سب سے زیادہ تلاش کیا گیا:

خطبۂ غدیر میں قرآن کی آیات

خطبۂ غدیر: قرآن کی روشنی میں امیر‌المومنین علیہ‌السلام کی ولایت کا ثبوت

خطبۂ غدیر، جسے پیغمبر اکرم صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ‌ نے فصاحت و بلاغت کے ساتھ ارشاد فرمایا، آیات قرآنی کا ایک ایسا عمیق اور لازوال امتزاج ہے جس میں حضرت امیر‌المومنین علیہ‌السلام کی ولایت کو کلام الٰہی کے محکم استدلال کے ساتھ کھل کر بیان کیا گیا ہے۔

واقعۂ غدیر خم تاریخِ اسلام کا ایک فیصلہ کن موڑ ہے۔ جہاں رسول اکرم صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ نے حکم الٰہی سے امیرالمومنین علیہ‌السلام کی جانشینی کا اعلان فرمایا۔ اس تاریخی موقع پر آپ صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ کا تقریباً ایک گھنٹے پر مشتمل مفصل خطبہ ارشاد فرمایا گیا۔ یہ خطبہ دین، ولایت اور قرآن مجید کے درمیان ناقابلِ جدائی اور دائمی تعلق کا واضح ثبوت ہے۔ پیغمبر اکرم صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ نے اس خطبے میں قرآن مجید کی متعدد سورتوں اور آیات کی تلاوت فرمائی۔ آپ صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ نے ان کی تفسیر کے ذریعے امیرالمومنین علیہ‌السلام کی ولایت و امامت کا رفیع مقام واضح فرمایا۔ یہ خطبہ نہ صرف غدیر کے اصل پیغام کی تشریح کرتا ہے، بلکہ ولایتِ علوی کی حقانیت پر سب سے بڑی قرآنی سند ہے۔

خطبۂ غدیر میں قرآن کی آیات

خطبۂ غدیر میں پیغمبر اکرم صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ نے متعدد آیاتِ کریمہ سے استناد فرمایا۔ آپ صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ نے ولایت امیرالمومنین علیہ‌السلام کی الٰہی مشروعیت واضح کرکے امت پر حجت تمام فرمائی۔

اس خطبے میں آنے والی تمام آیات مبارکہ مع ترجمہ درج ذیل ہیں:

  • سورہ بروج، آیت نمبر ۱۳

«إِنَّهُ هُوَ يُبْدِئُ وَيُعِيدُ» بیشک وہی پہلی بار پیدا کرتا ہے اور وہی دوبارہ زندہ کرے گا۔

  • سورہ انعام، آیت نمبر ۱۰۳

«وَهُوَ يُدْرِكُ الْأَبْصَارَ وَهُوَ اللَّطِيفُ الْخَبِيرُ» اور چشمانِ (ظاہری) اسے نہیں پا سکتیں، جبکہ وہ تمام نگاہوں کا احاطہ کیے ہوئے ہے، اور وہ باریک بین اور باخبر ہے۔

  • سورہ اعراف، آیت نمبر ۵۴

«يُغْشِي اللَّيْلَ النَّهارَ يَطْلُبُهُ حَثِيثاً» وہ رات کو دن پر ڈھانپ دیتا ہے، جبکہ دن رات کے پیچھے تیزی سے دوڑا چلا آتا ہے۔

  • سورہ توحید، آیت نمبر ۴

«وَلَمْ يَكُنْ لَهُ كُفُواً أَحَدٌ» اور اس کا کوئی ہمسر یا برابر کا نہیں ہے۔

  • سورہ توحید، آیت نمبر ۴

«وَلَمْ يَكُنْ لَهُ كُفُواً أَحَدٌ» اور اس کا کوئی ہمسر یا برابر کا نہیں ہے۔

  • سورہ ملک، آیت نمبر ۱

«لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ بِيَدِهِ الْخَيْرُ وَهُوَ عَلى كُلِّ شَيْ‏ءٍ قَدِيرٌ» اسی کے لیے بادشاہی ہے اور اسی کے لیے تمام تعریفیں ہیں؛ خیر اسی کے ہاتھ میں ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔

  • سورہ بقرہ، آیت نمبر ۲۸۵

«آمَنَ الرَّسُولُ بِمَا أُنْزِلَ إِلَيْهِ مِنْ رَبِّهِ وَالْمُؤْمِنُونَ كُلٌّ آمَنَ بِاللَّهِ وَمَلَائِكَتِهِ وَكُتُبِهِ وَرُسُلِهِ لَا نُفَرِّقُ بَيْنَ أَحَدٍ مِنْ رُسُلِهِ وَقَالُوا سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا» رسول اس پر ایمان لائے جو ان کے رب کی طرف سے ان پر نازل کیا گیا اور مؤمنین بھی؛ یہ سب اللہ، اس کے فرشتوں، اس کی کتابوں اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے (اور کہتے ہیں کہ) ہم اس کے رسولوں میں سے کسی کے درمیان تفریق نہیں کرتے؛ اور انہوں نے کہا: ہم نے سنا اور اطاعت کی۔

  • سورہ مائدہ، آیت نمبر ۶۷ (آیتِ تبلیغ)

«يَا أَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ مِنْ رَبِّكَ وَإِنْ لَمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهُ وَاللَّهُ يَعْصِمُكَ مِنَن النَّاسِ» اے رسول! جو کچھ آپ کے رب کی طرف سے آپ پر (علی کی ولایت کے بارے میں) نازل کیا گیا ہے، اسے پہنچا دیجیے؛ اور اگر آپ نے ایسا نہ کیا تو گویا آپ نے اس کا کوئی پیغام ہی نہیں پہنچایا؛ اور اللہ آپ کو لوگوں کے شر سے محفوظ رکھے گا۔

  • سورہ مائدہ، آیت نمبر ۵۵ (آیتِ ولایت)

«إِنَّمَا وَلِيُّكُمُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ وَالَّذِينَ آمَنُوا الَّذِينَ يُقِيمُونَ الصَّلَاةَ وَيُؤْتُونَ الزَّكَاةَ وَهُمْ رَاكِعُونَ» تمہارا ولی و سرپرست تو صرف اللہ ہے اور اس کا رسول اور وہ مؤمنین (جیسے علی بن ابی طالب) ہیں جو نماز قائم کرتے ہیں اور رکوع کی حالت میں زکوٰۃ دیتے ہیں۔

  • سورہ فتح، آیت نمبر ۱۱

«يَقُولُونَ بِأَلْسِنَتِهِمْ مَا لَيْسَ فِي قُلُوبِهِمْ» وہ اپنی زبانوں سے وہ باتیں کہتے ہیں جو ان کے دلوں میں نہیں ہیں۔

  • سورہ نور، آیت نمبر ۱۵

«تَحْسَبُونَهُ هَيِّناً وَهُوَ عِنْدَ اللَّهِ عَظِيمٌ» اور تم اسے ایک معمولی بات سمجھ رہے ہو، جبکہ اللہ کے نزدیک یہ بہت بڑی بات ہے۔

  • سورہ توبہ، آیت نمبر ۶۱

«وَمِنْهُمُ الَّذِينَ يُؤْذُونَ النَّبِيَّ وَيَقُولُونَ هُوَ أُذُنٌ قُلْ أُذُنُ خَيْرٍ لَكُمْ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَيُؤْمِنُ لِلْمُؤْمِنِينَ وَرَحْمَةٌ لِلَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَالَّذِينَ يُؤْذُونَ رَسُولَ اللَّهِ لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ» اور ان (منافقوں) میں سے کچھ ایسے ہیں جو نبی کو اذیت دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ تو کانوں کے کچے (ہر ایک کی سننے والے) ہیں۔ آپ کہہ دیجیے: وہ تمہاری بھلائی کے لیے سراپا گوش ہیں، وہ اللہ پر ایمان رکھتے ہیں اور مؤمنین کی باتوں کا یقین کرتے ہیں، اور تم میں سے صاحبانِ ایمان کے لیے سراپا رحمت ہیں؛ اور جو لوگ اللہ کے رسول کو اذیت دیتے ہیں، ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔

  • سورہ یٰسین، آیت نمبر ۱۲

«وَكُلَّ شَيْ‏ءٍ أَحْصَيْنَاهُ فِي إِمَامٍ مُبِينٍ» اور ہم نے ہر چیز کا احاطہ ایک روشن کتاب (لوحِ محفوظ / امامِ مبین) میں کر رکھا ہے۔

  • سورہ مائدہ، آیت نمبر ۵۴

«يُجَاهِدُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَلَا يَخَافُونَ لَوْمَةَ لَائِمٍ» وہ اللہ کی راہ میں جہاد کرتے ہیں اور کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی کوئی پروا نہیں کرتے۔

  • سورہ طلاق، آیت نمبر ۸

«…وَعَذَّبْنَاهَا عَذَاباً نُكْراً» ۔۔۔اور ہم نے اسے بہت ہی سخت عذاب دیا۔

  • سورہ کہف، آیت نمبر ۸۷

«أَمَّا مَنْ ظَلَمَ فَسَوْفَ نُعَذِّبُهُ ثُمَّ يُرَدُّ إِلى رَبِّهِ فَيُعَذِّبُهُ عَذَاباً نُكْراً» بہرامحال جس نے بھی ظلم کیا، ہم اسے عنقریب عذاب دیں گے، پھر وہ اپنے رب کی طرف پلٹایا جائے گا تو وہ اسے اور بھی عبرت ناک عذاب دے گا۔

  • سورہ بقرہ، آیت نمبر ۲۴

«فَاتَّقُوا النَّارَ الَّتِي وَقُودُهَا النَّاسُ وَالْحِجَارَةُ أُعِدَّتْ لِلْكَافِرِينَ» تو اس آگ سے بچو جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہیں، جو کافروں کے لیے تیار کی گئی ہے۔

  • سورہ حشر، آیت نمبر ۱۸

«وَلْتَنْظُرْ نَفْسٌ مَا قَدَّمَتْ لِغَدٍ وَاتَّقُوا اللَّهَ» اور ہر نفس کو دیکھنا چاہیے کہ اس نے کل (آخرت) کے لیے کیا آگے بھیجا ہے، اور اللہ سے ڈرو۔

  • سورہ نحل، آیت نمبر ۹۴

«فَتَزِلَّ قَدَمٌ بَعْدَ ثُبُوتِهَا….إِنَّ اللَّهَ خَبِيرٌ بِمَا تَعْمَلُونَ» تاکہ کوئی قدم جمنے کے بعد اکھڑ نہ جائے۔۔۔ بیشک اللہ تمہارے اعمال سے خوب باخبر ہے۔

  • سورہ زمر، آیت نمبر ۵۶

«أَنْ تَقُولَ نَفْسٌ يَا حَسْرَتَى عَلى مَا فَرَّطْتُ فِي جَنْبِ اللَّهِ» کہیں کوئی نفس یہ نہ کہنے لگے: ہائے افسوس! اس کوتاہی پر جو میں نے اللہ کے حق میں کی۔

  • سورہ نساء، آیت نمبر ۸۲

«أَفَلَا يَتَدَبَّرُونَ الْقُرْآنَ» کیا یہ لوگ قرآن میں غور و تدبر نہیں کرتے؟

  • سورہ آلِ عمران، آیت نمبر ۷ (ام الکتاب)

«هُوَ الَّذِي أَنْزَلَ عَلَيْكَ الْكِتابَ مِنْهُ آيَاتٌ مُحْكَمَاتٌ هُنَّ أُمُّ الْكِتَابِ وَأُخَرُ مُتَشَابِهَاتٌ فَأَمَّا الَّذِينَ فِي قُلُوبِهِمْ زَيْغٌ فَيَتَّبِعُونَ مَا تَشَابَهَ مِنْهُ ابْتِغَاءَ الْفِتْنَةِ وَابْتِغَاءَ تَأْوِيلِهِ وَمَا يَعْلَمُ تَأْوِيلَهُ إِلَّا اللَّهُ وَالرَّاسِخُونَ فِي الْعِلْمِ» وہی ہے جس نے آپ پر کتاب نازل کی جس میں سے کچھ آیات ‘محکم’ (واضح) ہیں جو کتاب کی اصل (بنیاد) ہیں اور دوسری ‘متشابه’ ہیں؛ پس جن کے دلوں میں کجی (انحراف) ہے، وہ فتنہ انگیزی اور من مانی تاویل کی خاطر متشابہات کے پیچھے ہولیتے ہیں، حالانکہ ان کی حقیقی تاویل اللہ اور علم میں راسخ (اہلِ بیت) کے سوا کوئی نہیں جانتا۔

  • سورہ ق، آیت نمبر ۵

«مَا يُبَدَّلُ الْقَوْلُ لَدَيَّ» میرے یہاں بات بدلی نہیں جاتی۔

  • سورہ مائدہ، آیت نمبر ۳ (آیتِ اکمالِ دین)

«الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِيناً» آج میں نے تمہارے لیے تمہارا دین کامل کر دیا، اور اپنی نعمت تم پر تمام کر دی، اور تمہارے لیے اسلام کو بطورِ دین پسند کر لیا۔

  • سورہ آلِ عمران، آیت نمبر ۱۹

«إِنَّ الدِّينَ عِنْدَ اللَّهِ الْإِسْلَامُ» بیشک اللہ کے نزدیک دین صرف اسلام ہے۔

  • سورہ آلِ عمران، آیت نمبر ۸۵

«وَمَنْ يَبْتَغِ غَيْرَ الْإِسْلَامِ دِيناً فَلَنْ يُقْبَلَ مِنْهُ وَهُوَ فِي الْآخِرَةِ مِنَ الْخَاسِرِينَ» اور جو کوئی اسلام کے سوا کسی اور دین کا طالب ہوگا، تو وہ اس سے ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا اور وہ آخرت میں نقصان اٹھانے والوں میں سے ہوگا۔

  • سورہ بقرہ، آیت نمبر ۲۱۷

«فَأُولئِكَ الَّذِينَ حَبِطَتْ أَعْمَالُهُمْ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَفِي النَّارِ هُمْ خَالِدُونَ» پس یہی وہ لوگ ہیں جن کے اعمال دنیا اور آخرت میں برباد ہو گئے اور وہ ہمیشہ آگ میں رہنے والے ہیں۔

  • سورہ آلِ عمران، آیت نمبر ۸۸

«لَا يُخَفَّفُ عَنْهُمُ الْعَذَابُ وَلَا هُمْ يُنْظَرُونَ» نہ تو ان کے عذاب میں کوئی تخفیف کی جائے گی اور نہ ہی انہیں کوئی مہلت دی جائے گی۔

وضاحت: – سورہ انسان (ھل اتیٰ / دھر) کی تمام آیات حضرت امیر المؤمنین (علیہ السلام) اور ان کے پاکیزہ خاندان (اہلِ بیت) کی شان میں نازل ہوئی ہیں۔ اسی طرح سورہ عصر کی تفسیری ابعاد میں بھی امیر المؤمنین (علیہ السلام) کی ذاتِ گرامی کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔

  • سورہ نور، آیت نمبر ۵۴ (آیتِ بلاغِ مبین)

«وَمَا عَلَى الرَّسُولِ إِلَّا الْبَلَاغُ الْمُبِينُ» اور رسول کے ذمے تو صرف واضح طور پر (پیغام کا) پہنچا دینا ہے۔

  • سورہ آلِ عمران، آیت نمبر ۱۰۲

«اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ» اللہ سے ڈرو جیسا کہ اس سے ڈرنے کا حق ہے، اور تمہیں موت نہ آئے مگر اس حال میں کہ تم مسلم (فرمانبردار) ہو۔

  • سورہ تغابن، آیت نمبر ۸

«فَآمِنُوا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ وَالنُّورِ الَّذِي أَنْزَلْنَا» پس تم اللہ پر، اس کے رسول پر اور اس نور (قرآن و امامت) پر ایمان لاؤ جسے ہم نے نازل کیا ہے۔

  • سورہ اعراف، آیت نمبر ۱۵۷

«وَاتَّبَعُوا النُّورَ الَّذِي أُنْزِلَ مَعَهُ» اور انہوں نے اس نور کی پیروی کی جو اس کے ساتھ نازل کیا گیا ہے۔

  • سورہ نساء، آیت نمبر ۴۷

«مِنْ قَبْلِ أَنْ نَطْمِسَ وُجُوهاً فَنَرُدَّهَا عَلى أَدْبَارِهَا أَوْ نَلْعَنَهُمْ كَمَا لَعَنَّا أَصْحَابَ السَّبْتِ» اس سے پہلے کہ ہم چہروں کو مسخ کر کے انہیں ان کی پشت کی طرف پھیر دیں، یا ان پر اسی طرح لعنت کریں جس طرح ہم نے ہفتے والوں (اصحابِ سبت) پر لعنت کی تھی۔

  • سورہ آلِ عمران، آیت نمبر ۱۴۴

«وَمَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ أَفَإِنْ مَاتَ أَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلى أَعْقَابِكُمْ وَمَنْ يَنْقَلِبْ عَلى عَقِبَيْهِ فَلَنْ يَضُرَّ اللَّهَ شَيْئاً وَسَيَجْزِي اللَّهُ الشَّاكِرِينَ» اور محمد تو محض ایک رسول ہیں، ان سے پہلے بھی بہت سے رسول گزر چکے ہیں؛ بھلا اگر وہ وفات پا جائیں یا شہید کر دیے جائیں، تو کیا تم الٹے پاؤں (اپنے پرانے کفر پر) پلٹ جاؤ گے؟ اور جو کوئی الٹے پاؤں پلٹے گا، وہ اللہ کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکے گا؛ اور اللہ شکر گزاروں کو عنقریب جزا دے گا۔

  • سورہ حجرات، آیت نمبر ۱۷

«يَمُنُّونَ عَلَيْكَ أَنْ أَسْلَمُوا قُلْ لَا تَمُنُّوا عَلَيَّ إِسْلَامَكُمْ بَلِ اللَّهُ يَمُنُّ عَلَيْكُمْ أَنْ هَدَاكُمْ لِلْإِيمَانِ» وہ آپ پر احسان جتاتے ہیں کہ وہ اسلام لے آئے ہیں۔ آپ کہہ دیجیے: اپنے اسلام کا احسان مجھ پر نہ جتاؤ، بلکہ اللہ تم پر احسان جتاتا ہے کہ اس نے تمہیں ایمان کی ہدایت دی۔

  • سورہ محمد، آیت نمبر ۲۸

«ذلِكَ بِأَنَّهُمُ اتَّبَعُوا مَا أَسْخَطَ اللَّهَ وَكَرِهُوا رِضْوَانَهُ فَأَحْبَطَ أَعْمَالَهُمْ» یہ اس لیے ہوا کیونکہ انہوں نے اس راستے کی پیروی کی جس نے اللہ کو ناراض کیا اور انہوں نے اس کی رضا کو ناپسند کیا، تو اللہ نے ان کے تمام اعمال برباد کر دیے۔

  • سورہ رحمن، آیت نمبر ۳۵

«يُرْسَلُ عَلَيْكُمَا شُوَاظٌ مِنْ نَارٍ وَنُحَاسٌ فَلَا تَنْتَصِرَانِ» تم دونوں (جن و انس) پر آگ کا شعلہ اور دھواں چھوڑا جائے گا، پھر تم اپنا بچاؤ نہ کر سکو گے۔

  • سورہ فجر، آیت نمبر ۱۴

«إِنَّ رَبَّكَ لَبِالْمِرْصَادِ» بیشک آپ کا رب گھات (کمین گاہ) میں ہے۔

  • سورہ قصص، آیت نمبر ۴۱

«وَجَعَلْنَاهُمْ أَئِمَّةً يَدْعُونَ إِلَى النَّارِ وَيَوْمَ الْقِيَامَةِ لَا يُنْصَرُونَ» اور ہم نے انہیں ایسے پیشوا (رہنما) بنا دیا جو آگ کی طرف بلاتے ہیں، اور قیامت کے دن ان کی کوئی مدد نہیں کی جائے گی۔

  • سورہ نساء، آیت نمبر ۱۴۵

«إِنَّ الْمُنَافِقِينَ فِي الدَّرْكِ الْأَسْفَلِ مِنَ النَّارِ» بیشک منافقین جہنم کے سب سے نچلے درجے (طبقے) میں ہوں گے۔

  • سورہ نحل، آیت نمبر ۲۹

«فَادْخُلُوا أَبْوَابَ جَهَنَّمَ خَالِدِينَ فِيهَا فَلَبِئْسَ مَثْوَى الْمُتَكَبِّرِينَ» پس جہنم کے دروازوں میں داخل ہو جاؤ جہاں ہمیشہ رہنا ہے؛ اور متکبرین کا کیا ہی برا ٹھکانا ہے۔

  • سورہ رحمن، آیات ۳۱ اور ۳۵ (آیتِ الثقلین کے تناظر میں)

«سَنَفْرُغُ لَكُمْ أَيُّهَ الثَّقَلَانِ» اے جن و انس! عنقریب ہم تمہارے حساب و کتاب کی طرف متوجہ ہوتے ہیں۔

«يُرْسَلُ عَلَيْكُمَا شُوَاظٌ مِنْ نَارٍ وَنُحَاسٌ فَلَا تَنْتَصِرَانِ» تم دونوں پر آگ کا شعلہ اور تانبا (یا دھواں) چھوڑا جائے گا، پھر تم بدلہ نہ لے سکو گے۔

  • سورہ آلِ عمران، آیت نمبر ۱۷۹

«لِيَذَرَ الْمُؤْمِنِينَ عَلى مَا أَنْتُمْ عَلَيْهِ حَتَّى يَمِيزَ الْخَبِيثَ مِنَ الطَّيِّبِ وَمَا كَانَ اللَّهُ لِيُطْلِعَكُمْ عَلَى الْغَيْبِ» اللہ مؤمنوں کو اس حال پر ہرگز نہیں چھوڑ سکتا جس پر تم (اب) ہو، جب تک کہ وہ پاک کو ناپاک سے (آزمائش کے ذریعے) الگ نہ کر دے؛ اور اللہ کی یہ سنت نہیں کہ تمہیں غیب کا علم دے۔

  • سورہ اسراء، آیت نمبر ۵۸

«وَإِنْ مِنْ قَرْيَةٍ إِلَّا نَحْنُ مُهْلِكُوهَا قَبْلَ يَوْمِ الْقِيَامَةِ» اور کوئی بھی بستی (سرکشوں کی) ایسی نہیں ہے جسے ہم قیامت کے دن سے پہلے ہلاک کرنے والے نہ ہوں۔

  • سورہ صافات، آیت نمبر ۷۱

«وَلَقَدْ ضَلَّ قَبْلَهُمْ أَكْثَرُ الْأَوَّلِينَ» اور یقیناً ان سے پہلے بھی بہت سے اگلے لوگ گمراہ ہو چکے تھے۔

  • سورہ مرسلات، آیات ۱۶ تا ۱۹

«أَلَمْ نُهْلِكِ الْأَوَّلِينَ * ثُمَّ نُتْبِعُهُمُ الْآخِرِينَ * كَذٰلِكَ نَفْعَلُ بِالْمُجْرِمِينَ * وَيْلٌ يَوْمَئِذٍ لِلْمُكَذِّبِينَ» کیا ہم نے اگلوں کو ہلاک نہیں کیا؟ پھر ہم ان کے پیچھے پھچھلوں کو بھی لے آئے (ہلاک کیا)۔ ہم مجرموں کے ساتھ ایسا ہی کیا کرتے ہیں۔ اس دن جھٹلانے والوں کے لیے بڑی تباہی ہے۔

  • سورہ انعام، آیت نمبر ۱۵۳

«وَأَنَّ هٰذَا صِرَاطِي مُسْتَقِيماً فَاتَّبِعُوهُ وَلَا تَتَّبِعُوا السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِكُمْ عَنْ سَبِيلِهِ» اور بیشک یہی میرا سیدھا راستہ ہے، پس اسی کی پیروی کرو اور دوسرے راستوں پر نہ چلو کہ وہ تمہیں اس کے راستے سے جدا کر دیں گے۔

  • سورہ اعراف، آیت نمبر ۱۸۱ (متن میں ۱۸۶ سہو ہے، اصل ۱۸۱ ہے)

«وَمِمَّنْ خَلَقْنَا أُمَّةٌ يَهْدُونَ بِالْحَقِّ وَبِهِ يَعْدِلُونَ» اور جنہیں ہم نے پیدا کیا ہے، ان میں سے ایک گروہ ایسا بھی ہے جو حق کے ساتھ ہدایت کرتا ہے اور اسی کے ساتھ انصاف کرتا ہے۔

وضاحت: سورہ حمد (فاتحہ / ام الکتاب) کی تفسیری و تاویلی ابعاد میں صراطِ مستقیم کے حقیقی مصداق کے طور پر حضرت امیر المؤمنین (علیہ السلام) کی ذاتِ والا صفات کی طرف مستند اشارہ موجود ہے۔

  • سورہ یونس، آیت نمبر ۶۲ (آیتِ اولیاء اللہ)

«أَلَا إِنَّ أَوْلِيَاءَ اللَّهِ لَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ» آگاہ ہو جاؤ! بیشک اللہ کے ولیوں پر نہ کوئی خوف ہے اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔

  • سورہ مائدہ، آیت نمبر ۵۶

«فَإِنَّ حِزْبَ اللَّهِ هُمُ الْغَالِبُونَ» تو بیشک اللہ ہی کا گروہ (حزب اللہ) غالب آنے والا ہے۔

  • سورہ انعام، آیت نمبر ۱۱۲

«وَكَذٰلِكَ جَعَلْنَا لِكُلِّ نَبِيٍّ عَدُوّاً شَيَاطِينَ الْإِنْسِ وَالْجِنِّ يُوحِي بَعْضُهُمْ إِلى بَعْضٍ زُخْرُفَ الْقَوْلِ غُرُوراً» اور اسی طرح ہم نے ہر نبی کے لیے انسانوں اور جنوں میں سے شیاطین کو دشمن بنا دیا، جو ایک دوسرے کے دل میں دھوکہ دینے کے لیے ظاہری طور پر آراستہ باتیں ڈالتے رہتے ہیں۔

  • سورہ مجادلہ، آیت نمبر ۲۲

«لَا تَجِدُ قَوْماً يُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ يُوَادُّونَ مَنْ حَادَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ» آپ کبھی ایسی قوم نہیں پائیں گے جو اللہ اور روزِ آخرت پر ایمان رکھتی ہو اور وہ ان لوگوں سے دوستی کرے جو اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرتے ہیں۔

  • سورہ انعام، آیت نمبر ۸۲

«الَّذِينَ آمَنُوا وَلَمْ يَلْبِسُوا إِيمَانَهُمْ بِظُلْمٍ أُولٰئِكَ لَهُمُ الْأَمْنُ وَهُمْ مُهْتَدُونَ» جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے اپنے ایمان کو کسی ظلم (جیسے شرک) کے ساتھ آلودہ نہیں کیا، امن صرف انہی کے لیے ہے اور وہی ہدایت یافتہ ہیں۔

  • سورہ حجرات، آیت نمبر ۱۵

«إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ الَّذِينَ آمَنُوا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ ثُمَّ لَمْ يَرْتَابُوا» مؤمن تو صرف وہی ہیں جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لائے، پھر انہوں نے کوئی شک و شبہ نہیں کیا۔

  • سورہ حجر، آیت نمبر ۴۶

«ادْخُلُوهَا بِسَلَامٍ آمِنِينَ» (ان سے کہا جائے گا:) اس (جنت) میں سلامتی اور امن کے ساتھ داخل ہو جاؤ۔

  • سورہ زمر، آیت نمبر ۷۳

«حَتَّى إِذَا جَاؤُوهَا وَفُتِحَتْ أَبْوَابُهَا وَقَالَ لَهُمْ خَزَنَتُهَا سَلَامٌ عَلَيْكُمْ طِبْتُمْ فَادْخُلُوهَا خَالِدِينَ» یہاں تک کہ جب وہ اس (جنت) کے پاس پہنچیں گے اور اس کے دروازے کھول دیے جائیں گے، اور اس کے نگران ان سے کہیں گے: تم پر سلام ہو، تم پاکیزہ رہے، پس اس میں ہمیشہ رہنے کے لیے داخل ہو جاؤ۔

  • سورہ غافر، آیت نمبر ۴۰

«فَأُولٰئِكَ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ يُرْزَقُونَ فِيهَا بِغَيْرِ حِسَابٍ» تو یہی وہ لوگ ہیں جو جنت میں داخل ہوں گے جہاں انہیں بے حساب رزق دیا جائے گا۔

  • سورہ انشقاق، آیات ۱۲ اور ۱۳

«فَسَوْفَ يَدْعُو ثُبُوراً * وَيَصْلَى سَعِيراً» تو وہ عنقریب موت (تباہی) کو پکارے گا، اور بھڑکتی ہوئی آگ میں داخل ہوگا۔

  • سورہ ملک، آیت نمبر ۷

«إِذَا أُلْقُوا فِيهَا سَمِعُوا لَهَا شَهِيقاً وَهِيَ تَفُورُ» جب وہ اس (جہنم) میں ڈالے جائیں گے، تو اس کی ہولناک آواز سنیں گے جبکہ وہ جوش مار رہی ہوگی۔

  • سورہ فرقان، آیت نمبر ۱۲

«إِذَا رَأَتْهُمْ مِنْ مَكَانٍ بَعِيدٍ سَمِعُوا لَهَا تَغَيُّظاً وَزَفِيراً» جب وہ آگ انہیں دور جگہ سے دیکھے گی، تو وہ اس کا غیظ و غضب اور چنگھاڑنا سنیں گے۔

  • سورہ اعراف، آیت نمبر ۳۸

«كُلَّمَا دَخَلَتْ أُمَّةٌ لَعَنَتْ أُخْتَهَا حَتَّى إِذَا ادَّارَكُوا فِيهَا جَمِيعاً» جب بھی کوئی امت (جہنم میں) داخل ہوگی، وہ اپنی جیسی دوسری امت پر لعنت کرے گی، یہاں تک کہ جب سب کے سب اس میں اکٹھے ہو جائیں گے۔

  • سورہ ملک، آیت نمبر ۸

«تَكَادُ تَمَيَّزُ مِنَ الْغَيْظِ كُلَّمَا أُلْقِيَ فِيهَا فَوْجٌ سَأَلَهُمْ خَزَنَتُهَا أَلَمْ يَأْتِكُمْ نَذِيرٌ» قریب ہے کہ وہ غصے سے پھٹ جائے؛ جب بھی اس میں کوئی گروہ ڈالا جائے گا، اس کے نگران ان سے پوچھیں گے: کیا تمہارے پاس کوئی ڈرانے والا نہیں آیا تھا؟

  • سورہ ملک، آیت نمبر ۱۲

«إِنَّ الَّذِينَ يَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ بِالْغَيْبِ لَهُمْ مَغْفِرَةٌ وَأَجْرٌ كَبِيرٌ» بیشک جو لوگ بن دیکھے اپنے رب سے ڈرتے ہیں، ان کے لیے مغفرت اور بہت بڑا اجر ہے۔

  • سورہ اعراف، آیت نمبر ۱۸۸

«إِنْ أَنَا إِلَّا نَذِيرٌ وَبَشِيرٌ لِقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ» میں تو صرف ایمان لانے والی قوم کے لیے ایک ڈرانے والا اور خوشخبری دینے والا ہوں۔

  • سورہ رعد، آیت نمبر ۷

«إِنَّمَا أَنْتَ مُنْذِرٌ وَلِكُلِّ قَوْمٍ هَادٍ» آپ تو صرف ڈرانے والے ہیں، اور ہر قوم کے لیے ایک رہنما (ہدایت دینے والا) ہوتا ہے۔

  • سورہ فتح، آیت نمبر ۱۰ (بیعتِ رضوان / بیعتِ غدیر کے تناظر میں)

«إِنَّ الَّذِينَ يُبَايِعُونَكَ إِنَّمَا يُبايِعُونَ اللَّهَ يَدُ اللَّهِ فَوْقَ أَيْدِيهِمْ» بیشک جو لوگ آپ کی بیعت کر رہے ہیں، وہ درحقیقت اللہ ہی کی بیعت کر رہے ہیں؛ اللہ کا ہاتھ ان کے ہاتھوں کے اوپر ہے۔

  • سورہ بقرہ، آیت نمبر ۱۵۸

«إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ فَمَنْ حَجَّ الْبَيْتَ أَوِ اعْتَمَرَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ يَطَّوَّفَ بِهِمَا وَمَنْ تَطَوَّعَ خَيْراً فَإِنَّ اللَّهَ شَاكِرٌ عَلِيمٌ» بیشک صفا اور مروہ اللہ کی نشانیوں (شعائر) میں سے ہیں؛ لہٰذا جو کوئی بیت اللہ کا حج یا عمرہ کرے، اس پر کوئی گناہ نہیں کہ وہ ان دونوں کے درمیان چکر لگائے؛ اور جو کوئی خوشی سے کوئی نیکی کرے، تو بیشک اللہ قدردان اور خوب جاننے والا ہے۔

  • سورہ بقرہ، آیت نمبر ۴۳

«وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ وَارْكَعُوا مَعَ الرَّاكِعِينَ» اور نماز قائم کرو، زکوٰۃ ادا کرو اور رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کرو۔

  • سورہ حج، آیت نمبر ۴۱ (آیتِ تمکین / حکومتِ صالحین)

«الَّذِينَ إِنْ مَكَّنَّاهُمْ فِي الْأَرْضِ أَقَامُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ وَأَمَرُوا بِالْمَعْرُوفِ وَنَهَوْا عَنِ الْمُنْكَرِ» (یہ) وہ لوگ ہیں جنہیں اگر ہم زمین میں اقتدار (تمکین) بخشیں، تو وہ نماز قائم کریں گے، زکوٰۃ دیں گے، نیکی کا حکم دیں گے اور برائی سے روکیں گے۔

  • سورہ زخرف، آیت نمبر ۲۸

«وَجَعَلَهَا كَلِمَةً بَاقِيَةً فِي عَقِبِهِ» اور وہ (توحید و امامت کو) اپنے بعد آنے والی نسلوں میں ایک باقی رہنے والا کلمہ قرار دے گیا۔

  • سورہ حج، آیت نمبر ۱

«إِنَّ زَلْزَلَةَ السَّاعَةِ شَيْ‏ءٌ عَظِيمٌ» بیشک قیامت کا زلزلہ ایک بہت بڑی چیز ہے۔

  • سورہ اسراء، آیت نمبر ۹۶

«قُلْ كَفَىٰ بِاللَّهِ شَهِيداً بَيْنِي وَبَيْنَكُمْ» آپ کہہ دیجیے: میرے اور تمہارے درمیان اللہ کا گواہ ہونا ہی کافی ہے۔

  • سورہ زمر، آیت نمبر ۴۱

«فَمَنِ اهْتَدَىٰ فَلِنَفْسِهِ وَمَنْ ضَلَّ فَإِنَّمَا يَضِلُّ عَلَيْهَا» پس جو کوئی ہدایت پا گیا، وہ اپنے ہی بھلے کے لیے ہدایت پا گیا، اور جو گمراہ ہوا، وہ اپنی ہی جان کے نقصان کے لیے گمراہ ہوا۔

  • سورہ بقرہ، آیت نمبر ۲۸۵ (فرازِ آمن الرسول)

«وَقَالُوا سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا غُفْرَانَكَ رَبَّنَا وَإِلَيْكَ الْمَصِيرُ» اور انہوں نے کہا: ہم نے سنا اور اطاعت کی؛ اے ہمارے رب! ہم تیری بخشش کے طلبگار ہیں اور (ہم سب کو) تیری ہی طرف پلٹنا ہے۔

  • سورہ اعراف، آیت نمبر ۴۳

«الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي هَدَانَا لِهٰذَا وَمَا كُنَّا لِنَهْتَدِيَ لَوْلَا أَنْ هَدَانَا اللَّهُ» تمام تعریفیں اسی اللہ کے لیے ہیں جس نے ہمیں اس (منزل) کی ہدایت فرمائی، اور اگر اللہ ہمیں ہدایت نہ فرماتا، تو ہم کبھی ہدایت نہ پا سکتے تھے۔

  • سورہ احزاب، آیت نمبر ۷۱

«وَمَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَقَدْ فازَ فَوْزاً عَظِيماً» اور جو کوئی اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے گا، وہ یقیناً بہت بڑی کامیابی حاصل کر لے گا۔

  • سورہ توبہ، آیات ۲۰ اور ۲۱

«الَّذِينَ آمَنُوا وَهَاجَرُوا وَجَاهَدُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ بِأَمْوَالِهِمْ وَأَنْفُسِهِمْ أَعْظَمُ دَرَجَةً عِنْدَ اللَّهِ وَأُولٰئِكَ هُمُ الْفَائِزُونَ * يُبَشِّرُهُمْ رَبُّهُمْ بِرَحْمَةٍ مِنْهُ وَرِضْوَانٍ وَجَنَّاتٍ فِيهَا نَعِيمٌ مُقِيمٌ» جو لوگ ایمان لائے، انہوں نے ہجرت کی اور اللہ کی راہ میں اپنے مالوں اور اپنی جانوں سے جہاد کیا، اللہ کے نزدیک ان کا درجہ بہت بڑا ہے؛ اور یہی لوگ کامیاب ہونے والے ہیں۔ ان کا رب انہیں اپنی طرف سے رحمت، خوشنودی اور ایسے باغات کی خوشخبری دیتا ہے جن میں ان کے لیے دائمی نعمتیں ہیں۔

  • سورہ ابراہیم، آیت نمبر ۸

«إِنْ تَكْفُرُوا أَنْتُمْ وَمَنْ فِي الْأَرْضِ جَمِيعاً فَإِنَّ اللَّهَ لَغَنِيٌّ حَمِيدٌ» اگر تم اور زمین میں رہنے والے سب کے سب کفر اختیار کر لیں، تو (اللہ کا کچھ نہیں بگڑتا) بیشک اللہ بے نیاز اور سزاوارِ حمد ہے۔

  • سورہ آلِ عمران، آیت نمبر ۱۴۴ (آخری فراز)

«وَمَنْ يَنْقَلِبْ عَلى عَقِبَيْهِ فَلَنْ يَضُرَّ اللَّهَ شَيْئاً» اور جو کوئی الٹے پاؤں پلٹ جائے گا، وہ اللہ کو ہرگز کوئی نقصان نہیں پہنچا سکے گا۔

مزید مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے