سب سے زیادہ تلاش کیا گیا:

امیرالمومنین علیہ‌السلام اور سقائے حجاج

امیر‌المومنین علیہ‌السلام: حاجیوں کو پانی پلانے والے (سقائے حجاج)

سورہ توبہ کی آیات نمبر ۱۹، ۲۰ اور ۲۱، جن کا تذکرہ زیارت غدیریہ کے ایک فراز (حصے) میں بھی آیا ہے، ان لوگوں کے درمیان واضح فرق قائم کرتی ہیں جو صرف دین کے ظواہر (ظاہری امور) پر مکتفی رہے اور ان نفوس کے درمیان جنہوں نے سچے ایمان، ہجرت اور راہِ خدا میں والہانہ جدوجہد کے ساتھ جہاد کیا۔ ان آیات مبارکہ کا سب سے اعلیٰ، اکمل اور حقیقی مصداق امیر‌المومنین علیہ‌السلام کی ذات گرامی ہے۔

سورہ توبہ کی آیت نمبر ۱۹، جو آیت سقایۃ الحاج (حاجیوں کو پانی پلانے کی آیت) کے نام سے مشہور ہے۔ اسے کثیر محققین اور علمائے کرام نے دیگر صحابہ پر امیر‌المومنین علیہ‌السلام کی برتری اور افضلیت کی ایک محکم دلیل مانا ہے۔ اسی طرح اس سورہ کی آیات نمبر ۲۰ اور ۲۱ بھی کنایۃً و ضمناً امیر‌المومنین علیہ‌السلام کے فضائل کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔ امیر‌المومنین علیہ‌السلام کی ذات گرامی، جنہوں نے آغاز اسلام سے لے کر اپنی عمر مبارک کے آخری لمحات تک ایمان، ایثار، ہجرت اور راہ خدا میں جہاد کرنے میں ہمیشہ سبقت حاصل کی، ان آیات کا حقیقی اور اکمل مصداق شمار ہوتی ہے۔

سورہ توبہ کی آیت نمبر ۱۹

«أَجَعَلْتُمْ سِقَايَةَ الْحَاجِّ وَعِمَارَةَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ كَمَنْ آمَنَ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَجَاهَدَ فِي سَبِيلِ اللهِ لَا يَسْتَوُونَ عِنْدَ اللهِ وَاللهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الظَّالِمِينَ»

کیا تم نے حاجیوں کو پانی پلانے اور مسجدِ حرام کو آباد کرنے کو اس شخص (کے عمل) کی مانند قرار دے دیا ہے جو اللہ اور روزِ قیامت پر ایمان لایا اور اس نے اللہ کی راہ میں جہاد کیا؟ یہ اللہ کے نزدیک برابر نہیں ہو سکتے؛ اور اللہ ظالم لوگوں کی قوم کو ہدایت نہیں فرماتا۔

سورہ توبہ کی آیت نمبر ۲۰

«الَّذِينَ آمَنُوا وَهَاجَرُوا وَجَاهَدُوا فِي سَبِيلِ اللهِ بِأَمْوَالِهِمْ وَأَنْفُسِهِمْ أَعْظَمُ دَرَجَةً عِنْدَ اللهِ وَأُولَٰئِكَ هُمُ الْفَائِزُونَ»

جو لوگ ایمان لائے، انہوں نے ہجرت کی اور اپنے مالوں اور اپنی جانوں کے ساتھ اللہ کی راہ میں جہاد کیا، اللہ کے نزدیک ان کا مرتبہ بہت بڑا ہے اور یہی لوگ کامیاب ہونے والے ہیں۔

سورہ توبہ کی آیت نمبر ۲۱

«يُبَشِّرُهُمْ رَبُّهُمْ بِرَحْمَةٍ مِنْهُ وَرِضْوَانٍ وَجَنَّاتٍ لَهُمْ فِيهَا نَعِيمٌ مُقِيمٌ»

ان کا پروردگار انہیں اپنی طرف سے رحمت، خوشنودی اور ایسے باغات کی بشارت دیتا ہے جن میں ان کے لیے دائمی اور ابدی نعمتیں ہوں گی۔

امام علی نقی علیہ‌السلام کی روایت کے مطابق، زیارت غدیریہ میں ان آیات کا ذکر ملتا ہے۔ یہ آیات امیرالمومنین علیہ‌السلام کے بلند و بالاتر مقام و مرتبے کی یاد دہانی کراتی ہیں۔

زیارتِ غدیریہ کے ایک فراز (حصے) میں سورۂ توبہ کی آیت نمبر ۱۹ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے آیا ہے:

آپ علیہ‌السلام وہ ہستی ہیں جس کی برتری اور فضیلت کا قرآن ناطق ہے، اور الله تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:

کیا تم نے حاجیوں کو پانی پلانے اور مسجد حرام کو آباد کرنے کو قدر و منزلت میں اس شخص کی مانند قرار دے دیا ہے جو اللہ اور روز قیامت پر ایمان لایا اور اس نے اللہ کی راہ میں جہاد کیا؟ (ان دونوں کی ارزش) اللہ کے نزدیک یکساں نہیں ہے؛ اور اللہ ستمگاروں کو ہدایت نہیں دیتا۔

اسی زیارت کے دوسرے فراز میں سورۂ توبہ کی آیت نمبر ۲۰ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے آیا ہے:

آپ علیہ‌السلام وہ ہستی ہیں جس کی برتری اور فضیلت کا قرآن ناطق ہے، اور خدائے تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:

جو لوگ ایمان لائے، جنہوں نے ہجرت کی اور اپنے مالوں اور اپنی جانوں کے ساتھ اللہ کی راہ میں جہاد کیا، بارگاہ الٰہی میں ان کا مرتبہ کہیں بلند ہے اور یہی لوگ بامراد و کامیاب ہیں۔

اور ایک اور فراز میں سورۂ توبہ کی آیت نمبر ۲۱ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے آیا ہے:

آپ علیہ‌السلام وہ ہستی ہیں جس کی برتری اور فضیلت کا قرآن ناطق ہے، اور خدائے تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:

ان کا پروردگار انہیں اپنی طرف سے ایک خاص رحمت، اپنی رضا اور ایسی جنتوں کی مژدہ سناتا ہے جن میں ان کے لیے لازوال اور دائمی نعمتیں ہیں؛ وہ ان میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے، یقیناً اللہ ہی ہے جس کے پاس بڑا اجر و ثواب ہے۔

سورہ توبہ کی آیات نمبر ۱۹ سے ۲۱ کا امیر‌المومنین علیہ‌السلام کی ولایت کے ساتھ پیوند (جو کہ قرآن مجید کی آیات علوی میں سے ہیں) اس جہت سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ آیات ایمان، جہاد اور راہ خدا میں والہانہ مجاہدت کی فضیلت کو بیان کرتی ہیں۔ کثیر مفسرین ان تمام خصوصیات کو اپنے اوج اور اعلیٰ ترین درجے پر امیر‌المومنین علیہ‌السلام کی شخصیت مبارکہ میں مجسم دیکھتے ہیں۔

امام علی نقی‌ علیہ‌السلام عید غدیر کے دن امیر‌المومنین علیہ‌السلام کے مزار اقدس پر حاضر ہوئے۔

سورہ توبہ کی آیات ۱۹، ۲۰ اور ۲۱ کی تلاوت فرماتے ہوئے یوں ارشاد فرمایا:

اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:

أَجَعَلْتُمْ سِقَايَةَ الْحَاجِّ وَعِمَارَةَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ كَمَنْ آمَنَ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَجَاهَدَ فِي سَبِيلِ اللهِ لَا يَسْتَوُونَ عِنْدَ … (توبہ/۱۹) الَّذِينَ آمَنُوا وَهَاجَرُوا وَجَاهَدُوا فِي سَبِيلِ … (توبہ/۲۰) يُبَشِّرُهُمْ رَبُّهُمْ بِرَحْمَةٍ مِنْهُ وَرِضْوَانٍ وَجَنَّاتٍ لَهُمْ فِيهَا نَعِيمٌ مُقِيمٌ خَالِدِينَ فِيهَا أَبَداً إِنَّ اللهَ عِنْدَهُ أَجْرٌ عَظِيمٌ (توبہ/۲۱)

میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ علیہ‌السلام ہی اللہ تعالیٰ کی مخصوص مدح و ثنا کے سزاوار ٹھہرے، آپ علیہ‌السلام نے اللہ کی اطاعت میں خالص ترین اخلاص کا مظاہرہ کیا، ہدایت کے لیے آپ علیہ‌السلام نے (حق کا) کوئی متبادل تلاش نہ کیا اور اپنے پروردگار کی عبادت میں کسی کو شریک نہ ٹھہرایا۔[۱]

جناب ابوذر نے سورۂ توبہ کی آیت نمبر ۱۹ کے حوالے سے نقل کیا ہے:

امیر‌المومنین علیہ‌السلام نے تیسرے خلیفہ کے انتخاب کے لیے تشکیل دی گئی شوریٰ کے دن حاضرجماعتی کے سامنے اس آیت کی تلاوت فرمائی، اور اس شوریٰ میں موجود تمام افراد نے باقاعدہ اس بات کی تصدیق و تائید کی کہ یہ آیت مبارکہ انہی (علی) کی شان میں نازل ہوئی ہے۔[۲]

امام محمد باقر اور امام جعفر صادق علیہما‌السلام نے سورہ توبہ کی آیت نمبر ۱۹ کے شان نزول کے بارے میں ارشاد فرمایا ہے:

یہ آیت حضرت حمزہ، امیر‌المومنین علیہ‌السلام، جعفر، عباس اور شیبہ کے بارے میں نازل ہوئی، جب انہوں نے حاجیوں کو پانی پلانے اور کعبہ کی دربانی و کلید برداری پر فخر کا اظہار کیا؛

تب اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرمائی:

أَجَعَلْتُمْ سِقَايَةَ الْحَاجِّ وَعِمَارَةَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ كَمَنْ آمَنَ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَجَاهَدَ فِي سَبِيلِ اللهِ لَا يَسْتَوُونَ عِنْدَ اللهِ وَاللهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الظَّالِمِينَ

اور اس آیت میں اللہ کی مراد امیر‌المومنین علیہ‌السلام حضرت حمزہ اور حضرت جعفر طیار کی ذات گرامی تھی؛ وہ نفوس جنہوں نے اللہ اور روز آخرت پر سچا ایمان لایا اور اس کی راہ میں سچا جہاد کیا؛ (پس یہ دونوں گروہ) اللہ کے نزدیک کبھی برابر نہیں ہو سکتے۔[۳]

ابوالجارود دوسری صدی ہجری کے نامور مفسر اور امام باقر و امام صادق علیہما‌السلام کے اصحاب میں شمار ہوتے ہیں۔ انہوں نے سورۂ توبہ کی آیات نمبر ۱۹ اور ۲۰ کے بارے میں روایت کی ہے:

امام محمد باقر (علیہ‌السلام) نے فرمایا: یہ آیت:

كَمَنْ آمَنَ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَجَاهَدَ فِي سَبِيلِ اللهِ لَا يَسْتَوُونَ عِنْدَ اللهِ وَاللهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الظَّالِمِينَ

امیر‌المومنین علیہ‌السلام کی شان میں نازل ہوئی ہے، پھر اللہ نے اگلی آیت کے ذریعے امیر‌المومنین علیہ‌السلام کی توصیف و تمجید یوں فرمائی:

الَّذِينَ آمَنُوا وَهَاجَرُوا وَجَاهَدُوا فِي سَبِيلِ اللهِ بِأَمْوَالِهِمْ وَأَنْفُسِهِمْ أَعْظَمُ دَرَجَةً عِنْدَ اللهِ وَأُولَٰئِكَ هُمُ الْفَائِزُونَ۔[۴]

مآخذ
[۱] ۔ تفسیر اهل‌بیت (علیهم‌السلام) ج۶، ص۷۴ بحار الانوار، ج۹۷، ص۳۶۳
[۲] ۔ تفسیر اهل‌بیت (علیهم‌السلام) ج۶، ص۷۶ بحار الانوار، ج۳۶، ص۳۸
[۳] ۔ تفسیر اهل‌بیت (علیهم‌السلام) ج۶، ص۶۶ الکافی، ج۸، ص۲۰۳/ البرهان/ نور الثقلین/ العیاشی، ج۲، ص۸۳/ بحار الانوار، ج۳۶، ص۳۵
[۴] ۔ تفسیر اهل‌بیت (علیهم‌السلام) ج۶، ص۷۶ القمی، ج۱، ص۲۸۴

مزید مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے