سب سے زیادہ تلاش کیا گیا:

امیرالمومنین علیہ‌السلام کی قبر نجف میں

امیر‌المومنین علیہ‌السلام کی قبر کے نجف میں ہونے پر دلائل

اہل‌بیت علیہم‌السلام کی روایات، خصوصاً امام باقر اور امام صادق علیہما‌السلام سے منقول روایات نے تأکید کی ہے کہ امیرالمومنین علیہ‌السلام کی قبر مطہر نجف اشرف میں ہے اور یہ وہی مقام ہے جو آج معروف زیارت گاہ ہے۔

امام جعفر صادق علیہ‌السلام کی احادیث قبر امیر‌المومنین علیہ‌السلام کے دقیق مقام کے تعین میں خاص اہمیت رکھتی ہیں۔ آپ علیہ‌السلام نے اپنی روایات میں قبر سے متعلق تاریخی، دینی اور جغرافیائی نشانیوں کو بیان کیا ہے، جن میں شامل ہیں: آدم، نوح، ہود، صالح علیہم‌السلام کی قبور، علاقۂ غریّین، نجف کی ٹیلہ نما جگہ (ربوۂ نجف)، اور ذُکوات بیض (سفید ٹیلے) جیسی نشانیاں۔

امیر‌المومنین علیہ‌السلام کی مخفیانہ تدفین کے بارے میں روایات

شیخ طوسی امام حسن علیہ‌السلام سے روایت نقل کرتے ہیں:

ہم نے امیر‌المومنین علیہ‌السلام کو زمین کے بلند کنارے (حَرف) پر دفن کیا اور رات کی تاریکی میں مسجد اشعث کے پاس سے گزرے۔

ابن قولویہ امام حسین علیہ‌السلام سے روایت نقل کرتے ہیں:

ہم رات کے وقت امیر‌المومنین علیہ‌السلام کے جسد مطہر کو لے کر چلے، مسجد اشعث کے پاس سے گزرے اور پھر انھیں غری (نجف اشرف) کے علاقے میں دفن کیا۔

ابن‌عنبه، شیعہ مورخ اور نسب شناس نقل کرتے ہیں:

عبدالله بن جعفر سے جب یہ پوچھا گیا کہ امیر‌المومنین علیہ‌السلام کہاں دفن ہوئے؟ تو انھوں نے کہا: ہم انھیں نجف کے پیچھے لے گئے اور وہیں دفن کیا۔ پھر کہتا ہے:

یہ بات ثابت ہے کہ امام زین العابدین، امام صادق اور امام کاظم علیہم‌السلام سب اس مقام کی زیارت کو جا چکے ہیں۔

 امام باقر علیہ‌السلام کے ایک صحابی جابر جعفی سے روایت ہے:

امام باقر علیہ‌السلام نے فرمایا:

میرے والد امام سجاد علیہ‌السلام امیر‌المومنین علیہ‌السلام کی قبر کی زیارت کو گئے، وہاں رکے، گریہ فرمایا اور کہا:

السلام علیک یا أمین الله فی أرضه و حجّته علی عباده۔

سلام ہو آپ پر اے اللہ کی زمین پر اس کے امین اور اس کے بندوں پر اللہ کی حجت

ابوحمزہ ثمالی کا امیر‌المومنین علیہ‌السلام کی زیارت کے سفر میں امام سجاد علیہ‌السلام  کے ساتھ ہونا

سید بن‌ طاووس، حسن بن حسین بن طحال مقدادی سے نقل کرتے ہیں:

امام زین العابدین علیہ‌السلام کوفہ آئے اور مسجد کوفہ میں نماز پڑھی۔ ابوحمزہ ثمالی نے انھیں دیکھا اور ان کے ساتھ ہو لیے۔

پھر امام علیہ‌السلام نے ان سے فرمایا:

کیا تم چاہتے ہو کہ میرے ساتھ میرے جد امیر‌المومنین علیہ‌السلام کی قبر کی زیارت کرو؟

وہ دونوں علاقۂ غریّین، ایک سفید اور نورانی جگہ کی طرف چل پڑے۔

امام سجاد علیہ‌السلام اپنی سواری سے اترے، اپنا چہرہ خاک پر رکھا اور فرمایا:

اے ابوحمزہ، یہ میرے جد، علی بن ابی طالب علیہماالسلام کی قبر ہے۔

پھر آپ علیہ‌السلام نے مخصوص آداب سے قبر کی زیارت کی، اور اس کے بعد مدینہ واپس لوٹ گئے۔

امام سجاد علیہ السلام کا امیر‌المومنین علیہ‌السلام کی قبر کی مخفیانہ طور پر زیارت بجالانا

سید بن‌ طاووس کتاب مزار ابن ابی‌قره سے ایک روایت نقل کرتے ہیں:

امام باقر علیہ‌السلام بیان کرتے ہیں کہ میرے والد امام سجاد علیہ‌السلام واقعۂ کربلا کے بعد ایک مدت بیابانوں میں خلوت گزین رہے اور کبھی کبھی مخفی طور پر امیر‌المومنین علیہ‌السلام اور اپنے والد بزرگوار امام حسین علیہ‌السلام کی قبر کی زیارت کے لیے عراق گئے۔ جب میں ان کے ساتھ تھا اور ہم نجف پہنچے، تو میرے والد نے اتنا گریہ کیا کہ ان کی ریش مبارک آنسوؤں سے تر ہو گئی، پھر قبر کی طرف متوجہ ہوکر  فرمایا:

السلام علیک یا أمیرالمؤمنین و رحمه الله و برکاته۔ سلام ہو آپ پر اے امیرالمؤمنین اور اللہ کی رحمتیں اور برکتیں ہوں آپ پر

السلام علیک یا أمین الله فی أرضه و حجّته علی عباده۔ سلام ہو آپ پر اے اللہ کی زمین پر اس کے امین اور اللہ کے بندوں پر اس کی حجت

أشهد أنّک جاهدتَ فی الله حقَّ جهاده… میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ نے اللہ کی راہ میں حق جہاد ادا کردیا

یہ تاریخی اقوال ثابت کرتے ہیں کہ امام سجاد علیہ‌السلام  نے بارہا نجف میں امیر‌المومنین علیہ‌السلام کی قبر کی زیارت کی اور اس کا دقیق مقام اپنے شاگردوں، جیسے ابوحمزہ ثمالی کو دکھایا۔

امام باقر علیہ‌السلام بھی اپنے والد کے ساتھ زیارت کے لیے گئے اور انھوں نے بھی گواہی دی کہ قبر شریف نجف اشرف کے غریّین میں ہے۔

زید شہید کا امیر‌المومنین علیہ‌السلام کی قبر مطہر کی زیارت کرنا

ابی ‌معمر ہلالی، ابوقره سے—جو زید بن علی کے اصحاب میں سے تھے—نقل کرتے ہیں:

ایک رات ہم زید بن علی کے ساتھ قبرستان جبّانہ کی طرف گئے۔

انھوں نے طویل نماز پڑھی، پھر مجھ سے پوچھا: اے ابو قره! جانتے ہو یہ جگہ کون سی ہے؟

میں نے کہا: نہیں۔

فرمایا: یہ جگہ امیر‌المومنین علیہ‌السلام کی قبر کے نزدیک ہے۔ اور ہم اس وقت بہشت کے باغوں میں سے ایک باغ میں ہیں۔

ابوحمزہ ثمالی روایت کرتے ہیں: ہم پندرہ شعبان کی رات زید بن علی کے ساتھ امیر‌المومنین علیہ‌السلام کی قبر کی زیارت کو گئے۔

جب ہم ذکوات البیض (سفید ٹیلوں) کے مقام تک پہنچے۔

تو زید نے فرمایا: یہ علی بن ابی طالب علیہماالسلام کی قبر ہے۔پھر ہم واپس آگئے۔

یہ روایات ثابت کرتی ہیں کہ زید بن علی بھی بقیہ اماموں کی طرح وہاں زیارت امیر‌المومنین علیہ‌السلام کو جایا کرتے تھے اور اس مقام کو قبر امیر‌المومنین علیہ‌السلام کے طور پر جانتے تھے۔

اہل بیت علیہم‌السلام کے قریبی اصحاب جیسے ابو حمزہ ثمالی اور صفوان جمال ان زیارتوں کے عینی شاہد تھے۔

یہ تمام قضایا اس بات پر دلالت کرتے ہیں کہ امیر‌المومنین علیہ‌السلام کی قبر مبارک ابتدا سے نجف اشرف میں ہی تھی اور بعض خواص اس بات سے آگاہ بھی تھے۔

ائمہ علیہم‌السلام کا اصحاب خاص کو قبر امیر‌المومنین علیہ‌السلام کی زیارت کے لیے رہنمائی کرنا

سلیمان بن خالد اور محمد بن مسلم روایت کرتے ہیں:

ہم حیرہ گئے اور اجازت لے کر اباعبدالله علیہ‌السلام کے پاس داخل ہوئے اور امیر‌المومنین علیہ‌السلام کی قبر کے بارے میں پوچھا۔

آپ علیہ‌السلام نے فرمایا:

جب تم حیرہ سے نکل کر ثویہ اور قائم کے راستے سے گزروگے اور نجف سے سفید ٹیلوں کی طرف جاؤگے، جن کے درمیان امیر‌المومنین علیہ‌السلام کی قبر ہے اور سیلاب اسے شگافتہ کر چکا ہے، تو یہ فاصلہ ایک یا دو تیر  کے برابر ہوگا۔

ہم اگلے دن روانہ ہوئے، ان راستوں سے گزرے اور سفید ٹیلوں تک پہنچے۔ قبر ویسی ہی تھی جیسی امام علیہ‌السلام نے بیان کی تھی۔ ہم نے سلام کیا اور نماز پڑھی اور واپس آگئے۔

اگلے دن ہم نے امام علیہ‌السلام کو بتایا، آپ علیہ‌السلام نے فرمایا:  تم پر رحمت ہو، خدا تمھیں راہ حق کی طرف رہنمائی کرے۔

امام صادق علیہ‌السلام ہمیشہ اصحاب کو ساتھ لے کر نہیں جاتے تھے۔

روایت ابی‌بصیر:

ابوبصیر  نے پوچھا:  امیر‌المومنین علیہ‌السلام کی قبر مبارک کہاں ہے؟

امام صادق علیہ‌السلام نے فرمایا: وہ اپنے والد نوح علیہ‌السلام کی قبر میں دفن ہوئے ہیں۔

ابوبصیر  نے کہا: لوگ کہتے ہیں نوح کی قبر مسجد کوفہ میں ہے۔

امام نے فرمایا: نہیں، وہ کوفہ کے پیچھے ہے۔

روایت عبدالله بن سنان

عمر بن یزید نے مجھے کہا: سوار ہو جاؤ!۔

میں سوار ہوا۔ ہم گئے یہاں تک کہ حفص کنّاسی کے گھر پہنچے۔ وہ بھی ساتھ ہو لیے۔

پھر ایک مقام پر پہنچے جسے میں پہچانتا تھا۔

میں حیرہ میں امام صادق علیہ‌السلام کے پاس گیا، تو انھوں نے فرمایا کہ یہ جگہ وہی غری ہے۔

جب ہم قبر کے مقام پر پہنچے، تو امام  نے فرمایا: اتر جاؤ، یہی امیر‌المومنین علیہ‌السلام کی قبر ہے۔

زیارت اباعبدالله الحسین علیہ‌السلام ان کے بابا کے حرم میں

 معلّی بن خنیس سے روایت ہے:

جب میں امام صادق علیہ‌السلام  کے ساتھ حیرہ کے سفر میں تھا، امام علیہ‌السلام نے فرمایا کہ ان کے لیے صحرا میں فرش بچھایا جائے۔

امام علیہ‌السلام نے ستاروں کے بارے میں فرمایا: یہ آسمان والوں کے لیے امان ہیں، جب یہ چلے جائیں گے تو آسمان والے ان کی جگہ پر آجاتے ہیں۔

اسی طرح ہم اہل زمین کے لیے امان ہیں؛ جب ہم چلے جائیں گے تو اہل زمین آگے آئیں گے۔

پھر امام علیہ‌السلام نے راستہ مقرر کیا اور فرمایا: خچر اور گدھے پر سوار ہو جاؤ۔

جب ہم  اس مقام پر پہنچے، تو فرمایا: یہ امیر‌المومنین علیہ‌السلام کی قبر ہے۔

پھر ہم نے نماز پڑھی۔

روایت یونس بن ظبیان

میں امام صادق علیہ‌السلام  کے ساتھ حیرہ آیا۔ جب امام منصور کے پاس آئے، چاند آسمان میں کامل تھا۔

امام علیہ‌السلام نے ستاروں کی طرف دیکھا اور فرمایا: اے یونس، یہ ستارے دیکھتے ہو؟ کتنے خوبصورت ہیں۔ ستارے اہل آسمان کے لیے امان ہیں اور ہم اہل زمین کے لیے امان ہیں۔

پھر آپ علیہ‌السلام نے فرمایا: میرے لیے ایک خچر اور ایک گدھا تیار کرو۔

تیاری کے بعد پوچھا: اے یونس! تمھارے لیے کون بہتر ہے، خچر یا گدھا؟

میں نے سوچا خچر بہتر ہے مگر کہا: گدھا۔

امام علیہ‌السلام نے فرمایا: میں چاہتا ہوں تم مجھے اسی پر سوار کرو۔

پھر سوار ہو کر ہم نکلے۔ ایک سرخ مٹی والی جگہ پر امام علیہ‌السلام نے وضو کیا، نماز پڑھی، اور گریہ فرمایا۔ پھر ایک اور ٹیلے پر گئے، وہی عمل دہرایا۔ اور مجھ سے فرمایا میں بھی یہی عمل انجام دوں

پھر مجھ سے پوچھا: اے یونس! کیا تم جانتے ہو یہ کونسا مقام ہے؟

میں نے کہا: نہیں۔

امام علیہ‌السلام نے فرمایا: پہلی جگہ قبر امیر‌المومنین علیہ‌السلام تھی اور دوسری جگہ سر حسین علیہ‌السلام کا مقام تھا۔

لعنت ہو عبیدالله بن زیاد پر کہ اس نے سر مقدس کو شام نہ بھیجا، خدا نے اسے کوفہ واپس کر دیا تاکہ اہل کوفہ فتنہ میں نہ پڑیں۔

پھر خدا نے سر کو جسم کے ساتھ ملا دیا، اور سر پیکر کے ساتھ ایک ہو گیا۔

علامہ مجلسی نے فرمایا:

سر کے پیکر سے ملنے کا مطلب یہ ہے کہ دفن کے بعد خدا نے اسے پیکر کے ساتھ ملا دیا۔ دوسرا احتمال یہ ہے کہ پیکر امیر‌المومنین علیہ‌السلام اس سر کے لیے بمنزلۂ بدن ہے۔

شیخ کلینی کی روایت:

یزید بن عمر بن طلحہ کہتا ہے:

امام صادق علیہ‌السلام  نے حیرہ میں مجھ سے فرمایا: کیا تم چاہتے ہو وہ چیز دیکھو جو میں نے وعدہ کی تھی؟ یعنی قبر امیر‌المومنین علیہ‌السلام جانا۔

ہم سوار ہوئے، ثویہ پہنچے، اترے، نماز پڑھی۔

پھر امام علیہ‌السلام نے اسماعیل سے فرمایا: اپنے جد حسین کو سلام کرو۔

میں نے پوچھا: کیا امام حسین علیہ السلام کی قبر کربلا میں نہیں؟

امام علیہ‌السلام نے فرمایا: ہاں، مگر جب سر حسین شام لے جایا گیا تو ایک غلام نے اسے چوری کیا اور یہاں قبر امیر‌المومنین علیہ‌السلام کے پاس دفن کر دیا۔

روایت علی بن اسباط

امام علیہ‌السلام نے فرمایا:

جب تم غری پہنچو گے تو دو قبریں دیکھو گے، ایک بڑی اور ایک چھوٹی۔ بڑی قبر امیر‌المومنین علیہ‌السلام  کی ہے اور چھوٹی قبر سر امام حسین علیہ‌السلام کی۔

امام صادق علیہ السلام کا قبر کا نشان بنانا

ابان بن تغلب کی روایت

ہم امام صادق علیہ‌السلام کے ساتھ کوفہ کے پیچھے سے گزرے۔

امام علیہ‌السلام نے تین مرتبہ ٹھہر کر دو رکعت نماز پڑھی۔

پھر فرمایا: یہ مقام قبر امیر‌المومنین علیہ‌السلام ہے۔

میں نے پوچھا: وہ دو پچھلے مقامات کیا تھے؟

فرمایا: ان میں سے ایک سر حسین علیہ‌السلام کا مقام ہے

اور دوسرا قائم عجل‌الله‌تعالی‌فرجہ‌الشریف کے قیام کا مقام۔

روایت یونس بن ظبیان

میں امام صادق علیہ‌السلام کے ساتھ حیرہ میں تھا۔

جب بیابان میں ایک جگہ پہنچے، امام علیہ‌السلام نے دعا پڑھی، بلند آواز سے مختصر نماز پڑھی۔

پھر پوچھا: اے یونس! جانتے ہو یہ جگہ کیا ہے؟

میں نے کہا: نہیں۔

فرمایا: یہ قبر امیر‌المومنین علیہ‌السلام ہے۔ روز قیامت وہ اور رسول خدا صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ ایک ساتھ ہوں گے۔

روایت حسین بن ابی‌عوجاء طائی

راستے میں امام صادق علیہ‌السلام سے ملا اور پوچھا:

آپ علیہ‌السلام پر قربان جاؤں! جس قبر کی زیارت سے آرہے ہیں، کیا وہ قبر حسین علیہ‌السلام ہے؟

امام علیہ‌السلام نے فرمایا: ہاں، خدا کی قسم! اگر وہ ہمارے سامنے ہوتا تو ہم حج کی طرح اس کی زیارت کرتے۔

پھر پوچھا: کیا یہ قبر جو پیچھے ہے، قبر امیر‌المومنین علیہ‌السلام ہے؟

امام علیہ‌السلام نے فرمایا: ہاں، خدا کی قسم! اگر وہ ہمارے سامنے ہوتا تو اس کی زیارت بھی حج کی طرح ہوتی۔

روایت ابو الفرج سندی

ہم امام صادق علیہ‌السلام  کے ساتھ حیرہ آئے۔ ایک رات امام  نے سواری کا حکم دیا۔

پیچھے کوفہ کے پاس تین مقامات پر رکے:

پہلے دو رکعت نماز پڑھی اور فرمایا: یہ قبر امیر‌المومنین علیہ‌السلام ہے۔

پھر فرمایا: یہ مقام سر حسین علیہ‌السلام ہے۔

تیسرے مقام پر فرمایا: یہ قائم عجل‌الله‌تعالی‌فرجہ‌الشریف کے منبر کا مقام ہے۔

نتیجہ

امام صادق علیہ‌السلام نے مختلف طریقوں سے—نماز پڑھ کر، نشانیاں دے کر، مخصوص نشانات دکھا کر—اپنے خاص اصحاب کو قبر امیر‌المومنین علیہ‌السلام کا مقام دکھلایا۔

اس کے ساتھ آپ علیہ‌السلام نے تین مقدس مقامات کا باہمی ربط بھی بیان کیا:

  • قبر امیر‌المومنین علیہ‌السلام
  • سر امام حسین علیہ‌السلام کا مقام
  • امام زمانہ عجل‌الله‌تعالی‌فرجہ‌الشریف کا منبر

ان روایات سے ظاہر ہوتا ہے کہ امام صادق علیہ‌السلام کے زمانے میں قبر کی زیارت آہستہ آہستہ مخفیانہ طور سے نیم علنی ہو گئی اور شیعوں کے درمیان مستحکم ہو گئی۔

مآخذ
کتاب تاریخ المرقد العلوی المطهر سے ماخوذ

مزید مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے