اسی قلبی انسیت و مودت کے تحت معصومین علیهمالسلام کے یوم شہادت کے مخصوص اعمال انجام دیے جاتے ہیں۔ زیر نظر تحریر بھی سیدۂ کونین حضرت زہرا سلاماللہعلیہا کے یومِ شہادت کے مخصوص اعمال پر مشتمل ہے۔ ان اعمال کی ادائیگی سے پیروانِ ولایت اجرِ عظیم حاصل کر سکتے ہیں۔
زیارت کا اہتمام
اس دن کی اہم ترین عبادت حضرت زہرا سلاماللہعلیہا کی زیارت ہے۔ زیارت کے کلمات اس طرح ہیں:
"السّلامُ عَلَيْكِ يَا سَيِّدَةَ نِسَاءِ الْعَالَمِينَ… السَّلامُ عَلَيْكِ أَيَّتُهَا الْمَظْلُومَةُ الْمَمْنُوعَةُ حَقَّهَا"
ان کلماتِ سلام کے بعد دعا پڑھی جاتی ہے:
"اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى أَمَتِكَ وَ ابْنَةِ نَبِيِّكَ وَ زَوْجَةِ وَصِيِّ نَبِيِّكَ…” (مفاتيح الجنان، روزِ شہادت کے اعمال)
یہ زیارت مؤمنین کے دلوں میں محبتِ فاطمہ سلاماللہعلیہا کو مزید اجاگر کرتی ہے۔ اس کے ذریعے آپ کے عظیم مقام کا شعور بھی بیدار ہوتا ہے۔ یہ زیارت آپ پر ڈھائے گئے مظالم کی یاد بھی تازہ کرتی ہے۔
نمازِ شهادتِ حضرتِ فاطمه سلاماللہعلیہا کی ادائیگی
روزِ شہادت کی مخصوص نماز دو رکعت پر مشتمل ہے۔ ہر رکعت میں سورۂ حمد کے بعد ساٹھ مرتبہ سورۂ اخلاص (قلھواللہ) کی تلاوت کی جائے۔ اگر یہ ممکن نہ ہو تو متبادل طریقہ بھی بیان ہوا ہے۔ پہلی رکعت میں سورۂ حمد کے بعد سورۂ اخلاص پڑھی جائے۔ اور دوسری رکعت میں سورۂ حمد کے بعد سورۂ کافرون (قلیاایھاالکافرون) کی تلاوت کی جائے۔ سلام کے بعد زیارت حضرت زہرا سلاماللہعلیہا پڑھی جائے۔[۱]
نمازِ جنابِ سیدہ علیهاالسلام
حضرت زہرا سلاماللہعلیہا خود بھی دو رکعت نماز ادا فرمایا کرتی تھیں۔ یہ نماز جبرائیل علیہالسلام کے ذریعے آپ کو تعلیم کی گئی تھی۔
اس کی کیفیت یہ تھی کہ پہلی رکعت میں حمد کے بعد سو مرتبہ «إِنَّا أنزلناه» اور دوسری رکعت میں حمد کے بعد سو مرتبہ سورۂ توحید پڑھی جاتی تھی۔ نماز کے سلام کے بعد اِس دعا کا پڑھنا مستحب ہے جو بی بی سلاماللہعلیہا خود پڑھا کرتی تھیں:
سُبْحَانَ ذِي اَلْعِزِّ اَلشَّامِخِ اَلْمُنِيفِ سُبْحَانَ ذِي اَلْجَلاَلِ اَلْبَاذِخِ اَلْعَظِيمِ سُبْحَانَ ذِي اَلْمُلْكِ اَلْفَاخِرِ اَلْقَدِيمِ سُبْحَانَ مَنْ لَبِسَ اَلْبَهْجَةَ وَ اَلْجَمَالَ سُبْحَانَ مَنْ تَرَدَّی بِالنُّورِ وَ اَلْوَقَارِ سُبْحَانَ مَنْ يَرَی أَثَرَ اَلنَّمْلِ فِي اَلصَّفَا سُبْحَانَ مَنْ يَرَی وَقْعَ اَلطَّيْرِ فِي اَلْهَوَاءِ سُبْحَانَ مَنْ هُوَ هَكَذَا وَ لاَ هَكَذَا غَيْرُهُ[۲]
عاشقانِ سیدہ سلاماللہعلیہا کو چاہیے کہ اس عظیم نماز اور اس کے بعد کی دعا کی تلاوت فرمائیں۔
گریہ و عزاداری
ہر شخص اپنی استطاعت و توانائی کے مطابق جناب حضرت زہرا سلاماللہعلیہا کی شہادت کے دن عزاداری برپا کرے۔ عزاداری محض دکھ کا اظہار نہیں، بلکہ بی بی علیهاالسلام کے حق اور مظلومیت کی یاد دہانی ہے اور ظالم کے منہ پر یہ طمانچہ ہے کہ ستم کو تا صبحِ قیامت چھپنے نہیں دیا جائے گا۔ معصومین علیهمالسلام پر ڈھائی جانے والی مصیبتوں پر گریہ کرنا سنت ہے۔ یہ عمل دل کو نرم کرتا ہے اور محبت و وفا کے جذبات کو زندہ رکھتا ہے۔
تسبیح کرنا
تسبیحات حضرت زہرا سلاماللہعلیہا؛ روزِ شہادت کے اعمال میں تسبیحاتِ حضرتِ فاطمہ سلاماللہعلیہا کا ورد شامل ہے۔
اس کا طریقہ: ۳۴ بار اللہ اکبر، ۳۳ بار الحمد للہ، اور ۳۳ بار سبحان اللہ ہے۔
یہ تسبیح روح کو پاک کرتی ہے اور بی بی سلاماللہعلیہا کی تعلیم کردہ یہ تسبیح مؤمن کے اعمال کو قربتِ الٰہی کا ذریعہ بناتی ہے۔
نتیجہ
یوم شہادت کے مخصوص اعمال کی ادائیگی کے ذریعے مؤمنین و مؤمنات حضرت زہرا سلاماللہعلیہا کی محبت و مودت کا عملی تقاضا پورا کرتے ہیں، خود کو اہلِ بیت علیہمالسلام سے منسلک کرتے ہیں اور دنیا و آخرت میں اجر و رضاے الٰہی کے مستحق ٹھہرتے ہیں، وہ جنابِ سیدہ سلاماللہعلیہا کے منظورِ نظر کہلاتے ہیں اور گویا یہ اعلان کرتے ہیں کہ ’’ہم کل بھی آپ کے ساتھ تھے اور آج بھی آپ کے ساتھ ہیں‘‘۔
حوالہجات
[۱] مفاتيح الجنان، یوم شہادت کے اعمال
[۲] زاد المعاد ج۱ ص۳۱۹
