غدیرِ خم صرف سیاسی جانشینی کا اعلان یا کسی برجستہ شخصیت کا ظاہری تعارف نہیں تھا۔ شیعہ روایتی متون میں اس دن کو ہدایت و گمراہی کی تاریخ کا عظیم ترین نقطۂ عطف قرار دیا گیا ہے۔
یہ وہ دن ہے جب ولایتِ الٰہی اور جبهۂ ابلیس کے درمیان حدِ فاصل نمایاں ہوئی۔ روایاتِ اسلامی میں ولایت امیرالمومنین علیہالسلام کے اعلان پر ابلیس کے ردعمل کو ایک خاص انداز میں بیان کیا گیا ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ بنی نوع انسان کو گمراہ کرنے کے اس کے تمام دیرینہ منصوبے ایک بڑے خطرے سے دوچار ہوگئے تھے۔
واقعے اور ابلیس کے غیظ و غضب پر امام جعفر صادق علیہالسلام کی روایت
اس تحریر میں حضرت امام جعفر صادق علیہالسلام سے مروی ایک روایت پیش کی جارہی ہے۔ اس روایت میں واقعۂ غدیر کو ایک منفرد اور مختلف زاویے سے بیان کیا گیا۔ اس روایت میں ایک ایسا منفرد زاویہ سامنے آتا ہے۔ اس کا محور امیرالمومنین علی علیہالسلام کی ولایت کا اعلان ہے۔ اس اعلان پر ابلیس کے تڑپ اٹھنے اور شدید غصے کے اظہار کو نمایاں کیا گیا ہے۔
جعفر بن محمد خزاعی اپنے والد سے نقل کرتے ہیں:
امام جعفر صادق علیہالسلام غدیر خم کے بارے میں فرماتے تھے:
جب پیغمبر اکرم صلیاللہعلیہوآلہ نے غدیرِ خم کے میدان میں وہ سب کچھ بیان فرما دیا جو آپ کو امیرالمومنین علیہالسلام کے بارے میں فرمانا چاہیے تھا، اور آپ کو امت کے رہبر، مولیٰ اور سرپرست کے طور پر متعارف کروا دیا، تو ابلیس نے غیظ و غضب سے تلملا کر ایک ہولناک چیخ ماری۔
شیاطین عالم اس کے گرد جمع ہوگئے اور پوچھنے لگے: اے ہمارے سردار! یہ چیخ اور نالہ کس لیے ہے؟
ابلیس نے جواب دیا: وائے ہو تم پر! آج کا یہ دن تمہیں حضرت عیسیٰ علیہالسلام کے (تقدیر ساز) دن کی یاد دلاتا ہے۔ خدا کی قسم! میں آج کے بعد سے لوگوں کو (نئے طریقوں سے) گمراہ کروں گا۔
اسی لمحے قرآن مجید کی یہ آیت کریمہ نازل ہوئی:
«وَلَقَدْ صَدَّقَ عَلَيْهِمْ إِبْلِيسُ ظَنَّهُ فَاتَّبَعُوهُ إِلَّا فَرِيقاً مِنَ الْمُؤْمِنِينَ»
اور یقیناً ابلیس نے ان کے بارے میں اپنا گمان سچ پایا؛ پس مومنین کے ایک گروہ کے سوا سب نے اسی کی پیروی کی بھینٹ چڑھ گئے۔
اس آیت کے بعد، ابلیس نے دوبارہ ایک زوردار چیخ ماری۔ شیاطین پھر دوڑے دوڑے اس کے پاس آئے اور پوچھا: اے ہمارے مولیٰ! اب یہ دوسری چیخ کس وجہ سے تھی؟
ابلیس نے (مایوسی) سے کہا: وائے ہو تم پر! اللہ تعالیٰ نے قرآن میں میری کہی ہوئی بات کو باقاعدہ نازل فرما دیا ہے کہ: اور ابلیس نے ان کے بارے میں اپنا گمان سچ پایا۔
پھر ابلیس نے اپنا سر آسمان کی طرف اٹھایا اور بارگاہ الٰہی میں کہنے لگا: تیری عزت و جلال کی قسم! میں اس (مومنین کے قلیل) گروہ کو بھی باقی لوگوں کے ساتھ ملا کر ہی دم لوں گا۔
اس نازک موڑ پر، پیغمبرِ اکرم صلیاللہعلیہوآلہ نے (قرآن کی آیت تلاوت فرماتے ہوئے) ارشاد فرمایا:
«بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ، إِنَّ عِبَادِي لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطَانٌ»
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ، بیشک جو میرے سچے بندے ہیں، ان پر تجھے کوئی تسلط اور غلبہ حاصل نہیں ہو سکتا۔
ابلیس نے تیسری بار ایک دردناک چیخ ماری۔ شیاطین نے پھر اکٹھے ہو کر پوچھا: اے ہمارے آقا! یہ تیسری چیخ کس لیے ہے؟
شیطان نے کہا: خدا کی قسم! (یہ محفوظ رہنے والا گروہ) امیرالمومنین علیہالسلام کے سچے اصحاب اور یار و مددگار ہیں؛ لیکن (اے پروردگار!) تیری عزت و جلال کی قسم، میں گناہوں کو ان کی نظروں میں اس طرح خوبصورت اور مزین کر کے دکھاؤں گا کہ انہیں تیری بارگاہ میں مبغوض (ناپسندیدہ) بنا دوں۔
امام جعفر صادق علیہالسلام نے اپنی گفتگو جاری رکھتے ہوئے آخر میں ارشاد فرمایا:
قسم ہے اس ذات کی جس نے پیغمبرِ اکرم صلیاللہعلیہوآلہ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا! شیاطین اور ابلیس کے چیلے مومنین کو اس طرح اپنے گھیرے میں لیے ہوئے ہیں جیسے مکھیاں یا شہد کی مکھیاں گوشت کے ٹکڑے پر ہجوم کرتی ہیں؛ لیکن مومن اپنی استقامت میں ایک محکم پہاڑ سے بھی زیادہ مضبوط ہوتا ہے۔ پہاڑ کو تو کلہاڑی سے کاٹ کر کم کیا جا سکتا ہے، مگر مؤمن کے دین و ایمان سے کچھ بھی کم نہیں کیا جا سکتا۔ [۱]
ابلیس کے چار تاریخی نالوں (چیخوں) کے بارے میں امام صادق علیہالسلام کا فرمان
اس حصے میں ابلیس کی تاریخ کے چار بڑے دن بیان کیے گئے ہیں، جب اس نے شدید غصے، حسرت اور رنج و ملال کے باعث چیخیں ماریں۔ یہ تاریخی مواقع، جبهۂ شیطانی کی شکست اور ناکامی کے نمایاں واقعات کے طور پر بیان کیے گئے ہیں:
امام جعفر صادق علیہالسلام اپنے والد گرامی حضرت امام محمد باقر علیہالسلام سے نقل فرماتے ہیں۔ امام محمد باقر علیہالسلام نے ارشاد فرمایا:
ابلیس نے تاریخ میں چار دن شدید غیظ و غضب اور حزن و ملال کی وجہ سے دردناک چیخیں ماریں اور نالہ کیا:
پہلا دن: جب وہ بارگاہ الٰہی سے راندہ گیا اور اس پر خدا کی لعنت ہوئی۔
دوسرا دن: جب اسے آسمانوں سے نکال کر زمین پر پٹخ (گرا) دیا گیا۔
تیسرا دن: جب رسول خدا صلیاللہعلیہوآلہ کی بعثت مبارکہ کا دن تھا (اور نبوت کا آغاز ہوا)۔
چوتھا دن: غدیر خم کا تاریخی دن، جب کائنات کے سامنے حضرت امیرالمومنین علی بن ابیطالب علیہ السلام کی ولایت و امامت کا باقاعدہ اعلان کیا گیا۔[۲]
مآخذ
[۱] بحار الانوار، ج۳۷، ص۱۶۴؛ تفسير العياشی؛ تفسير البرهان ۲: ۴۲۷؛ روضه الكافی، ص۳۴۴، ح۵۴۲
[۲] بحار الانوار، ج۳۷، ص۱۲۱