اہلِبیت (علیہمالسلام) کی کثیر روایات میں امیرالمؤمنین علی علیہالسلام کی زیارت کی فضیلت کا موازنہ حج اور عمرہ جیسے عظیم الشان اعمال سے کیا گیا ہے۔ اس مرقدِ شریف کی زیارت نہ صرف اس دنیا میں معنوی و روحانی ارتقا کا باعث بنتی ہے، بلکہ روزِ قیامت بھی اس کے بے شمار آثار اور برکات ظاہر ہوں گی۔
شیخ عباس قمی بھی معتبر روایات کے حوالے سے نقل کرتے ہیں کہ حضرت امیرالمؤمنین علی علیہالسلام اور آپ کی پاکیزہ اولاد کے مزارات، خوف زدہ اور بے بس لوگوں کے لیے جائے پناہ اور اہلِ زمین کے لیے امن و امان کا وسیلہ ہیں۔ ان روایات میں آیا ہے کہ کوئی بھی شخص رنجیدہ دل یا علیل جسم کے ساتھ ان مشاہدِ مشرفہ (مقدس مقامات) کی پناہ نہیں لیتا، مگر یہ کہ اس کی حاجت پوری ہو جاتی ہے۔ مزید برآں، اہلِ بیت (علیہمالسلام) نے ان مقاماتِ مقدسہ کی زیارت، ان کی آبادی اور وہاں حاضری کی ضرورت پر سخت تاکید فرمائی ہے، اور زیارت کو ترک کرنے کو اپنی ذاتِ گرامی کے ساتھ بے وفائی سے تعبیر کیا ہے۔
پیغمبر اکرم (صلیاللہعلیہوآلہوسلم) کی روشنی میں قبورِ اہل بیت (علیہمالسلام) کی فضیلت
شیخ طوسی نے ابو عامر ساجی کی سند سے روایت کی ہے کہ امام جعفر صادق (علیہالسلام) نے فرمایا: "نبی کریم اسلام (صلیاللہعلیہوآلہوسلم) نے حضرت امیرالمؤمنین علی علیہالسلام کو خبر دی تھی کہ وہ سرزمینِ عراق میں شہید ہوں گے اور وہیں سپردِ خاک کیے جائیں گے۔”
پھر آپ (صلیاللہعلیہوآلہوسلم) نے ارشاد فرمایا: "اللہ تعالیٰ نے تمہاری اور تمہاری پاکیزہ اولاد کی قبروں کو جنت کے ٹکڑوں میں سے ایک ٹکڑا بنا دیا ہے، اور اپنے برگزیدہ بندوں کے دلوں کو ان کی طرف مائل کر دیا ہے۔ وہ لوگ تمام تر سختیوں اور مصائب کے باوجود تمہاری قبور کی زیارت اور انہیں آباد کرنے کا فریضہ انجام دیتے ہیں، اور روزِ قیامت وہ میری شفاعت کے حق دار ہوں گے۔ ان قبور کی زیارت اور (ان سے) وفاداری کا ثواب ستر حج کے برابر ہے اور یہ گناہوں کی بخشش کا سبب بنتا ہے۔”
اس کے بعد، رسولِ اکرم (صلیاللہعلیہوآلہوسلم) نے ارشاد فرمایا: "میری امت میں سے صرف صدیقین (انتہائی سچے لوگ) ہی حسین (علیہالسلام)، ان کے والدِ گرامی اور ان کے بھائی کی زیارت کے لیے جائیں گے۔”
اسی طرح امام علی رضا (علیہالسلام) نے تاکید فرماتے ہوئے ارشاد کیا ہے: "ہر شیعہ اور اہلِ بیت کے چاہنے والے پر ایک عہد واجب ہے؛ اور اس عہد سے وفاداری کی نشانی ائمہ اطہار کی قبور کی زیارت کرنا ہے۔ جو کوئی بھی ایمان اور پورے شوق و اشتیاق کے ساتھ ان کی زیارت کو جائے گا، قیامت کے دن وہ ان کی شفاعت کا مستحق ٹھہرے گا۔”
پیامبرِ گرامیِ اسلام (صلیاللہعلیہوآلہوسلم) نے ایک اور حدیث میں ارشاد فرمایا: "جو شخص میری یا علی کی، خواہ ہماری زندگی میں یا ہماری وفات کے بعد، یا میرے بیٹوں حسن اور حسین کی زیارت کرے گا، میں روزِ قیامت اس بات کا ضامن ہوں کہ اسے (حشر کی) سختیوں سے نجات دلاؤں گا اور جنت میں اپنے ساتھ جگہ دوں گا۔”
مزید برآں، نبی کریم (صلیاللہعلیہوآلہوسلم) نے ارشاد فرمایا: "جس نے حضرت امیرالمؤمنین علی علیہالسلام کی ان کی وفات کے بعد زیارت کی، اس کے لیے جنت ہے۔”
زمین و آسمان کے فخر، محمد مصطفیٰ (صلیاللہعلیہوآلہوسلم) نے مولائے متقیان کے زائر کے بارے میں یہ بھی ارشاد فرمایا: "جو شخص علی (علیہالسلام) کے مقام اور ان کے حق کی معرفت (پہچان) کے ساتھ، اور بغیر کسی غرور و تکبر کے ان کی زیارت کرے گا، اللہ تعالیٰ اس کے لیے ایک لاکھ شہداء کا ثواب لکھے گا، اس کے اگلے اور پچھلے گناہ بخش دے گا، قیامت کے دن اسے (عذاب سے) امان پانے والوں میں شمار کرے گا، اس کا حسابِ اعمال آسان کر دیا جائے گا اور فرشتے اس کا استقبال کریں گے۔ اور جب وہ اپنے گھر لوٹے گا، تو اگر وہ بیمار ہو جائے تو اس کے (دینی) بھائی اس کی عیادت کو آئیں گے، اور اگر وہ دنیا سے رخصت ہو جائے تو وہ دعا اور مغفرت طلبی کے ساتھ اس کے جنازے کے ہمراہ قبر تک جائیں گے۔”
امام جعفر صادق (علیہالسلام) کی نظر میں زیارتِ امیرالمؤمنین علی (علیہالسلام) کا مقام
ان احادیث میں جنہیں علامہ کلینی نے نقل کیا ہے، امام جعفر صادق (علیہالسلام) امیرالمؤمنین علی (علیہالسلام) کے مرقدِ مطہر کی زیارت کی اہمیت پر شدید تاکید فرماتے ہیں۔ آپ نے یونس بن وہب سے ارشاد فرمایا: "تم نے یہ اچھا کام نہیں کیا کہ امیرالمؤمنین علی علیہالسلام کی زیارت کو نہیں گئے؛ کیونکہ ان کی زیارت خود اللہ تعالیٰ، فرشتے، انبیاء کرام اور تمام مومنین کرتے ہیں۔ امیرالمؤمنین علی علیہالسلام بارگاہِ الٰہی میں تمام ائمہ سے افضل ہیں اور ان کے پاس ان سب کے اعمال کا ثواب ہے۔”
ایک اور حدیث میں، امام جعفر صادق (علیہالسلام) نے تنبیہ فرماتے ہوئے ارشاد کیا ہے: "جو شخص امیرالمؤمنین علی علیہالسلام کی زیارت کو ترک کر دیتا ہے، وہ اللہ تعالیٰ کی خاص توجہ (اور رحمت) سے محروم ہو جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ نجفِ اشرف کی زیارت، سب سے افضل امام کی زیارت ہے جنہیں دوسرے تمام ائمہ پر برتری حاصل ہے اور اس کا ثواب ان سب کے اعمال کے برابر ہے۔”
ایک اور روایت میں، امام جعفر صادق (علیہالسلام) نے مفضل بن عمر سے ارشاد فرمایا: "نجفِ اشرف کی زیارت درحقیقت امیرالمؤمنین علی علیہالسلام کے پیکرِ مطہر، حضرت آدم (علیہالسلام) کے عظام (مقدس ہڈیوں) اور حضرت نوح (علیہالسلام) کے جسدِ مبارک کی زیارت ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے نوح (علیہالسلام) کو حکم دیا تھا کہ وہ اس تابوت کو، جس میں حضرت آدم (علیہالسلام) کے عظامِ مبارکہ تھے، طوفانِ نوح کے بعد نجف کی سرزمین میں سپردِ خاک کریں۔ نجف ایک مقدس سرزمین ہے؛ یہ وہ مقام ہے جہاں اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) سے کلام فرمایا، عیسیٰ (علیہالسلام) کی تقدیس فرمائی، ابراہیم (علیہالسلام) کو اپنا خلیل (دوست) چنا اور محمد مصطفیٰ (صلیاللہعلیہوآلہوسلم) کو اپنا حبیب (محبوب) بنایا۔”
اسی لیے، نجف کا زائر درحقیقت اللہ کے عظیم الشان انبیاء، خاتم النبیین اور سید الاوصیاء (علیہمالسلام) کا زائر ہے، اور اس کی دعا (بلا روک ٹوک) آسمان کی طرف راہ پاتی ہے۔
علامہ مجلسی ان احادیث کی وضاحت میں فرماتے ہیں: "اس بات کا مقصد کہ امیرالمؤمنین علی (علیہالسلام) حضرت آدم اور حضرت نوح (علیہماالسلام) کے بعد، اس سرزمین میں مدفون سب سے برتر ہستی ہیں۔۔۔”
شہرِ کوفہ اور نجفِ اشرف کی فضیلت
حضرت امام محمد باقر (علیہالسلام) اور حضرت امام جعفر صادق (علیہالسلام) سے مروی روایات میں آیا ہے کہ اہلِ بیت (علیہمالسلام) کی ولایت تمام شہروں پر پیش کی گئی، لیکن کسی بھی شہر نے کوفہ کی مانند اسے (کامل طور پر) قبول نہیں کیا؛ اور اس برتری کی بنیادی وجہ وہاں امیرالمؤمنین علی (علیہالسلام) کے مرقدِ مطہر کا موجود ہونا ہے۔ ان دونوں بزرگوار اماموں نے اس بات پر بھی تاکید فرمائی کہ اس قبرِ شریف کے پاس، کوئی بھی رنجیدہ حال یا گرفتارِ مصائب انسان اگر دو یا چار رکعت نماز ادا کرے اور بارگاہِ الٰہی سے اپنی حاجت طلب کرے، تو یقیناً اس کی حاجت پوری ہو گی اور اس کا غم دور کر دیا جائے گا۔ کیونکہ روزانہ فرشتوں کے ہزاروں دستے اس قبرِ مطہر کے گرد حاضر ہوتے ہیں۔
امام جعفر صادق (علیہالسلام) نے ایک اور روایت میں ارشاد فرمایا: "ہماری ولایت وہی ولایتِ الٰہی ہے جس کے ساتھ تمام انبیاء مبعوث کیے گئے۔ یہ ولایت آسمانوں، زمین، پہاڑوں اور شہروں پر پیش کی گئی، مگر اس کا سب سے زیادہ تپاک سے استقبال کوفہ میں کیا گیا۔ اس شہر کے پہلو میں ایک قبر ہے؛ یعنی حضرت امیر المؤمنین (علیہالسلام) کا مزار، کہ کوئی بھی رنج و اندوہ کا مارا اگر اس کی پناہ لے، تو اللہ اس کا غم مٹا دیتا ہے اور اس کی حاجت برلاتا ہے۔”
نیز امام جعفر صادق (علیہالسلام) نے ارشاد فرمایا: "شہرِ کوفہ کی پشت پر (یعنی نجف میں) ایک ایسی قبر ہے کہ کوئی بھی بیمار یا مصیبت زدہ شخص اگر اس کی پناہ لے، تو اللہ تعالیٰ اسے شفا عطا فرماتا ہے۔”
بنابریں، ان تمام احادیث کی روشنی میں، کوفہ اور نجف کو امیرالمؤمنین علی (علیہالسلام) کے مرقد اور منور بارگاہ کی بدولت ایک ممتاز اور مقدس سرزمین قرار دیا گیا ہے، اور اس بارگاہِ شریف کے پاس زیارت و نماز کو مشکلات کی کشائش اور حاجات کے پورا ہونے کی چابی مانا گیا ہے۔
رسولِ خاتم اور ائمہ اطہار (علیہمالسلام) کی زیارت کا اجر و ثواب
"محمد بن جعفر مشہدی” معروف بہ ابنِ مشہدی، اپنی سند کے ساتھ "اسحاق بن عمار” سے نقل کرتے ہیں کہ حضرت امام جعفر صادق (علیہالسلام) سے مروی ایک حدیث میں آیا ہے کہ رسول اللہ (صلیاللہعلیہوآلہوسلم) نے ارشاد فرمایا: "جس نے حضرت امیرالمؤمنین علی (علیہالسلام) کی زیارت کی، اس نے درحقیقت میری زیارت کی؛ اور جس نے ان سے محبت کی، اس نے مجھ سے محبت کی؛ اور جس نے ان سے دشمنی کی، اس نے مجھ سے دشمنی کی۔ یہ پیغام اپنی قوم (اور لوگوں) تک پہنچا دو۔ جو کوئی بھی حضرت امیرالمؤمنین علی (علیہالسلام) کی زیارت کے لیے آئے گا، وہ حقیقت میں میرے پاس آیا ہے اور قیامت کے دن میں خود اسے اس کا اجر دوں گا، اور جبرائیل اور صالح مومنین بھی (اس جزا کے وقت) میرے ہمراہ ہوں گے۔”
"ابنِ قولویہ قمی” اپنی سند کے ساتھ "معلی بن ابی شہاب” سے اور وہ امام جعفر صادق (علیہالسلام) سے روایت کرتے ہیں: "امام حسن (علیہالسلام) نے رسول اللہ (صلیاللہعلیہوآلہوسلم) سے دریافت کیا: اے بابا جان! جو شخص آپ کی زیارت کرے، اس کا کیا اجر ہے؟ آپ (صلیاللہعلیہوآلہوسلم) نے فرمایا: میرے پیارے بیٹے! جو کوئی بھی میری زندگی میں یا میری وفات کے بعد میری زیارت کرے، یا تمہارے والد (علی) کی زیارت کرے، تو اللہ عزوجل کے ذمےِ کرم پر ہے کہ وہ قیامت کے دن خود اس کی زیارت فرمائے (یعنی اپنی خاص رحمت کا سایہ کرے) اور اسے اس کے گناہوں سے پاک کر دے۔”
شیخ طوسی نے اپنی سند کے ساتھ "علی بن شعیب” سے اور انہوں نے امام جعفر صادق (علیہالسلام) سے روایت کی ہے: "ایک دن امام حسین (علیہالسلام) رسولِ خدا (صلیاللہعلیہوآلہوسلم) کی گود میں تشریف فرما تھے۔ اچانک آپ نے اپنا سر مبارک اٹھایا اور عرض کی: اے بابا جان! پیامبرِ خاتم نے جواب دیا: میرے بیٹے! میری جان تم پر فدا ہو، تم کیا چاہتے ہو؟ امام حسین (علیہ السلام) نے عرض کی: اس شخص کا کیا اجر ہے جو آپ کی وفات کے بعد آپ کے پاس آئے اور اس کا مقصد صرف آپ ہی کی زیارت ہو؟
رسولِ اکرم (صلیاللہعلیہوآلہوسلم) نے ارشاد فرمایا: میرے پیارے بیٹے! جو میری وفات کے بعد صرف میری زیارت کے ارادے سے میرے پاس آئے گا، اس کے لیے جنت ہے۔ اور جو تمہارے والد حضرت امیرالمؤمنین علی (علیہالسلام) کی وفات کے بعد ان کی زیارت کو آئے گا، اس کے لیے جنت ہے۔ اور جو تمہارے بھائی حسن (علیہالسلام) کی وفات کے بعد ان کی زیارت کو آئے گا، اس کے لیے جنت ہے۔ اور جو تمہاری وفات کے بعد تمہاری زیارت کے لیے حاضر ہو گا، اس کے لیے بھی جنت ہو گی۔”
حضرت امام رضا (علیہالسلام) نے حضرت امیرالمؤمنین علی (علیہالسلام) کی زیارت کی برتری اور فضیلت کے سلسلے میں ایک حدیث میں ارشاد فرمایا: "امام حسین (علیہالسلام) شدید ظلم اور مصائب کے ساتھ شہید کیے گئے، اور امام حسین (علیہالسلام) کی زیارت زائر کے رنج و غم کو دور کرنے کا باعث بنتی ہے، لیکن حضرت امیرالمؤمنین علی (علیہالسلام) کی زیارت کو امام حسین (علیہالسلام) کی زیارت پر وہی برتری اور فضیلت حاصل ہے، جو خود حضرت امیرالمؤمنین علی (علیہالسلام) کو امام حسین (علیہالسلام) پر حاصل ہے۔”
امام جعفر صادق (علیہ السلام) کے فرمان میں مولائے متقیان کی زیارت کا ثواب
ایک اور حدیث میں، حضرت امام جعفر صادق (علیہالسلام) نے ابنِ مارد کے جواب میں ارشاد فرمایا: "جو شخص میرے جد امجد امیرالمؤمنین علی (علیہالسلام) کی ان کے حق کی معرفت (پہچان) کے ساتھ زیارت کرے گا، اللہ تعالیٰ اس کے ہر قدم کے بدلے ایک مقبول حج اور ایک بہترین عمرے کا ثواب لکھے گا۔ خدا کی قسم! وہ پاؤں کبھی دوزخ کی آگ تک نہیں پہنچ سکتا جو امیرالمؤمنین علی (علیہالسلام) کی زیارت کی راہ میں غبار آلود ہوا ہو، خواہ وہ پیدل چل کر گیا ہو یا سوار ہو کر۔ اے ابنِ مارد! اس حدیث کو سونے کے پانی (آبِ طلا) سے لکھا جانا چاہیے۔”
ایک اور روایت میں امام جعفر صادق (علیہالسلام) نے عبداللہ بن طلحہ سے دریافت فرمایا: "کیا تم امام حسین (علیہالسلام) کی قبرِ اطہر کی زیارت کرتے ہو؟ انہوں نے عرض کی: جی ہاں۔ امام (علیہ السلام) نے پوچھا: کیا ہر ہفتے؟ انہوں نے عرض کی: نہیں۔ آپ نے پھر پوچھا: کیا ہر مہینے؟ انہوں نے عرض کی: نہیں۔ امام (علیہ السلام) نے فرمایا: تم لوگ کتنی دوری اختیار کرتے ہو! امام حسین (علیہالسلام) کی زیارت کا ثواب ایک حج اور ایک عمرہ ہے، جبکہ حضرت امیرالمؤمنین علی (علیہالسلام) کی زیارت کا پاداش (ثواب) دو حج اور دوعمرے ہے۔”
شیخ طوسی نے اپنی کتاب "امالی” میں اپنی سند کے ساتھ "محمد بن مسلم” سے اور انہوں نے امام جعفر صادق (علیہالسلام) سے روایت کی ہے کہ آپ نے ارشاد فرمایا: "اللہ تعالیٰ نے فرشتوں سے زیادہ اپنی کوئی مخلوق پیدا نہیں فرمائی۔ ہر روز ستر ہزار فرشتے (زمین پر) اترتے ہیں۔ وہ سب سے پہلے بیت المعمور جاتے ہیں اور اس کے گرد طواف کرتے ہیں۔ پھر وہاں سے نیچے آ کر کعبہ کا طواف کرتے ہیں۔ اس کے بعد وہ رسولِ خدا (صلیاللہعلیہوآلہوسلم) کی قبرِ انور پر حاضر ہو کر آپ کو سلام پیش کرتے ہیں۔ پھر حضرت امیرالمؤمنین علی (علیہالسلام) کی قبرِ اطہر پر آ کر سلام کرتے ہیں۔ اس کے بعد امام حسین (علیہالسلام) کی قبرِ مبارک پر جا کر سلام پیش کرتے ہیں، اور پھر آسمان کی طرف لوٹ جاتے ہیں۔ ان کی جگہ نئے فرشتے اسی طرح مسلسل روزِ قیامت تک زمین پر اترتے رہیں گے۔”
حوالہ
کتاب "تاریخ المرقد العلوی المطهر”