا پر گریہ کیا

یوں امیرالمومنین علیہ‌السلام نے اپنے فرزند امام حسین علیہ‌السلام کی شہادت سے کئی برس قبل گریہ فرمایا۔ آپ علیہ‌السلام نے اسی فتح کے موقع پر امام حسین علیہ‌السلام کی آنے والی پیاس کو یاد کیا۔

وہ گریہ درحقیقت فرشتوں، جنّات اور تمام انسانوں کے گریے کا آغاز تھا۔ دلوں میں امام حسین علیہ‌السلام کی محبت کی ایسی حرارت ہے جو اہلِ ایمان کے دلوں میں کبھی سرد نہیں ہوگی۔

مآخذ
عوالم العلوم، ج ۱۷، ص ۱۴۹

مزید مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے