تاریخِ اسلام میں ۲۴ ذیالحجہ کا دن ایک انتہائی اہم اور یادگار دن ہے۔ یہ وہ دن ہے جب پیغمبر اکرم صلیاللہعلیہوآلہ پر ایک عظیم الٰہی آیت نازل ہوئی۔
اس آیۂ مبارکہ کے نزول کے بعد، آنحضرت صلیاللہعلیہوآلہ نے ایک اہم مسئلے سے پردہ اٹھایا۔
آپ صلیاللہعلیہوآلہ نے امیرالمومنین علیہالسلام کی خاتم بخشی کے واقعے سے عوام کو آگاہ فرمایا۔
جب سورہ مائدہ کی آیت ۵۵ نازل ہوئی، تو یہ دراصل آيۂ ولایت تھی۔ اس کا اہم ترین پیغام امیرالمومنین علیہالسلام کی ولایت اور جانشینی کا اعلان تھا۔
جس کی حقیقت سے سرور کائنات صلیاللہعلیہوآلہ نے پروردگارِ عالم کے حکم پر پردہ اٹھایا اور دنیا کو مطلع کیا۔
سورہ مائدہ کی آیت ۵۵ (آيۂ ولایت)
إِنَّمَا وَلِيُّكُمُ اللّهُ وَ رَسُولُهُ وَ الَّذِينَ آمَنُواْ الَّذِينَ يُقِيمُونَ الصَّلاَةَ وَ يُؤْتُونَ الزَّكَاةَ وَ هُمْ رَاكِعُون
"تمہارا ولی (سرپرست اور مددگار) تو صرف اللہ ہے اور اس کا رسول اور وہ اہل اِیمان (جیسے علی بن ابی طالب) ہیں جو نماز قائم کرتے ہیں اور رکوع کی حالت میں زکوٰۃ (صدقہ) دیتے ہیں۔”
خاتم بخشی کا واقعہ، حضرت جابر بن عبداللہ انصاری کی روایت سے
پیغمبر اسلام صلیاللہعلیہوآلہ کے باوفا صحابی حضرت جابر بن عبداللہ انصاری اس واقعے کے عینی شاہد تھے۔ وہ امیرالمومنین علیہالسلام کی خاتم بخشی کا واقعہ یوں بیان کرتے ہیں:
"ایک دن ہم رسول اللہ صلیاللہعلیہوآلہ کی بارگاہ میں حاضر تھے۔ اچانک ایک بدو عرب انتہائی خستہ حال اور بوسیدہ و پھٹے پرانے لباس میں مسجد میں داخل ہوا۔
اس کے چہرے سے غربت و افلاس عیاں تھا۔ اس نے داخل ہوتے ہی سلام کیا اور چند ایسے اشعار پڑھے جو اس کی زندگی کی کٹھن تنگی کو ظاہر کر رہے تھے:
‘میری بیٹی مسلسل رو رہی ہے اور اس کی ماں اس کی یہ حالت دیکھ کر نڈھال ہے۔ ایک بہن، دو چھوٹی بیٹیاں اور ایک بوڑھی ماں؛ اس شدید غربت نے میری عقل سلب کر لی ہے۔
میری زندگی سراسر ناداری اور محرومی کا شکار ہے، یہاں تک کہ میرے پاس کھانے کو کچھ نہیں جو میرے کام و دہن کو تلخ یا شیرین کر سکے۔
میں مجبور ہو کر آپ کی پناہ میں آیا ہوں؛ بھلا انبیاء کے سوا بھی کوئی لوگوں کی پناہ گاہ ہے؟’
جب پیغمبر اکرم صلیاللہعلیہوآلہ نے اس کی فریاد سنی، تو آپ صلیاللہعلیہوآلہ شدید متاثر ہوئے اور آپ صلیاللہعلیہوآلہ کی چشمانِ مبارک سے آنسو جاری ہو گئے۔
پھر آپ (صلیاللہعلیہوآلہوسلم) نے اصحاب کی طرف رخ کیا اور فرمایا:
‘اے مسلمانوں! اللہ نے تمہیں جنت کے انعامات حاصل کرنے کا ایک بہترین موقع عطا فرمایا ہے؛
ایسے محلات جن کا مرتبہ خلیلِ خدا حضرت ابراہیم (علیہالسلام) کے گھر کے برابر ہے۔
تم میں سے کون ہے جو اس مردِ فلاح کی مدد کرے اور اس کا ہمدرد بنے؟’ اس پکار کے باوجود کسی نے کوئی جواب نہ دیا۔
اسی لمحے امیرالمومنین علی بن ابی طالب علیہالسلام مسجد کے ایک گوشے میں نماز پڑھنے میں مصروف تھے۔
آپ علیہالسلام نے رکوع کی حالت میں اس اعرابی کو اپنی طرف آنے کا اشارہ کیا۔
پھر اپنی انگشتری کی طرف اشارہ فرمایا اور اس سائل کو اجازت دی کہ وہ آپ علیہالسلام کے دستِ مبارک سے انگوٹھی اتار لے۔
وہ سائل امیرالمومنین علیہالسلام کی اس سخاوت و بخشش کو دیکھ کر رسولِ خدا صلیاللہعلیہوآلہ کی مدح سرائی کرنے لگا اور یہ اشعار پڑھتا ہوا مسجد سے رخصت ہوا:
‘آپ وہ سردار ہیں جن سے سب یہ امید رکھتے ہیں کہ خدا آپ کے ذریعے دین کو استحکام بخشے گا؛
تمام مخلوقات میں پانچ ہستیاں ایسی ہیں جن کی منزلت خلقِ خدا کے درمیان بابرکت ہے، اور وہ پانچوں آپ ہی کا معزز خاندان ہیں۔’
حضرت جابر مزید بیان کرتے ہیں کہ اس واقعے کے فوراً بعد جبرئیل امین رسول خدا صلیاللہعلیہوآلہ پر نازل ہوئے اور عرض کیا:
‘اے اللہ کے رسول! آپ پر سلام ہو، آپ کے پروردگار کا یہ پیغام ہے: پڑھئیے! إنَّما وَليُّكُمُ اللهُ و رَسولُهُ و الَّذينَ آمَنوا الَّذينَ يُقيمونَ الصَّلاةَ و يُؤتونَ الزَّكاةَ و هُم راكِعونَ۔’
اس کے بعد رسول اللہ صلیاللہعلیہوآلہ کھڑے ہوئے اور بلند آواز سے فرمایا:
‘اے مسلمانوں! آج تم میں سے کس نے ایسا نیک عمل کیا ہے جس کی بنا پر اللہ نے اسے ہر مومن کا ولی اور سرپرست قرار دیا ہے؟’
اصحاب نے عرض کیا:
‘یا رسول اللہ صلیاللہعلیہوآلہ! آپ کے ابنِ عم علی بن ابیطالب علیہالسلام کے سوا کسی نے کوئی ایسا عمل نہیں کیا۔ انہوں نے نماز کی حالت میں ایک سائل کی مدد کے لیے اپنی انگوٹھی صدقہ کی ہے۔’
پیغمبرِ اکرم صلیاللہعلیہوآلہ نے فرمایا:
‘اس خیر کا اجر میرے بھائی علی بن ابی طالب علیہالسلام کے لیے مقدر ہو چکا ہے’؛ اور پھر رسولِ خدا (صلیاللہعلیہوآلہوسلم) نے آيۂ ولایت کی تلاوت فرمائی۔”[۱]
سائل سے رسول خدا صلیاللہعلیہوآلہ کا استفسار
حضرت امام محمد باقر علیہالسلام نے انگشتری کی اس بخشش کے بارے میں روایت فرمائی ہے:
"ایک دن رسول اکرم صلیاللہعلیہوآلہ مسجد میں نماز ادا فرما رہے تھے کہ ایک فقیر آپ صلیاللہعلیہوآلہ کے پاس سے گزرا۔
رسولِ خدا صلیاللہعلیہوآلہ نے (نماز کے بعد) اس سے پوچھا:
‘کیا تمہیں کسی نے کوئی صدقہ دیا ہے؟’
فقیر نے عرض کیا:
‘جی ہاں، میں ایک شخص کے پاس گیا جو رکوع کی حالت میں تھا اور انہوں نے مجھے اپنی انگوٹھی عطا فرمائی۔’
اس فقیر نے ہاتھ سے اشارہ کر کے اس شخصیت کی طرف اشارہ کیا، تو معلوم ہوا کہ وہ ذات امیرالمومنین علی بن ابی طالب علیہالسلام کی تھی۔
اسی وقت سورہِ مائدہ کی آیت ۵۵ نازل ہوئی:
‘إنَّما وَليُّكُمُ اللهُ و رَسولُهُ و الَّذينَ آمَنوا الَّذينَ يُقيمونَ الصَّلاةَ و يُؤتونَ الزَّكاةَ و هُم راكِعونَ’؛
پس اس کے بعد رسول اللہ صلیاللہعلیہوآلہ نے اعلان فرمایا:
‘وہ میرے بعد تمہارے ولی اور سرپرست ہیں۔'”[۲]
انگشتری (خاتم) کی قیمت و قدر
حضرت امام جعفر صادق علیہالسلام نے روایت فرمائی ہے:
"وہ انگوٹھی جو امیرالمؤمنین علی علیہالسلام نے راہِ خدا میں صدقہ دی، اس کا وزن چار مثقال تھا۔
اس کا حلقہ (چھلا) چاندی کا تھا جبکہ اس کا نگینہ سچے یاقوتِ سرخ کا تھا جس کا وزن پانچ مثقال تھا اور اس کی مالیت ملکِ شام کے پورے خراج کے برابر تھی!
شام کے اس خراج میں چاندی سے لادے گئے تین سو اونٹ اور سونے سے لادے گئے چار اونٹ شامل تھے۔
یہ انگوٹھی مروان بن طوق کی تھی جسے امیرالمومنین علیہالسلام نے جنگ میں واصل جہنم کیا تھا اور یہ انگوٹھی اس کے ہاتھ سے اتاری تھی۔
بعد ازاں آپ علیہالسلام نے اس انگوٹھی سمیت تمام مالِ غنیمت رسول اکرم صلیاللہعلیہوآلہ کی بارگاہ میں پیش کر دیا۔
رسول اللہ صلیاللہعلیہوآلہ نے آپ علیہالسلام کو حکم دیا کہ یہ انگوٹھی وہ اپنے پاس ہی رکھیں۔
چنانچہ، جب امیرالمومنین علیہالسلام نے وہ انگوٹھی اپنے دست مبارک میں پہنی ہوئی تھی،
تو نماز کے دوران ایک سائل نے آپ علیہالسلام سے رجوع کیا اور آپ علیہالسلام نے حالت رکوع میں ہی وہ قیمتی انگوٹھی اسے صدقہ فرما دی۔”[۳]
آيۂ ولایت سے امیرالمومنین علیہالسلام کا استدلال
امیرالمومنین علیہالسلام نے شوریٰ کے اس چھ رکنی اجلاس میں، جو خلافت کے تعین کے لیے تشکیل دیا گیا تھا، وہاں موجود افراد کو مخاطب کر کے فرمایا:
"میں تمہیں خدا کی قسم دے کر پوچھتا ہوں، کیا میرے سوا تمہارے درمیان کوئی ایسا فرد موجود ہے جس کی شان میں یہ آیت نازل ہوئی ہو:
‘إنَّما وَليُّكُمُ اللهُ و رَسولُهُ و الَّذينَ آمَنوا الَّذينَ يُقيمونَ الصَّلاةَ و يُؤتونَ الزَّكاةَ و هُم راكِعونَ’؟
وہاں موجود تمام افراد نے یکزباں ہو کر جواب دیا: ‘نہیں، (آپ کے سوا کوئی نہیں)۔'”[۴]
مآخذ
[۱] بحار الانوار، جلد ۳۵، صفحۀ ۱۹۳
[۲] بحار الانوار، جلد ۳۵، صفحه ۱۹۸ / مستدرک الوسائل، جلد ۱۷، صفحۀ ۲۵۸
[۳] تفسیر البرهان / تفسیر اهلبیت (علیهمالسلام)، جلد ۴، صفحۀ ۱۱۰
[۴] بحار الانوار، جلد ۳۱، صفحۀ ۳۳۶ / الاحتجاج، جلد ۱، صفحۀ ۱۳۹