اسلام کے ابتدائی واقعات اور غدیر خم میں جانشینی کے مسئلے پر مغربی مستشرقین کی تحریروں میں دلچسپ نکات ملتے ہیں۔ بعض مغربی مصنفین نے پیغمبر اسلام صلیاللہعلیہوآلہ کے بعد اسلامی معاشرے کی قیادت کے مسئلے پر غور کیا۔ ان تحریروں سے معلوم ہوتا ہے کہ بعض مستشرقین نے امیرالمومنین علی علیہالسلام کی جانشینی کے مسئلے کو عقلی سمجھا۔ بعض نے اس سے آگے بڑھ کر امیرالمومنین علی علیہالسلام کو جانشینی کے لیے موزوں ترین انتخاب قرار دیا۔ ان کے آثار میں غدیر خم اور اسلامی قیادت سے متعلق قابلِ غور آرا بھی ملتی ہیں۔
کانسٹینٹن ورجیل گیورگیو اور غدیر
رومانیہ کے مصنف نے اپنی کتاب محمد اور قرآن میں یوں لکھا ہے:
پیغمبر اسلام اتنے قوی تھے کہ وہ جانشین کے تعین کے معاملے میں جو اسلام کی دنیا کے لیے اہمیت رکھتا تھا، شک و شبہ کا شکار نہیں ہوسکتے تھے اور اپنی رائے کا اظہار کرنے سے قاصر نہیں رہ سکتے تھے۔
امیرالمومنین علیہالسلام سے گسٹاو لی بون کے عارفانہ جملے
فرانس کے ممتاز فلفسفی اور مستشرق، گسٹاو لی بوننے اپنی کتاب تاریخ تمدن اسلام و عرب میں لکھا ہے:
اے تاریخ! کیا ہوتا اگر تم علی کو ایک بار پھر دنیا میں لاتے، تاکہ وه صدر اسلام کی طرح، مسجد کوفہ کے منبر پر کھڑے ہوتے اور ہم مشرق و مغرب کے طالبِ علم ان کے منبر کے نیچے ان کے علم و دانش کے جوشاں علمی سمندر سے براہ راست بہرہ مند ہوتے، مستفیض بھی ہوتے اور فیض میں مدہوش بھی! اور علی ہمارے پیاسے دماغوں کو سیراب کرتے۔