سب سے زیادہ تلاش کیا گیا:

امیرالمومنین اور شرح صدر

کیا ہم نے آپ صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ کا سینہ کشادہ نہیں کیا؟

امیر‌المومنین علی علیہ‌السلام کی معرفت کا ایک بہترین ذریعہ قرآن مجید ہے۔ اس حصے میں ہم علوی آیات کے عنوان سے آیات قرآنی کی روشنی میں امیر‌المومنین علی علیہ‌السلام کی شان و منزلت کو جاننے کی کوشش کریں گے۔ اس تحریر میں زیر بحث آیت سورہ انشراح کی آیت نمبر ۱ ہے۔

سورہ انشراح آیت ۱: امیرالمومنین اور شرح صدر

خداوند سورہ انشراح کی آیت ۱ میں فرماتا ہے:

أَ لَمْ نَشْرَحْ لَكَ صَدْرَكَ

کیا ہم نے آپ صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ کے سینے نہیں کھول دیا؟

پیغمبر اکرم صلی‌اللہ‌علیہ‌و‌آلہ کی روایت

روایت ہے کہ رسول اللہ صلی‌اللہ‌علیہ‌و‌آلہ نے آیت أَ فَمَنْ شَرَحَ اللهُ صَدْرَهُ لِلْإِسْلامِ (زمر: ۲۲) تلاوت فرمائی۔

پھر فرمایا: یہ وہ نور ہے جسے اللہ مومن کے دل میں ڈالتا ہے، پھر اس کا سینہ (دل) کھل جاتا ہے۔

آپ علیہ‌السلام سے عرض کیا گیا: کیا اس کی کوئی نشانی ہے جس سے اسے پہچانا جائے؟

آپ علیہ‌السلام نے فرمایا: ہاں! (اس کی نشانی یہ ہے کہ وہ) ہمیشہ رہنے والے گھر (جنت) کی طرف رجوع کرے اور دھوکے کے گھر (دنیا) سے دوری اختیار کرے اور موت کے آنے سے پہلے ہی اس کے لیے تیار رہے۔[۱]

امام جعفر صادق علیہ‌السلام کی روایت

جمیل اور حسن بن راشد نے امام صادق علیہ‌السلام سے اللہ عزوجل کے کلام أَلَمْ نَشْرَحْ لَکَ صَدْرَکَ کے بارے میں نقل کیا:

آپ علیہ‌السلام نے فرمایا: امیر‌المومنین علی علیہ‌السلام کی ولایت کے ذریعے۔[۲]

امام محمد باقر اور امام جعفر صادق علیہما‌السلام سے بھی نقل ہوا ہے:

أَلَمْ نَشْرَحْ لَکَ صَدْرَکَ؛ کیا ہم نے تمہیں آگاہ نہیں کیا کہ تمہارا وصی کون ہے؟ پس ہم نے اسے تمہارا مددگار اور تمہارے دشمن کو ذلیل کرنے والا بنایا۔[۳]

سلیمان کہتے ہیں:

میں نے امام جعفر صادق علیہ‌السلام سے اللہ تعالی کے کلام أَلَمْ نَشْرَحْ لَکَ صَدْرَکَ کے بارے میں پوچھا۔

آپ علیہ‌السلام نے فرمایا: امیر‌المومنین علی علیہ‌السلام کے ذریعے، پس انہوں نے انہیں اپنا وصی بنا لیا۔[۴]

علی بن موسی الرضا علیہ‌السلام کی روایت

امام علی رضا علیہ‌السلام نے اس آیت کے بارے میں فرمایا:

أَ لَمْ نَشْرَحْ لَکَ صَدْرَک؛ یعنی اے محمد صلی‌اللہ‌علیہ‌و‌آلہ! کیا میں نے علی علیہ‌السلام کو تمہارا وصی نہیں بنایا؟[۵]

علی بن ابراہیم رحمۃاللہ‌علیہ کی روایت

آپ سے اس آیت کے بارے میں نقل ہوا ہے:

أَلَمْ نَشْرَحْ لَکَ صَدْرَکَ؛ (یعنی اللہ نے فرمایا:) امیر‌المومنین علی علیہ‌السلام کے ذریعے، اور ہم نے انہیں تمہارا وصی بنایا۔ جب مکہ فتح ہوا اور قریش کے لوگ اسلام لائے، تو اللہ نے پیغمبر اکرم صلی‌اللہ‌علیہ‌و‌آلہ کا سینہ (دل) کھول دیا اور ان کے لیے کاموں کو آسان کر دیا۔[۶]

مآخذ
[۱] تفسیر اهل‌بیت (علیهم‌السلام) ج۱۸، ص۱۹۴ / روضه الواعظین، ج۲، ص۴۴۸
[۲] تفسیر اهل‌بیت (علیهم‌السلام) ج۱۸، ص۱۹۴/  بحار الانوار، ج۳۶، ص۹۵/ بصایرالدرجات، ص۷۲
[۳] تفسیر اهل‌بیت (علیهم‌السلام) ج۱۸، ص۱۹۴ بحار الانوار، ج۳۶، ص۱۳۴/ بحار الانوار، ج۳۶، ص۱۳۴/ المناقب، ج۳، ص۲۳
[۴] تفسیر اهل‌بیت (علیهم‌السلام) ج۱۸، ص۱۹۴ / بحار الانوار، ج۳۶، ص۱۳۵/ تأویل الآیات الظاهرهْ، ص۷۸۶
[۵]  تفسیر اهل‌بیت (علیهم‌السلام) ج۱۸، ص۱۹۴ / بحار الانوار، ج۳۶، ص۱۳۴/ المناقب، ج۳، ص۲۳
[۶] تفسیر اهل‌بیت (علیهم‌السلام) ج۱۸، ص۱۹۴ / بحار الانوار، ج۳۶، ص۱۳۳/ القمی، ج۲، ص۴۲۸

مزید مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے