بعض قدیمی مصادر میں بیان ہوا ہے کہ ہارون الرشید عباسی وہ پہلا شخص ہے جس نے مرقد امیرالمؤمنین علیہالسلام پر سرخ مٹی سے گنبد والی ایک عمارت تعمیر کروائی۔
لیکن دیکھنا ہوگا کہ یہ بات کس حد تک درست ہے؟
اسی طرح سے چند ایک تاریخی مصادر میں ہارون الرشید کا قبر امیرالمؤمنین علیہالسلام کی زیارت کرنے کا واقعہ بھی ذکر ہوا ہے۔ وہ زیارت کہ جس کے بارے میں کہا گیا ہے کہ ایسے زمانے میں انجام پائی جب قبر کا نشان لوگوں کے لیے مخفی اور نامعلوم تھا۔
سید عبد الکریم بن طاؤوس کتاب فرحۃ الغری میں لکھتے ہیں:
ابنطُحال نے بیان کیا ہے:
ہارون نے قبر پر سفید اینٹ سے ایک عمارت بنوائی جو آج کے زمانے کی ضریح سے چھوٹی تھی۔ جب ہم نے ضریح مقدس کو کھولا تو دیکھا کہ وہ مٹی اور چونے سے بنی ہوئی تھی۔ ہارون نے حکم دیا کہ اس پر ایک گنبد بنوایا جائے، پھر سرخ مٹی سے ایک گنبد بنایا گیا اور اس پر ایک سبز گنبد قرار دیا گیا جو کہ آج تک خزانے میں موجود ہے۔
کچھ مصنفین نے اس بات کو سید ابن طاؤوس سے نقل کیا ہے اور بغیر کسی تجزیے اور تحقیق کے اسے ایک مسلّم حقیقت سمجھ لیا ہے۔
جیسا کہ نویں صدی ہجری کے عالم حسن دیلمی نے لکھا ہے:
ہارون نے حکم دیا کہ اس پر چار دروازوں والا ایک گنبد تعمیر کیا جائے! یہ عمارت بنائی گئی اور عضد الدولہ کے دور حکومت تک باقی رہی۔
ہارون الرشید کے ہاتھوں تعمیر کے دعوے کی تردید پر دلائل
1۔ پہلی بات، اس روایت کی کوئی سند نہیں ہے اور مُرسل طور پر نقل ہوئی ہے اور اس کے راویوں کا سلسلہ واضح نہیں ہے۔ اس کے علاوہ یہ کہ ہارون الرشید کے شکار کا مشہور واقعہ کہ جس سفر میں اس نے أمیرالمؤمنین علیہ السلام کی قبر کو دریافت کیا سن 170 سے 175 ہجری کے درمیان کا ہے اور 500 سال بعد یعنی سید ابن طاؤوس (متوفیٰ 693 ھ) کے زمانے تک کسی نے اس واقعے میں کسی ایسی تعمیر کی طرف کوئی اشارہ نہیں کیا۔
کافی ہے کہ ہم اہم تاریخی کتب جیسے کہ تاریخ یعقوبی (متوفیٰ 292 ھ)، تاریخ طبری (متوفیٰ 310 ھ)، تاریخ مسعودی (متوفیٰ 346 ھ) اور تاریخ ابن اثیر (متوفیٰ 639 ھ) کی طرف رجوع کریں۔
اگر ہارون نے حقیقت میں یہ کام کیا ہوتا تو یہ مؤرخین ضرور اس بات کو محفوظ کرتے۔ حتی کہ شکار کا واقعہ جن تفصیلات کے ساتھ نقل ہوا ہے، ان کتابوں میں موجود نہیں ہے یہی بات اس روایت کی کمزوری کو ظاہر کرتی ہے اور اس کے غلط ہونے کی گواہی دیتی ہے۔
شیخ مفید کے مطابق ہارون الرشید کے شکار کا واقعہ
شیخ مفید (متوفیٰ 413 ھ) نے کتاب الارشاد میں ہارون عباسی کے نجف اشرف کی سر زمین پر آنے اور مرقد امیرالمؤمنین علیہالسلام دریافت کرنے کو بیان کیا ہے لیکن عمارت کی تعمیر کی طرف کوئی اشارہ نہیں کیا۔
شیخ مفید صرف اس مشہور شکار کے واقعے کو اس طرح بیان کرتے ہیں:
محمد بن زکریا کہتے ہیں کہ میں نے عبیداللہ بن محمد بن عائشہ سے سنا کہ: عبداللہ بن خازم نے میرے سامنے یہ بات بیان کی:
ایک دن ہم ہارون الرشید کے ساتھ شکار کے لیے کوفہ سے باہر نکلے اور غَرَیین اور ثویہ کے علاقے میں پہنچے۔
ہم نے کچھ ہرن دیکھے تو شکاری باز اور کتے ان کے پیچھے چھوڑ دیے. کچھ دیر تک انہوں نے ان کا پیچھا کیا یہاں تک کہ ہرن ایک پہاڑی کی طرف گئے اور وہاں رک گئے۔ باز اور کتے ان کے قریب ہوئے لیکن پھر واپس آگئے، ہارون یہ منظر دیکھ کر حیرت میں پڑ گیا۔
دوبارہ ہرن پہاڑی سے نیچے آئے، باز اور کتوں نے دوبارہ ان کا پیچھا کیا، لیکن ہرنوں نے دوبارہ اسی پہاڑی کا سہارا لیا تو باز اور کتے پھر واپس آگئے۔ یہ منظر تین بار تکرار ہوا توہارون بولا: فورا جاؤ اور جسے بھی پاؤ اسے میرے پاس لے کر آؤ۔
قبیلۂ بنی اسد کے ایک بوڑھے شخص کو اس کے پاس حاضر کیا گیا۔ ہارون نے اس سے پوچھا: مجھے بتاؤ کہ یہ کیسی پہاڑی ہے؟ بوڑھا بولا: اگر مجھے جان کی امان دو تو حقیقت کو بیان کرتا ہوں۔
ہارون بولا: اللہ کی قسم! تمھیں کوئی نقصان نہ پہنچاؤں گا۔بوڑھا شخص بولا: میرے والد نے اپنے اجداد سے روایت کی ہے کہ یہاں قبر علی ابن ابی طالب علیہماالسلام ہے۔ اللہ نے اسے ایسا حرم قرار دیا ہے کہ جو بھی اس کی پناہ لے گا وہ محفوظ رہے گا۔
ہارون گھوڑے سے اترا، پانی طلب کیا، وضو کیا اور اس پہاڑی کے کنارے نماز ادا کی۔ پھر زمین پر گر پڑا اور گریہ کیا، اس کے بعد ہم واپس آگئے۔
کمال الدین محمد ابن موسیٰ دمیری مصر کے ایک برجستہ دانشمند (متوفیٰ 808 ھ) نے بیان کیا ہے:
ابن خلکان نے بھی لکھا ہے کہ ہارون رشید شکار کے لیے گیا۔ اس نے اپنے باز اور شکاری شکار کے پیچھے بھیجے، لیکن شکار قبر کی طرف چلا گیا اور باز اُسی مقام پر رک گئے اور آگے نہ بڑھے، اس بات نے رشید کو تعجب میں ڈال دیا۔
پھر ایک شخص اس کے پاس آیا اور بولا: اگر تمھارے چچا زاد، علی ابن ابی طالب علیہماالسلام کی قبر کا مقام تمھیں بتادوں تو مجھے کیا انعام دوگے؟
ہارون رشید نے جواب دیا: تم جس بھی انعام و اکرام کے لائق ہوگے وہ تمھیں دوں گا۔
وه شخص بولا: یہ انہیں کی قبر ہے۔
ہارون رشید نے پوچھا: تمھیں کیسے معلوم ہوا؟
وه بولا: میں اپنے والد کے ساتھ اس قبر کی زیارت کے لیے آیا کرتا تھا۔ میرے والد نے مجھے بتایا کہ امام جعفر صادق علیہالسلام کے ساتھ زیارت کے لیے جایا کرتے تھے اور امام جعفر صادق علیہالسلام اپنے والد امام محمد باقر علیہالسلام اور امام محمد باقر علیہالسلام اپنے والد امام زین العابدین علیہالسلام اور امام زین العابدین علیہالسلام اپنے والد امام حسین علیہالسلام کے ساتھ اس قبر کی زیارت کے لیے جایا کرتے تھے۔ اور امام حسین علیہالسلام سب سے بہتر قبر کے مقام کو جانتے تھے۔
ہارون نے حکم دیا کہ اس مقام کو حجر کیا جائے یعنی اس کے گرد ایک حصار بنایا جائے۔ یہ وہ پہلا کام تھا جو بنی عباس کے دور میں قبر کی نسبت انجام دیا گیا۔
صفوان جمال کی روایت کے ذریعے دمیری کے دعوے کی تردید
ہم اس بات پر زور دیتے ہیں کہ امام جعفر صادق علیہالسلام وہ پہلے شخص تھے کہ جنھوں نے مرقد امیرالمؤمنین علیہالسلام کی اساس و بنیاد رکھی۔
صفوان جمال کہتے ہیں:
امام صادق علیہالسلام کھڑے ہوئے، پھر اپنے دست مبارک کو زمین پر مارا اور ایک مٹھی خاک اٹھائی، اسے سونگھا اور پھر اس مقام کی طرف گئے جہاں ابھی قبر موجود ہے۔
پھر اپنے دست مبارک سے خاک کو جمع کیا، مٹھی میں بھرا، سونگھا اور ایک گہری سانس لی؛ اس طرح کہ مجھے لگا کہ امام رحلت فرما گئے ہیں، جب ہوش میں آئے تو فرمایا:
یہاں امیرالمؤمنین علیہالسلام کا مشہد (مرقد) ہے۔ اور پھر نشان لگا دیا…
نکتہ: صفوان جمال کی روایت میں موجود جملہ ثُمَّ خَط تخطیطاً یعنی نشان لگا دیا ، دمیری کی بات کہ جس میں اس نے دعوا کیا تھا کہ ہارون الرشید وہ پہلا شخص تھا کہ جس نے قبر مبارک کی بنیاد رکھی، کو رد کرتا ہے۔
مزید یہ کہ دمیری کی روایت میں ہارون کی تعمیر کے حوالے سے ابن طاؤوس کی بیان کردہ تفصیلات کی طرف کوئی اشارہ نہیں کیا گیا ہے..
ہارون الرشید عباسی کے دور میں گنبد سازی کا رائج نہ ہونا
- دوسری بات، پہلی صدی ہجری کے دوران دنیائے اسلام میں قبروں پر گنبد نہیں بنائے جاتے تھے۔
اولین گنبد کہ جو ایک ضریح پر بنایا گیا، وہ سال 248 ھ کو عراق میں عباسی خلیفہ منتصر بن متوکل کی قبر پر بنا اور قبۂ صلیبیہ کے نام سے معروف ہوا اور آج تک سامرا میں باقی ہے۔
خیر الدین زرگلی نے منتصر عباسی کے بارے میں بیان کیا ہے:
وہ بنی عباس میں سے پہلا شخص تھا کہ جسے اپنے باپ کے بعد خلافت ملی۔اس کی حکومت کی مدت کم تھی اور کہا جاتا ہے کہ وہ مسموم ہوا اور سامرا میں فوت ہوگیا۔ اس کی مدت خلافت 6 مہینہ اور کچھ دن تھی۔
وہ بنی عباس میں پہلا خلیفہ تھا کہ جس کی قبر آشکار ہوئی؛ کیوں کہ اس سے قبل، وہ اپنے مردوں کی قبروں کو اہمیت نہیں دیا کرتے تھے لیکن اس کی ماں نے ارادہ کیا کہ اس کی قبر کو آشکار اور نمایاں کرے۔
ڈاکٹر سعاد ماہر بھی اس حوالے سے کہتے ہیں:
منتصر کی ماں جو کہ یونانی تھی، اس نے کوشش کی کہ اس کی ضریح کو رہائشی محل سے الگ بنایا جائے اور یہ ضریح قبۂ صلیبیہ کے نام سے مشہور ہوئی۔
عطا حدیثی اور ھناء عبد خالق اس بارے میں بیان کرتے ہیں:
اب تک کسی مقبرے کے لیے بنایا گیا قدیمی ترین اور نمایاں گنبد، سامرا میں موجود صلیبیہ گنبد ہے جس کے بارے میں یہ مانا جاتا ہے کہ خلیفہ منتصر (246 ھ) اور اسی طرح سے دو اور خلیفہ یعنی معتز اور مقتدر کا مقام دفن ہے۔
ڈاکٹر عیسیٰ سلمان اور کچھ اور افراد صلیبیہ گنبد کے بارے میں کہتے ہیں:
یہ مقام نہ صرف عراق کے مذہبی مقامات میں، بلکہ دنیائے اسلام کے مقامات میں بھی اہمیت کا حامل ہے۔ یہ اہمیت اس وجہ سے ہے کہ صلیبیہ گنبد وہ قدیمی ترین مقبره ہے کہ جو اب تک باقی ہے اور دیکھا جاسکتا ہے۔
جعفر خیاط نے بھی اس حوالے سے مفصل وضاحت پیش کی ہے:
اگر ہم خلفائے سامرا کے دفن کے بارے میں موجود معلومات پر غور کریں تو ہمیں نظر آئے گا کہ ان کا پہلا خلیفہ، یعنی معتصم جوسق الخاقانی میں دفن ہوا ہے، اور واثق ہارونی میں دفن ہوا ہے اور متوکل کی ماں مسجد جعفریہ۔ یعنی مسجد ابودلف ۔ میں دفن ہوئی ہے۔
خود متوکل کو بھی قصر جعفری میں دفن کیا گیا۔ لیکن خلیفہ کا بیٹا، منتصر، وہ پہلا عباسی خلیفہ تھا کہ جس کی قبر عام لوگوں کے لیے واضح اور آشکار ہوئی؛ کیوں کہ اس کی یونانی ماں نے ذمہ دار افراد سے اجازت لی کہ اس کی قبر پر ایک خاص گنبد بنوائے اور اس کی درخواست قبول بھی کرلی گئی۔
یہ مقبرہ قعر صوامع کے ساتھ ہے۔ اسی طرح سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ معتز اور مہتدی کو بھی بعد میں اسی گنبد میں دفنایا گیا۔
کریسول کہتا ہے کہ ہیر تسفیلد نام کا ایک دانشمند معتبر ثبوتوں کی بنیاد پر یہ بات بیان کرتا ہے کہ صلیبی گنبد احتمالاََ وہی گنبد ہے جس میں یہ تین عباسی خلیفہ دفن ہوئے ہیں۔
ذی الحجہ 1329 ھ ق کو اس گنبد کے نیچے کی زمین کی کھدائی کے دوران تین اسلامی قبریں کشف ہوئیں۔ ان تین قبروں کا ملنا اس بات کی تائید ہے کہ صلیبی گنبد وہی گنبد ہے جو منتصر کی ماں نے اپنے بیٹے کے ربیع الاول 248 ھ ق میں قتل ہو جانے کے بعد اس کے محل میں بنوایا۔
اسی بنیاد پر، یہ گنبد نہ فقط اسلام کا قدیمی ترین گنبد سمجھا جاتا ہے بلکہ اس طرز کا سب سے پہلا گنبد بھی شمار کیا جاتا ہے۔
ڈاکٹر صلاح فرطوسی کہتے ہیں:
ہمیں یہ نہیں سمجھنا چاہیے کہ تاریخ اسلام کے اس دور میں مقدس قبروں پر کمرے یا گنبد کی مانند کوئی عمارت ہوا کرتی تھی اور اسی طرح سے اس کے بعد کے ادوار میں بھی؛ کیوں کہ اس زمانے میں مسلمانوں کی قبروں پر گنبد اور بڑی چھت بنانے کا رواج نہ تھا۔
اگر رواج ہوتا تو آج ہمیں خلفائے اموی و عباسی کی قبروں پر بہت سے گنبد اور چھتیں دیکھنے کو ملتیں۔
اسی طرح سے عبداللہ ابن عباس کی قبر پر کہ جو عباسیوں کی علامت اور ان کے لیے فخر کا باعث تھے، ایک بڑا گنبد بننا چاہیے تھا۔
در حقیقت، وہ پہلی قبر کہ جس پر گنبد بنایا گیا وہ سال 248 ھ میں منتصر باللہ بن متوکل کی قبر تھی۔
قبر مبارک امیرالمؤمنین علیہالسلام کی تخریب کے بعد کے واقعات
- تیسری بات، متوکل عباسی کے ذریعے قبر امیرالمؤمنین علیہالسلام کی تخریب کے بعد علامت کے طور کچھ پتھر قبر کے مقام کے اطراف میں رکھ دیے گئے۔
یہ مقام جو کہ ایک طرح سے قبر کی جگہ کا پتہ دیتا ہے، ایک ہموار اور بغیر عمارت والی زمین پر موجود تھا اور اب تک ارد گرد رہنے والوں کی جانب سے رہائش کے عنوان سے استعمال نہیں ہوا تھا۔
کچھ شیعوں کا سال 263 ھ کے آس پاس قبر امیرالمؤمنین علیہالسلام کی زیارت کرنا بیان شدہ بات کی تائید کرتا ہے۔
یعنی سید محمد بن زید حسنی کی عمارت بنائے جانے سے تقریبا بیس سال پہلے کہ جسے سید ابن طاؤوس نے اپنی سند کے ساتھ محمد بن علی بن شیبانی سے نقل کیا ہے:
میں اپنے والد، علی بن دحیم المعروف رحیم اور اپنے چچا، حسین بن دحیم کے ساتھ بچپن میں ایک گروہ کے ہمراہ مخفیانہ طور پر قبر امیرالمؤمنین (علیہالسلام) کی زیارت کے لئے نکلا۔
جب قبر پر پہنچے تو اس وقت صرف کچھ معمولی پتھر قبر کے ارد گرد رکھے تھے اور کسی بھی قسم کی عمارت اس پر موجود نہ تھی۔ زمین بھی بلکل ہموار تھی۔
جب ہم نماز اور زیارت میں مشغول تھے تو اچانک ایک بڑا شیر ہماری سمت آیا۔ جب ہم سے ایک نیزے کے فاصلے پر پہنچا تو کچھ لوگوں نے کہا: قبر سے دور ہوجائیں تاکہ دیکھ سکیں کہ یہ کیا چاہتا ہے۔ ہم دور ہوگئے اور شیر قبر کے پاس گیا اور اپنا ہاتھ قبر پر مَلا۔ ہم میں سے ایک نے جب یہ منظر دیکھا تو واپس آیا اور ہمیں بتایا تاکہ ہمارا خوف زائل ہوجائے ۔
ہم سب مطمئن ہونے کے لیے قبر کے پاس گئے اور دیکھا کہ وہ اپنا ہاتھ قبر پر مَل رہا ہے اور اس کے ہاتھ پر موجود زخموں کے نشان نمایاں تھے۔
کچھ دیر تک وہ یہی کرتا رہا اور پھر قبر سے دور ہوا اور چلا گیا۔
ہم نماز و قرآن پڑھنے اور زیارت کرنے کے بعد واپس لوٹ گئے۔
اس واقعے میں غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس روایت کے بیان کے وقت کسی قسم کی عمارت نجف میں موجود نہ تھی۔
یہ بات بڑی اہم دلیل ہے اور اس بات سے مطابقت رکھتی ہے جو اس سے قبل ہم نے بیان کی ہے؛ یعنی شہر نجف اشرف کے وجود میں آنے کی تاریخ سال 283 ھ کی طرف پلٹتی ہے اور پہلی عمارت مرقد امیرالمؤمنین علیہالسلام پر سید محمد بن زید حسنی کے توسط سے تعمیر کی گئی-
ہارون کی اہلبیت علیہمالسلام سے دشمنی کے معتبر ثبوت
- چوتھی بات، اگر ہارون عباسی نے قبر امیرالمؤمنین علیہالسلام پر کوئی عمارت بنوائی ہوتی تو یہ خلاف عقل ہوتا؛ کیوں کہ جو کچھ مؤرخین نے اس کی اہلبیت علیہمالسلام سے دشمنی اور علویوں اور شیعوں کے قتل و غارت کے حوالے سے بیان کیا ہے وہ اس سے میل نہیں کھاتا۔
اس کے ظالمانہ اقدامات میں سے ایک اس کا قبر امام حسین علیہالسلام کی تخریب اور ان کی زیارت کے لیے رکاوٹ ایجاد کرنا تھا۔
قبر امام حسین علیہالسلام پر موجود سدرہ کے درخت کو کاٹنے کا واقعہ
سید کرکی کہتے ہیں:
جو کام بنی امیہ کرنا چاہتے تھے وہ نہ کرسکے، اگرچہ کہ ایک مسجد اس پر موجود تھی اور بنی امیہ کے دور کے بعد بھی باقی رہی. بنی عباس کے دور میں بھی ایسا ہی رہا، بجز ہارون الرشید – اللہ کی لعنت ہو اس پر – کہ اس نے قبر مبارک کو ویران کیا اور جو سدرہ کا درخت وہاں موجود تھا اسے کاٹ ڈالا اور قبر کا مقام خراب کردیا۔
شیخ طوسی نے بھی یحییٰ بن مغیرہ رازی سے نقل کیا ہے:
میں جریر بن عبد الحمید کے پاس تھا کہ عراق سے ایک شخص اس کے پاس آیا۔ جریر نے اس سے خبریں معلوم کیں تو اس نے کہا:
ہارون الرشید نے قبر امام حسین علیہالسلام کو خراب کردیا ہے اور حکم دیا کہ جو سدرہ کا درخت وہاں موجود ہے اسے کاٹ دیا جائے۔
جریر نے اپنے ہاتھوں کو بلند کیا اور کہا: اللہ اکبر! پھر کہا کہ رسول اللہ صلیاللہعلیہوآلہ سے روایت ہے کہ اللہ لعنت کرے اس پر جو درخت سدرہ کو کاٹے (اور اس جملے کو تین مرتبہ دہرایا)۔ ہمیں اب تک اس بات کا صحیح مطلب معلوم نہ تھا؛ کیوں کہ درخت کو کاٹنے کا مقصد امام حسین علیہالسلام کی شہادت کے مقام کو مشکوک کرنا تھا تاکہ لوگ آپ کی قبر مبارک کی زیارت نہ کرسکیں۔
امام موسیٰ کاظم علیہالسلام کو بغداد میں قید اور شہید کرنا
شیخ صدوق کہتے ہیں:
پھر امام کو سندی بن شاہک کے حوالے کردیا گیا اور اس نے امام کو قید کرکے اذیتیں دینا شروع کر دیں۔ پھر ہارون الرشید نے کچھ زہر آلود کھجور بھیجیں اور حکم دیا کہ یہ امام کو دی جائے اور آپ کو مجبورا کھانی پڑی اور اس طرح امام شہید ہوگئے ۔ اللہ کا درود ہو ان پر۔
امام کاظم علیہالسلام کی شہادت کے بارے میں شیخ طبرسی کی روایت
فضل بن یحییٰ امام کے ساتھ عزت و احترام سے پیش آیا ۔ جب یہ خبر ہارون تک پہنچی تو وہ رقہ میں تھا، اس نے امام کے قتل کا حکم صادر کیا. حکم کی تعمیل نہ ہوئی اور ہارون اس بات سے غضب ناک ہوگیا اور حکم دیا کہ اس کو عباس بن محمد کے حوالے کردیا جائے اور اسے سو کوڑے مارے جائیں اور موسیٰ بن جعفر علیہالسلام کو سندی بن شاہک کے سپرد کردیا گیا۔
یحییٰ بن خالد کو جب یہ خبر ملی تو ہارون کے پاس گیا اور کہا: میں ضمانت دیتا ہوں کہ جو تم چاہتے ہو وہ ہوجائے گا۔ پھر بغداد گیا، سندی کو بلایا اور حکم کی تعمیل کی۔ زہر کو امام کے کھانے میں ڈالا گیا اور کہا جاتا ہے کہ کھجور میں ڈالا گیا، امام نے اسے کھایا اور تین دن بیمار رہے اور تیسرے دن شہید ہوگئے۔
تاریخی شواہد کی طرف توجہ کرنے اور قدیمی متون کے مطالعے کے بعد یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ قبر مبارک امیرالمؤمنین علیہالسلام کو آشکار کرنے یا اس پر کوئی عمارت بنوانے میں ہارون عباسی کا کوئی کردار نہیں رہا۔
قبر حضرت امیرالمؤمنین علیہالسلام بنی امیہ کے دور حکومت میں مخفی تھی، جنھوں نے قبر مبارک کو عام لوگوں کے لیے آشکار کیا وہ امام جعفر صادق علیہالسلام تھے۔
پہلی عمارت جو قبر شریف پر بنائی گئی وہ سید محمد بن زید حسنی کے حکم سے بنی اور اس بارے میں ایک غیبی روایت امام جعفر صادق علیہالسلام سے موجود ہے جو کہ تمام شواہد پر فوقیت رکھتی ہے اور بلاتردید ہے۔
کتاب تاریخ المرقد العلوی المطهر سے اقتباس
