️عربوں میں یہ رواج ہے کہ بچوں کو دستار باندھی جاتی ہے، عمامہ باندھا جاتا ہے۔
جب جناب علی اکبر سات برس کے ہوئے، تو پھوپی نے کہا: آج میں دستار باندھوں گی۔
پھر ماں نے کہا: میں دستار باندھوں گی۔ پھر بہنوں نے کہا:ہم دستار باندھیں گے۔
مولا حسین علیہالسلام سوچا کرتے تھے کہ ایک دن میں بھی علی اکبر کو عمامہ باندھوں گا۔
چنانچہ جناب علی اکبر نے کہا: بابا! آج آپ علیہالسلام باندھ دیں۔
جناب علی اکبر نے اپنے دونوں گھٹنے زمین پہ رکھے اور مولا حسین علیہالسلام نے دستار باندھنا شروع کی۔
جناب علی اکبر دونوں گھٹنے زمین پہ رکھے ہوئے تھے اور مولا حسین علیہالسلام دستار باندھ رہے تھے۔ اِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا اِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔