معاشرتی اور مذہبی شعائر میں اقتصادی پہلوؤں پر توجہ
معاشرتی عناصر میں اقتصادی موضوعات اہمیت رکھتے ہیں۔ اگر ان کی طرف توجہ نہ دی جائے تو دین کے تمام انتظامات اور سرگرمیوں کے باوجود معاشرہ نقصان کا شکار ہو سکتا ہے۔
مثال کے طور پر، امیرالمومنین علیہالسلام نے ماہ رمضان میں مادی حقوق کے احترام کے حوالے سے افطار سے قبل رسول خدا صلیاللہعلیہوآلہ کی ایک حدیث کی روشنی میں یہ دعا فرمائی:
پروردگارا! ہم نے تیرے لیے روزہ رکھا اور جس رزق کو تو نے ہمارے لیے مقرر فرمایا اس پر افطار کیا۔ پس اسے ہم سے قبول فرما، ہماری بھوک دور ہوئی، ہماری رگیں خون سے بھر گئیں اور ہمارے لیے اجر باقی رہے۔ ان شاء اللہ۔[۱]
امیرالمومنین علیہالسلام افطار کے لیے مخصوص خوراک کو پاکیزہ رکھنے کا اتنا اہتمام اتنا کرتے کہ اسے مخصوص تھیلے میں بند کر رکھتے تھے یہاں تک کہ بعض لوگ اسے کنجوسی سمجھ بیٹھتے[۲]۔
یہ احتیاط اُن لوگوں کے لیے سبق بن جاتا جو اپنے اقتصادی تعلقات میں دوسروں کے حقوق اور شرعی و قانونی ضوابط کی پابندی نہیں کرتے، کیونکہ اس سے عوام میں اُن کی حیثیت کمزور ہو جاتی اور وہ کسی حد تک تنہائی کا شکار ہو جاتے ہیں۔
امیرالمومنین علیہالسلام نے نہ صرف مال و دولت کے حصول میں قانونی اور شرعی حدود کی پاسداری پر زور دیا بلکہ اخلاقی اقتصادی رویوں جیسے قناعت کو بھی عام کرنے کی ترغیب دی۔
مثال کے طور پر جب عدی بن حاتم نے آپ علیہالسلام سے سادہ افطار کرنے کی وجہ پوچھی، تو آپ علیہالسلام نے قناعت کو اپنی سادگی کی بنیاد بتایا۔[۳]
اسی طرح ماہ رمضان میں رشتہ داروں کا خیال رکھنے اور محتاجوں کو کھانا کھلانے کی خصوصی تاکید آپ علیہالسلام کی نمایاں سیرت تھی۔ پ
یہ طرز عمل معاشرتی ذمہ داری کے احساس کو اجاگر کرتا اور عوام کی اقتصادی مشکلات کے ازالے میں معاون بنتا تھا۔
جہاد اور سیاسی ذمہ داری پر توجہ
ماہِ رمضان میں امیرالمومنین علیہالسلام کی سیرت صرف عبادت، اخلاق اور روحانیت تک محدود نہیں تھی۔ آپ علیہالسلام نے سیاسی بحرانوں میں بھی فعال کردار ادا کرتے ہوئے اپنی ذمہ داریاں انجام دیں۔
مثال کے طور پر، جنگ بدر میں حضرت کا حصہ لینا، جو رسول خدا صلیاللہعلیہوآلہ اور مشرکین مکہ کے درمیان پہلا براہ راست معرکہ تھا۔
یہ واقعہ آپ علیہالسلام کے شجاع اور ذمہ دار کردار کی ایک نمایاں مثال ہے۔ ساتھ ہی یہ آپ علیہالسلام کے لیے باعثِ فخر بھی ہے۔
یہ جنگ ہجرت کے دوسرے سال، ماہ رمضان میں روزے فرض ہونے کے بعد پیش آئی۔
اس موقع پر امیرالمومنین علی علیہالسلام رسول خدا صلیاللہعلیہوآلہ کے ہمراہ سفر کے دوران عقاب نامی سیاہ پرچم تھامے ہوئے تھے۔[۴][۵][۶][۷][۸]
اسی طرح ہجرت کے ساتویں سال ماہِ رمضان میں امیرالمومنین علیہالسلام نے فدک کی فتح کے لیے سو فوجیوں کی قیادت سنبھالی۔
آپ علیہالسلام نے اس مہم میں لشکر کی قیادت کرتے ہوئے فدک کی جانب پیش قدمی فرمائی۔ اس لشکرکشی میں امام علیہالسلام رات کے وقت حرکت کرتے تاکہ دشمن ان کے مقصد سے آگاہ نہ ہو۔[۹]
فدک کی فوجی کارروائی امیرالمومنین علیہالسلام کی حکمت و تدبیر سے خونریزی کے بغیر کامیاب ہوئی۔ یوں یہ یہودی آبادی والا علاقہ فتح ہوگیا۔
امیرالمومنین علیہالسلام کے ماہ رمضان میں سیاسی و فوجی کردار کی ایک اور مثال فتح مکہ کا واقعہ ہے۔ اس موقع پر آپ علیہالسلام نے رسول خدا صلیاللہعلیہوآلہ کے پرچم کی قیادت اور حفاظت فرمائی۔[۱۰]
اس فتح کی اہمیت مکہ کی روحانی حیثیت اور قریشیوں سے براہ راست مقابلے کے باعث مزید بڑھ گئی تھی۔ قریش رسول خدا صلیاللہعلیہوآلہ کے رشتہ دار اور مہاجرین تھے، جس نے اس مقابلے کو مزید اہم بنا دیا۔ فتح مکہ آٹھ ہجری کے ماه رمضان میں ہوئی۔
پرچم امیرالمومنین علی علیہالسلام کو سونپنے کی وجہ
پرچم امیرالمومنین علیہالسلام کو سونپنے کا مقصد یہ تھا کہ مسلمان فاتحین کی ممکنہ زیادتی اور تشدد سے بچا جاسکے۔۔[۱۱]
اسی طرح دیگر ائمہ اطہار علیہمالسلام اور علوی نسل کے افراد نے امیرالمومنین علیہالسلام کے سیاسی و فوجی کردار سے رہنمائی حاصل کی۔
انہوں نے ماہ رمضان جیسے عبادتی مواقع پر بھی آپ علیہالسلام کی سیرت اور طرز عمل کی پیروی کی۔
بلاذری اپنی کتاب میں اس بات کی یاد دہانی کراتے ہیں:
چالیس ہجری کے ماہ رمضان میں جب امیرالمومنین علیہالسلام مسجد میں عبدالرحمن بن ملجم کے ہاتھوں شہید ہوئے، امام حسین علیہالسلام مدائن میں تھے۔ شام کے خلاف فوجی قیادت سنبھالے ہوئے تھے۔[۱۲]
ماہ رمضان میں جہاد یا مسلح قیام کرنے، یا اسی ماہ شہید ہونے والے علویوں کے نام درج ذیل ہیں:
- حسن بن زید بن محمد بن اسماعیل بن حسن بن زید بن حسن بن علی۔[۱۳]
- ابراہیم بن عبدالله بن حسن بن حسن بن علی جو ابراہیم باخمری کے نام سے مشہور ہیں۔[۱۴]
- محمد بن عبدالله بن حسن بن حسن بن علی جو نفس زکیہ کے نام سے مشہور ہیں۔[۱۵]
مآخذ و مصادر
[۱] ۔ الکافی، ج ۴، ص ۹۵
[۲] ۔ تهذیب الأحکام، ج ۴، ص ۲۰۰
[۳] ۔ مجلسی، بحارالأنوار، ج ۴۰، ص ۳۲۵
[۴] ۔ راوندی، النوادر، ص ۱۷۵
[۵] ۔ ابن کثر، البدایۀ و النهایۀ، دارالفکر، ۱۴۰۷ ه.ق، ج ۳، ص ۲۵۵
[۶] ۔ طبری، تاریخ الأمم و الملوک، دارالتراث، ۱۳۸۷ ه.ق، ج ۲، ص ۴۲۰
[۷] ۔ محمدبن احمد ذهبی، تاریخ الاسلام، دارالکتابالعربی: ۱۴۱۲ ه.ق، ج ۲، ص ۱۰۵
[۸] ۔ ابن کثر، البدایۀ و النهایۀ ج ۳، ص ۲۶۰
[۹] ۔ طبری، بیروت: دارالتراث، ١٣٨٧ ه.ق ج۳، ص ۱۳۱۰، ۱۱۳۱
[۱۰] ۔ ابن کثر، البدایۀ و النهایۀ، دارالفکر، ١۴٠٧ ه.ق، ج ۴، ص۳۰۰
[۱۱] ۔ ابن کثر، البدایۀ و النهایۀ، دارالفکر، ج ۲، ص ۲۴۶
[۱۲] ۔ بلاذری، انساب الأشراف ، ج ۲، ص ۴۹۷
[۱۳] ۔ طبری، دارالتراث، ١٣٨٧ ه.ق ج ۹، ص ۲۷۱
[۱۴] ۔ خلیفۀ بن خیاط، تاریخ خلیفۀ بن خیاط، تحقیق فواز: دارالکتبالعلمیۀ، ۱۴۴۵ ه.ق، ص۲۷۶
[۱۵] ۔ مسعودی، التنبیه و الإشراف، تصحیح عبد الله اسماعیلالصاوی، قاهرہ، دارالصاوی،بیتا، ص ۲۹۵