بعض اسلامی معاشروں میں یہ کمزوری پائی جاتی ہے کہ عبادات اور دینی فرائض کو انفرادی عمل تک محدود کر دیا جاتا ہے۔ سماجی کردار اور اجتماعی ذمہ داریوں کو اکثر نظر انداز کردیا جاتا ہے۔ انسانی معاشرہ اسی وقت کمال اور سعادت کی راہ پر گامزن ہوسکتا ہے۔ جب افراد اپنی اجتماعی ذمہ داریوں کو شعوری طور پر نبھائیں اور مفید و مقصدی کردار ادا کریں۔
اعتدال اور میانہروی
ہر وہ فکر یا عمل جو ظاہراً سعادت کی راہ دکھائی دیتا ہو، اگر حد اعتدال سے آگے بڑھ جائے تو ضلالت اور گمراہی کا سبب بن سکتا ہے۔
یہی انحراف مذہبی ایام میں اس وقت خطرناک صورت اختیار کر لیتا ہے جب عبادت کی روح، یعنی توازن، عقلانیت اور اخلاص، محض رسم میں بدل جائے۔
امیرالمومنین علیہالسلام نے اعتدال کو ایمان کا جوہر قرار دیا ہے ۔ آپ علیہالسلام نے ان لوگوں کی تعریف فرمائی ہے جو سفر میں روزہ افطار کرتے ہیں۔
آپ علیہالسلام نے فرمایا:
آپ لوگوں میں سے منتخب افراد وہ ہیں جو جب سفر پر نکلیں، نماز قصر پڑھتے ہیں اور روزہ افطار کرتے ہیں۔[۱]
ہمدلی، میل جول اور سماجی رابطہ
امیرالمومنین علیہالسلام رمضان میں بلکہ صلہ رحمی، رشتہ داروں اور خاندان والوں سے میل ملاپ، معاشرتی امور میں شرکت کی تاکید فرماتے ہیں۔[۲]
آپ علیہالسلام اس مہینے میں اپنے خاندان اور اقربا کی زیارت اور ان کی خبرگیری کا اہتمام فرماتے۔
شیخ مفید نقل کرتے ہیں:
امیرالمومنین علیہالسلام ماه رمضان کی ہر شب اپنے فرزندوں کے گھروں میں تشریف لے جاتے، ان کی احوالپرسی کرتے اور ان کے ساتھ وقت گزارتے۔[۳]
آپ علیہالسلام کی نگاہ میں افطار کی دعوت قبول کرنا، محبت اور ہمدلی کا مظہر تھا۔
روایت ہے:
آپ علیہالسلام نے رسول خدا صلیاللہعلیہوآلہ کی ایک یاد کا حوالہ دیتے ہوئے فرمایا:
افطار کی دعوت قبول کرنا اور روزہ داروں کے ساتھ بیٹھنا، بعض اوقات نماز جماعت کی ادائیگی پر بھی مقدم ہے۔[۴]
تبلیغ اور سماجی خدمت کا جذبہ
امیرالمومنین علیہالسلام نے ماہِ رمضان میں بھی اپنے اجتماعی اور تبلیغی فرائض ترک نہیں کیے۔ ان ذمہ داریوں نے آپ علیہالسلام کے اعمال اور اس مقدس مہینے کی عبادات میں بھی کوئی خلل نہیں ڈالا۔
ماہ رمضان کے دسویں سال ہجرت میں آپ علیہالسلام کی یمن کی جانب تبلیغی و انتظامی ہجرت اسی حقیقت کی روشن مثال ہے۔
آپ علیہالسلام کو ایک ایسی جماعت کی قیادت سپرد کی گئی۔ اس میں دینی مبلغین کے ساتھ حفاظتی سپاہی بھی شامل تھے۔
اس لیے کی اس سے قبل متعدد قبائل نے اسلامی مبلّغین پر حملے کیے تھے اور انہیں قتل کر دیا تھا۔
یہ سفر دینی و سیاسی دونوں لحاظ سے نہایت اہم تھا کیونکہ یمن میں اُس وقت یہود و نصاریٰ کے اثرات گہرے تھے۔
ان فرقوں کے مبلغ وہاں موجود تھے، امیرالمومنین علیہالسلام تین سو سواروں کے ہمراہ یمن روانہ ہوئے۔[۵]
وہاں آپ علیہالسلام کی تبلیغی کوششوں کے نتیجے میں قبیلہ ہمْدان نے ایک ہی دن میں اجتماعی طور پر اسلام قبول کیا۔[۶]
جب رسول خدا صلیاللہعلیہوآلہ تک یہ خبر پہنچی تو آپ علیہالسلام نے سجدۂ شکر ادا کیا۔ بعد از اں ہمدان قبیلے اور یمن کے دوسرے نئے مسلمانوں پر اپنے خط میں تین مرتبہ سلام فرمایا۔[۷]
یہ کامیابی اسی سال میں اس وقت حاصل ہوئی جب خالد بن ولید اسی خطے کی طرف تبلیغی سفر پر گیا تھا مگر کوئی کامیابی حاصل نہ کر سکا۔[۸]
حوالہجات
[۱] ۔ ثواب الاعمال، شیخ صدوق، ص ۹۸
[۲] ۔ الإرشاد، شیخ مفید، ج ۱، ص ۱۴
[۳] ۔ الإرشاد، شیخ مفید، ج ۱، ص ۱۴
[۴] ۔ المقنعة، محمد بن نعمان مفید، ج ۱، ص ۲۸۰
[۵] ۔ تقی الدین احمد بن علی بن عبدالقادر مقریزی، إمتاع الأسماع، ج ۲، ص ۹۵ – ۱۰۲
[۶] ۔ تاریخ طبری، ج ۳، ص ۱۳
[۷] ۔ مقریزی، ج ۲، ص ۱۰۷
[۸] ۔ تاریخ طبری، ج ۳، ص ۱۳۲