سب سے زیادہ تلاش کیا گیا:

حضرت امیرالمؤمنین علی علیہ‌السلام کی زیارت کے آداب

نجفِ اشرف میں مولائے متقیان علیہ‌السلام کی زیارت، شیعیانِ علی علیہ‌السلام کے لیے عظیم ترین معنوی توفیقات اور سعادتوں میں سے ایک ہے۔ حرمِ مقدس امیر‌المؤمنین علی علیہ‌السلام میں حاضری کے آداب، زیارت کی اہمیت اور وہاں دعائیں مانگنے کے سلسلے میں کثرت کے ساتھ (معتبر) روایات موجود ہیں۔

"ابنِ مشہدی” نے حضرت امام جعفر صادق علیہ‌السلام سے روایت کی ہے کہ جب آپ اپنے صحابی "صفوان جمال” کے ہمراہ نجفِ اشرف میں امیر‌المؤمنین علی علیہ‌السلام کے مرقدِ مطہر پر پہنچے، تو آپ نے انہیں آدابِ زیارت کی تعلیم دیتے ہوئے فرمایا:
"اپنے قدم چھوٹے اٹھاؤ اور اپنے سر کو زمین کی طرف جھکا کر رکھو؛ کیونکہ تمہارے اٹھنے والے ہر قدم کے بدلے تمہارے لیے ایک لاکھ نیکیاں لکھ دی جاتی ہیں، ایک ہزار گناہ مٹا دیے جاتے ہیں، ایک لاکھ درجات بلند کر دیے جاتے ہیں، ایک لاکھ حاجات پوری کر دی جاتی ہیں، اور دنیا سے رخصت ہو جانے والے تمام صدیقین اور شہداء کا ثواب تمہارے نامۂ اعمال میں لکھ دیا جاتا ہے۔”

بعد ازاں امام صادق علیہ‌السلام نے مزارِ اقدس کے پاس کھڑے ہو کر یوں سلام پیش کیا:
"سلام ہو آپ پر اے نیکوکار اور پرہیزگار وصی! سلام ہو آپ پر اے اللہ کی سب سے بڑی خبر (نباء عظیم)۔”

آنگاہ (پھر) آپ علیہ‌السلامنے امیر‌المؤمنین علی علیہ‌السلام کے سرِ مبارک کی سمت چند رکعت نماز ادا فرمائی اور ارشاد فرمایا:
"اے صفوان! جو شخص بھی امیر‌المؤمنین علی علیہ‌السلام کی اس زیارت اور اس نماز کے ساتھ زیارت کرے گا، وہ اپنے اہل و عیال کی طرف اس حال میں لوٹے گا کہ اس کے گناہ بخش دیے گئے ہوں گے، اس کے اعمال مقبول ہو چکے ہوں گے، اور ان تمام فرشتوں کا ثواب اس کے لیے لکھ دیا جائے گا جو حضرت کی زیارت کے لیے حاضر ہوتے ہیں۔”

صفوان نے زیارت کرنے والے فرشتوں کی تعداد دریافت کی، تو امام علیہ‌السلام نے جواب میں ارشاد فرمایا:
"ہر رات فرشتوں کے ستر قبیلے آپ کی زیارت کے لیے حاضر ہوتے ہیں، اور ہر قبیلے میں ایک لاکھ فرشتے ہوتے ہیں۔”
اس کے بعد امام جعفر صادق علیہ‌السلام مزارِ اقدس سے اس طرح دور ہوئے کہ آپ کا رخِ انور مسلسل مرقدِ مبارک ہی کی طرف رہا۔

زیارتِ "امین اللہ”؛ امیر‌المؤمنین علی علیہ‌السلام سے والہانہ عقیدت کا روشن مظہر

مشہور روایات کے مطابق، حضرت امیر‌المؤمنین علی علیہ‌السلام کی سب سے معروف زیارتِ مطلقہ (وہ زیارت جو کسی بھی وقت پڑھی جا سکتی ہے)، زیارتِ شریفہ "امین اللہ” ہے۔
ایک اور روایت میں آیا ہے کہ "ابنِ مشہدی” اپنی سند کے ساتھ "سیف بن عمیرہ” سے نقل کرتے ہیں کہ امام جعفر صادق علیہ‌السلام کے (عراق کے) سفر کے بعد، میں "صفوان بن مہران جمال” اور اپنے ساتھیوں کی ایک جماعت کے ہمراہ نجفِ اشرف گیا۔ ہم نے سب سے پہلے امیر‌المؤمنین علی علیہ‌السلام کی زیارت کا شرف حاصل کیا۔ جب زیارت مکمل ہو گئی، تو صفوان نے امام صادق علیہ‌السلام کے مزارِ اقدس کی طرف رخ کیا (یعنی اس سمت اشارہ کیا جہاں بعد میں امام کا مقامِ زیارت بنا) اور کہا:
"یہاں سے، امیر‌المؤمنین علی علیہ‌السلام کے سرِ مبارک کے پاس سے، ہم امام حسین بن علی علیہ‌السلام کی بھی زیارت کرتے ہیں۔”
پھر صفوان نے (وضاحت کرتے ہوئے) کہا: "میں اپنے مولا امام جعفر صادق علیہ‌السلام کے ہمراہ یہاں آیا تھا، انہوں نے بھی بالکل ایسا ہی کیا تھا، یہی دعا پڑھی تھی اور نماز و وداع کے بعد مجھ سے ارشاد فرمایا تھا:
‘اے صفوان! اس زیارت پر مداومت رکھنا (ہمیشہ پڑھنا)، یہ دعا مانگنا اور مجھے اور میرے والد کو اسی زیارت کے ساتھ یاد کرنا۔ میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس بات کی ضمانت دیتا ہوں کہ جو شخص بھی اس زیارت اور دعا کو، خواہ دور سے پڑھے یا قریب سے، اس کی زیارت قبول ہو گی، اس کی کوشش مشکور (بارگاہِ الٰہی میں پسندیدہ) ہو گی، اس کا سلام (بارگاہِ معصوم میں) پہنچا دیا جائے گا اور اس کی حاجت پوری ہو گی؛ خواہ وہ حاجت کتنی ہی بڑی کیوں نہ ہو، اللہ تعالیٰ اسے پورا فرمائے گا۔'”
یہ ان زیاراتِ مطلقہ میں سے ہے جس کے بارے میں امام جعفر صادق علیہ‌السلام نے صفوان کو ہمیشہ پڑھنے کی تاکید فرمائی تھی۔ اس زیارت کا آغاز یوں ہوتا ہے:
"السَّلامُ عَلَيْكَ يا رَسُولَ اللهِ، السَّلامُ عَلَيْكَ يا صِفْوَةَ اللهِ، السَّلامُ عَلَيْكَ يا أَمِينَ اللهِ، السَّلامُ عَلى مَنِ اصْطَفاهُ اللهُ وَاخْتَصَّهُ وَاخْتارَهُ مِنْ بَرِيَّتِهِ۔”
(سلام ہو آپ پر اے اللہ کے رسول! سلام ہو آپ پر اے اللہ کے برگزیدہ بندے! سلام ہو آپ پر اے اللہ کے امانت دار! سلام ہو اس ہستی پر جسے اللہ نے چنا، اپنے لیے خاص کیا اور اپنی پوری مخلوق میں سے منتخب فرمایا۔)

زیارتِ "امین اللہ” کے سلسلے میں، "ابنِ قولویہ قمی” نے ایک معتبر سند کے ساتھ روایت کی ہے کہ امام سجاد علیہ‌السلام نے امیر‌المؤمنین علی علیہ‌السلام کے مرقدِ مطہر کی زیارت کے دوران قبرِ اطہر کے پاس کھڑے ہو کر گریہ فرمایا اور یوں ارشاد کیا:
"سلام ہو آپ پر اے امیر‌المؤمنین علیہ‌السلام ، اور اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں نازل ہوں آپ پر۔ سلام ہو آپ پر اے زمین پر اللہ کے امانت دار اور اس کے بندوں پر اس کی حجت۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ نے اللہ کی راہ میں (حقیقی) جہاد کیا، اس کی کتاب پر عمل کیا اور اس کے نبی کی سنت کی پیروی کی، یہاں تک کہ اللہ نے آپ کو اپنے پاس بلا لیا اور اپنے ارادے سے آپ کی روحِ مبارک کو قبض فرمایا۔ آپ کی شہادت کے ذریعے اللہ نے آپ کے دشمنوں پر حجت تمام کر دی، جبکہ آپ اللہ کی تمام مخلوقات پر واضح اور روشن حجتیں رکھتے تھے۔”

امام محمد باقر (علیہ السلام) نے اس زیارت کے اجر و ثواب کے بیان میں ارشاد فرمایا:
"ہمارے شیعوں میں سے جو کوئی بھی امیر‌المؤمنین علی علیہ‌السلام  کی قبرِ اطہر کے پاس یا ائمہ اطہارعلیہمالسلام میں سے کسی کے مزار پر اس زیارت کو پڑھے گا، تو اس کی دعا نور کے ایک صحیفے (نامے) میں لکھ دی جائے گی، جس پر رسولِ اکرم (صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ‌وسلم) کی مہر ثبت کی جائے گی اور اسے حضرت قائم (عجل‌اللہ‌تعالیٰ‌فرجہ‌الشریف) کے سپرد کر دیا جائے گا۔ وہ حضرت اپنے ظہور کے وقت اللہ تعالیٰ کے حکم سے یہ صحیفہ اس کے مالک کو لوٹائیں گے اور اسے بشارت، سلام اور الٰہی تکریم و عزت کے ساتھ قبول فرمائیں گے۔”

اسی طرح "دعائے علقمہ” کے نام سے معروف دعا، جسے علقمہ بن محمد حضرمی نے امام محمد باقر علیہ‌السلام سے روایت کیا ہے، روزِ عاشورا کے لیے پڑھنے کی تاکید کی گئی ہے۔ اس کا آغاز یوں ہوتا ہے:
"يَا اللهُ يَا اللهُ يَا اللهُ، يَا مُجِيبَ دَعْوَةِ الْمُضْطَرِّينَ، يَا كَاشِفَ كَرْبِ الْمَكْرُوبِينَ، يَا غِيَاثَ الْمُسْتَغِيثِينَ، يَا صَرِيخَ الْمُسْتَصْرِخِينَ۔۔۔”
(اے اللہ، اے اللہ، اے اللہ! اے بے بسوں کی دعا قبول کرنے والے، اے دکھیوں کے دکھ دور کرنے والے، اے فریادیوں کی فریاد سننے والے، اے ناتوانوں کے مددگار۔۔۔)

روزِ غدیر زیارتِ امیر‌المؤمنین علی علیہ‌السلام

مزید برآں، خاص مناسبتوں پر امیر‌المؤمنین علی علیہ‌السلام کی زیارت کے لیے مخصوص زیارتیں وارد ہوئی ہیں، جن میں سے ایک "زیارتِ روزِ غدیر” ہے۔ شیخ طوسی نے اپنی سند کے ساتھ "احمد بن محمد بن ابی نصر” سے نقل کیا ہے کہ ہم امام رضا علیہ‌السلام کی بارگاہ میں موجود تھے کہ روزِ غدیر کا تذکرہ چھڑ گیا۔ بعض لوگوں نے (اس دن کی فضیلت کا) انکار کیا۔

امام رضا علیہ‌السلام نے ارشاد فرمایا:

"میرے والدِ گرامی نے مجھ سے بیان کیا کہ روزِ غدیر زمین سے زیادہ آسمان پر مشہور ہے۔۔۔ اے ابنِ ابی نصر! تم (غدیر کے دن) جہاں کہیں بھی ہو، خود کو امیر‌المؤمنین علی علیہ‌السلام  کے مزارِ اقدس پر حاضر کرو؛ کیونکہ اللہ تعالیٰ اس دن ہر مومن مرد و عورت اور مسلمان مرد و عورت کے ۶۰ (ساٹھ) سال کے گناہ بخش دیتا ہے، اور ماہِ رمضان، شبِ قدر اور شبِ عید الفطر میں جتنے لوگوں کو جہنم کی آگ سے نجات عطا فرماتا ہے، اس دن ان سے دو گنا زیادہ لوگوں کو آزاد فرماتا ہے۔ اس دن اپنے دینی بھائیوں پر خرچ کیا جانے والا ایک درہم، ایک ہزار درہم کے برابر ارزش (وقعت) رکھتا ہے۔ پس اس دن اپنے (مومن) بھائیوں کے ساتھ نیکی کرو اور ہر مومن مرد و عورت کو شادمان (خوش) کرو۔”

حوالہ
 کتاب "تاریخ المرقد العلوی المطهر”

مزید مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے