آج زیر بحث آیت سورہ تکویر کی آیت نمبر ۲۷ ہے
اللہ تعالیٰ سورہ تکویر کی آیت ۲۷ میں ارشاد فرماتا ہے:
"إِنْ هُوَ إِلاَّ ذِكْرٌ لِلْعالَمينَ؛
یہ قرآن دنیا والوں کے لیے بس ایک نصیحت (یاد دہانی) ہے۔
امام باقر علیہالسلام فرماتے ہیں:
"إِنْ هُوَ إِلَّا ذِکْرٌ لِلْعالَمِینَ سے مراد امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام ہیں۔ "[۱]
جابر بن یزید روایت کرتے ہیں:
میں امام باقر علیہالسلام کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپ نے فرمایا: "بے شک حضرت علی علیہالسلام اپنے خطبے میں فرماتے تھے:… وہ یاد دہانی (ذکر) جو بھلا دی گئی اور جسے لوگوں نے کھو دیا، وہ میں ہوں، اور وہ راستہ جس سے (لوگ) پلٹ گئے، وہ میرا راستہ ہے۔”[۲]
مآخذ
[۱] تفسیر اهلبیت (علیهمالسلام) ج۱۷، ص۴۱۸/ الکافی، ج۸، ص۲۸۷/ بحرالعرفان، ج۱۱، ص۷۴
[۲] تفسیر اهلبیت (علیهمالسلام) ج۱۷، ص۴۱۸/ الکافی، ج۸، ص۲۸/ بحرالعرفان، ج۱۱، ص۷۴